مادرسری، پدرسری و طبقاتی نظام اور فطرت، جبریت، شخصیت تحریر: علی رضا منگول سائنس اور فن (آرٹ) کا جنم بیک وقت ہوا ہے، اس لیے کہ سائنس جاننا اور سمجھنا ہے جبکہ فن عمل کرنا ہے۔ چونکہ ہم سمجھنے کے دوران بھی عمل کررہے ہوتے ہیں، اس لیے دونوں کی پیدائش میں پہلے اور بعد کا سوال ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک طالب علم سیکھ رہا ہوتا ہے تو وہ عمل کے ذریعے ہی سیکھتا ہے۔ خواہ وہ فن کا طالب علم ہو، وہ دراصل علم ہی حاصل…
Category: سماجیات
اختلاف کی تہذیب ۔۔۔ ابنِ میر
اختلاف کی تہذیب تحریر: ابنِ میر عربی زبان میں یقین کا مفہوم محض کسی بات کو مان لینا نہیں، بلکہ اس مقام تک پہنچ جانا ہے جہاں شک کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مگر انسانی زندگی میں یقین صرف ذہن کی کیفیت نہیں، کردار کی بھی آزمائش ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی چیز پر یقین رکھتا ہے؛ کوئی اپنے مذہب پر، کوئی اپنے نظریے پر، کوئی اپنی قوم پر، اور کوئی اپنے تجربے پر۔ مگر تاریخ ایک اہم حقیقت بتاتی ہے: انسان کی عظمت صرف اس کے یقین سے…
سوال؟ ۔۔۔ عارف چنگیزی
سوال؟ تحریر: عارف چنگیزی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہم “سوال” نہیں کرتے۔ سوال کرنا تو گویا گناہِ کبیرہ ہے۔ چاہے سامنے خودساختہ عالمِ دین بیٹھا ہو یا سیاستدان، استاد ہو یا والدین، بیٹا ہو یا بیٹی، کاروباری شخص ہو یا سرکاری ملازم , سب کو ہم نے “معصوم فرشتہ” سمجھ رکھا ہے۔ سوال کرنا تو دور کی بات، سوال سوچنے کی بھی جرات نہیں کرتے۔اگر کوئی شخص کوئی بیان دے، تو ہم اس پر سوال نہیں کرتے۔ کیوں؟ کیونکہ سوال کرنے کا رواج ہی…
انجمن فلاح و بہبود ہزارہ 1963-1970ء ۔۔۔ اسحاق محمدی
1904ء تک کوئٹہ میں ہزارہ اجتماعی بودوباش کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں لیکن 1904ء میں ہزارہ پائینر کی تشکیل کے بعد ان کی اجتماعی زندگی پر عسکری خدوخال زیادہ نمایاں ہوتے گئے یعنی فوج میں جس کا رتبہ جتنا بڑا، اجتماعی طور پراس کی اہمیت بھی اتنی۔ لہٰذا اب ہزارہ پائینر کے سربراہ، ہزارہ قوم کی سربراہی کرنے لگے۔ اسی مناسبت سے کیپٹن دوست محمد خان کاکئی، کیپٹن علی دوست خان، صوبیدارخدا داد خان اور آخر میں صوبیدار رحمت اللہ خان بلامنازعہ “کلان قوم” (سربراہ) رہے۔ 1933 میں…
بچوں کی تربیت، دنیا کا سب سے مشکل کام ۔۔۔ علی رضا منگول
میری باتیں شاید بہت لوگوں کے لیے نئی اور عجیب و غریب ہوں مگر کثیرالجہتی(Multidimensional) اسٹڈی کرنے والے آسانی سے سمجھ سکیں گے بلکہ ان کو پتہ ہوگا کہ میرا کہنے کا مقصد کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی تین ادوار یعنی شعور، تحت شعور اور لاشعور میں گذارتے ہیں۔ اس پوری زندگی میں عام انسان اپنی زندگی کا 99 فیصد حصہ اور انتہائی قلیل لوگ ہیں جو عمر کا کچھ کمتر حصہ یعنی 95 فیصد حصہ لاشعور کے تحت گذارتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ…
ہزارہ فٹبال کلب کوئٹہ (پاکستان) ۔۔۔ اسحاق محمدی
ہزارہ قوم کی سماجی ساخت، ریجن کی دیگر اقوام کی طرح روایتی ہے جو خانوادہ (خاندان) سے شروع ہوتی ہے اور پھر خانوار، پای یا ٹبر، طائفہ، دای اور آخر میں قوم (ہزارہ) پر ختم ہوجاتی ہے۔ یہی تقسیم بندی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد ہزارہ قوم میں آج تک باقی ہے۔ کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ایک غیر روایتی آرگنائزیشن یعنی “ہزارہ فٹبال کلب” کی بنیاد 1937ء میں رکھی۔ بانی اراکین میں مرحوم بابو قاسم علی اور…
ایک نیک شگون ۔۔۔ اسحاق محمدی
شیعہ اسماعیلی فرقہ کے 49 ویں امام، شہزادہ کریم آغا خان 4 فروری 2025ء کو پرتگال کے شہر لزبن میں انتقال کرگئے، ان کی عمر 88 برس تھی اور وہ 68 سال تک امامت کے فرائض بہترین طریقے سے انجام دیتے رہے۔ اپنی دانشمندی، بردباری، بین المذاہب ہماہنگی اور بلاتفریق بے مثال انسانی خدمات کے حوالے سے وہ ایک بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے۔ چنانچہ پوری دنیا میں ان کو ایک سربراہ مملکت کا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ اسی نسبت سے دنیا بھر کی اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی…
عالم مصباح (1967- 1994). دوسری قسط۔۔۔ تحریر۔ اسحاق محمدی
انیس سو بیاسی 1982ء کے دوران شادروان پروفیسر ناظرحسین نے تنظیم نسل نو ہزارہ مغل میں ڈاکٹر علی شریعتی کے افکار و نظریات پر کلاسز کا آغاز کیا۔ ہفتہ میں ایک بار وہ شریعتی کی کتاب “اسلام شناسی” کے مختلف فارسی ابواب پڑھ کر آسان ہزارگی میں اس کی تشریح کرتے تھے اور کلاس کے آخر میں شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے جاتے تھے۔ راقم اور مصباح ان کلاسز کے ریگولر شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ ہمارے علاوہ زمان دہقانزادہ، عزیز تبسم اور رضا واثق بھی کبھی کبھار…
عالم مصباح سے جڑے ایک واقعہ کا ذکر ۔۔۔ اسحاق محمدی
شادروان عالم مصباح کے فلاسفی ڈیپارٹمینٹ میں استاد کے طور پر تعیناتی کے بعد وہ خواہ ہزارہ ٹاؤن میں مقیم تھے یا پھر یونیورسیٹی ہاسٹل میں، انکی شامیں علمدار روڑ میں ہم دوستوں کے ساتھ ہی گذرتی تھیں۔ زیادہ بیٹھکیں مرحوم استا جمعہ کی دکان میں لگتی تھیں، جہاں استا جمعہ، عالم مصباح، میں، زمان دہقانزادہ، زمان ٹھیکیدار تقریباً روز اکھٹے ہوتے جبکہ حاجی ابراہیم (چیف انجنئیر گیس کمپنی)، مرحوم حسین بخش حسینو وغیرہ کبھی کبھار آتے تھے۔ ویسے تو مصباح پوشاک اور حلیہ کے حوالے سے کافی لاپروا تھا…
رویے ( بیہیویرزم) پر ماحول کا اثر ۔۔۔ جاوید نادری
“مجھے میری مرضی کی دنیا میں ایک درجن صحت مند شیرخواروں کی پرورش کرنے دیں، میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں ان میں سے کسی ایک کو چن کر کسی بھی قسم کا ماہر بننے کی تربیت دوں گا جو میرا انتخاب ہو، ڈاکٹر، وکیل، فنکار، تاجر، اور ہاں بھکاری یا چور بھی، ان کی صلاحیت، خیالات، رجحانات، قابلیتوں، پیشوں اور آباؤ اجداد کی نسل سے قطع نظر”یہ دعویٰ مشہور ماہر نفسیات جان۔بی۔واٹسن کے ہیں جنہیں بابائے بیہیویئرزم ( behaviorism ) بھی کہا جاتا ہے۔نفسیات کے اس…