انجینئر احمدعلی نجفی المعروف احمدنوربن، اپنے لقب سے بھی زیادہ نوربن انسان تھے۔ حلیم الطبع، دل کے کھلے، روشن خیال اور قوم دوست جن کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ بکھری رہتی تھی۔ جرمنی سے انجنیئرنگ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی اور امریکی ویزہ رکھنے کے باوجود اس لیے کوئٹہ واپس آئے تھے کہ اپنے شہر کے لوگوں اور خاص طورپر اپنی قوم کی خدمت کرسکے۔ وقت گواہ ہے کہ وہ دونوں مقاصد میں کامیاب رہے۔
احمد نجفی سے میری واقفیت تنظیم نسل نو ہزارہ مغل میں ہوئی جہاں وہ کبھی کبھار آتے رہتے تھے۔ بعداً جب میں 1988ء میں ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا جنرل سیکریٹری منتخب ہوا تو ہماری واقفیت دوستی میں بدل گئی جو آخر تک قائم رہی۔ وہ فکری اورعملی لحاظ سے حقیقی قوم دوست تھے۔ ھزارگی کاز کیلئے ان کی جیب اوران کا دل دونوں کھلے تھے اور اس راہ میں وہ کبھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ ہزارہ سیاسی، سماجی، تنظیموں، تعلیمی مراکز سے لے کر این جی اوز اور سپورٹس کلبوں تک سب کی دل کھول کر امداد کرتے رہتے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ ہم ان کی طرف مدد کیلئےگئے ہوں اور انھوں نے انکار تو دور کی بات، اگلے دن آنے کو کہا ہو۔
یہاں انجینئرنوربن کی سخاوت کے حوالے سے یہ چند واقعات قارئین کی نذر ہیں۔
الف- انیس سو اسی کی دھائی کے دوران جب تنظیم نسل نو ھزارہ مغل پر کسی ڈکٹیٹر کا سایہ پوری طرح حاوی نہیں ہوا تھا تو ہزارہ قوم بطور خاص تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس سے وابستہ تھی جو سماجی امور، اسپورٹس، صحت، بلڈ ڈونیشن سمیت روزمرہ امور جیسےعام لوگوں کے لوکل، شناختی کارڈز کے فارمز وغیرہ بھرنے میں ہمہ وقت دستیاب تھی۔ اسی دوران تنظیم احاطہ کی مغربی سمت (مین گیٹ کے بائیں طرف) اسکواش کورٹ بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا جس کیلئے احمدعلی نوربن سمیت کئی ھزارہ آفیسرز نے مدد کی حامی بھری۔ کام کے آغاز سے پہلے تنظیم کے نوجوان کارکنوں نے یہ طے کیا کہ مستری کے علاوہ باقی سب کام وہ خود سنبھال لیں گے جس کیلئے روزانہ کی بنیاد پر دس پندرہ افراد کی فہرست بنائی جاتی تھی۔
جب کام کا آغاز ہوا تو یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ تنظیم کی طرف سے چونکہ صرف چائے دی جاتی تھی جس کیلئے بیچارہ عبداللہ (ملازم) ہمہ وقت تیار تھا جبکہ رضاکاروں کو دوپہر کے کھانے کیلئے گھر جانا پڑتا تھا اور واپسی میں کافی وقت لگ جاتا کیونکہ اکثریت کے پاس اس وقت سائیکل بھی نہیں تھی اور انکی اتنی استطاعت بھی نہیں تھی کہ ہوٹل میں کھانا کھا سکے حالانکہ اس وقت ھزارہ جات ہوٹل میں سنگل قابلی آٹھ روپے میں مل جاتا تھا۔ اسکا یہ حل نکالا گیا کہ شام کے وقت تنظیم میں موجود کارکنوں سے چندہ جمع کرکے حاجی نبی کے حوالے کیاجاتا جو اگلے روز کیلئے کبھی قیمہ (بڑا گوشت)، کبھی دال سبزی لے آتے اور وہی تنظیم کے احاطے میں چند دوست مل کر پکا لیتے اورمستریوں سمیت سب نوش جان کرتے۔ یوں ہر روز تنظیم کے اندر ایک پکنک کا سماں لگا رہتا تھا۔
ایک اسی طرح کی پکنک کام کے دوران انجینئراحمدعلی نوربن آئے۔ اس وقت مجھ سمیت دس پندرہ کارکن کسی نہ کسی کام میں جتے ہوئے تھے۔ کچھ اینٹوں کی ترائی میں، کچھ انہیں لیجانے میں، کچھ ریت دھونے میں کچھ سیمنٹ بنانے میں، کچھ ان چیزوں کو مستریوں تک پہنچانے میں جبکہ کچھ کھانا پکانے میں مصروف تھے۔
شادروان انجینئرنوربن کارکنوں کے اس لگن، جذبے اور اخلاص سے بےحد متاثر ہوئے۔ انھوں نے کافی تعریف کے بعد پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجئے۔ اتفاق سے اس وقت مارکیٹ میں سیمنٹ کی قلت تھی۔ دوستوں نے کہا کہ فی الحال سیمنٹ کی اشد ضرورت ھے۔ اس پر نجفی صاحب نے فوراً اپنے بھتیجے کو بلایا جو ان کا ڈرائیور بھی تھا۔ اسے گودام کی چابی دیکر دوستوں سے کہا کہ یزدان خان روڑ کے گودام سے سو بوری سیمنٹ اٹھا لینا۔ ساتھ ہی مزاقاً کہا کہ یہ کام جلدی میں نمٹالینا ورنہ حاجی حیدر (انکے بڑے بھائی) کو خبر ہوگئی تو سیمنٹ کی ایک بوری بھی نہیں ملےگی۔ دوستوں کی تو جیسے ڈبل عید ہوگئی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ انہوں نے کمترین ممکنہ وقت میں یہ کام سرانجام دیا۔
اس وقت تنظیم کے کارکنوں کے جذبے اتنے بلند تھے مگر صد افسوس کہ مخلص کارکنوں کے ان پُرجوش جذبوں کو ایک ڈکٹیٹر نے بڑی بیدردی اور بے رحمی سے کچل دیا۔
ممتاز ھزارہ دانشور سیاسی رہنما جناب اکرم گیزابی اس دور کو یاد کرکے اب بھی اکثر آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ سیمنٹ کی اس وقت کیا قیمت تھی۔ فرض کریں اگر 200 روپے فی بوری بھی تھی تو انجینئرنوربن نے اس روز 20000 روپے کھڑے کھڑے ایک قومی ادارہ کو ڈونیٹ کردی جو اس وقت ایک بڑی رقم تھی۔
ب- رضا وکیل کی رہائی کے سلسلے میں ہم شہید حسین علی یوسفی کی معیت میں انجینئرنوربن کے گھر گئے۔ حسب معمول خندہ پیشانی سے گھر کے اندر لے گئے، خوب خاطرتواضع کی اور جب ہم نے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا تو فوراً دوسرے کمرے سے 10000 روپے لاکر دیدی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس وقت یہی رقم موجود ھے ضرورت پڑے تو مزید دوں گا۔
ج- علی مدد شریفی کے مطابق نسل نو تعلیمی مرکز نے نوے کی دہائی کے دوران “ھنرمرکز” کے نام سے ایک ٹیکنیکل ٹرینینگ سنٹر بنانے کا منصوبہ بنایا جسکی فنڈنگ ایشیا فاونڈیشن کررہا تھا جس میں الیکٹرونکس، خراطی اور قالین بافی کی تربیت فراہم کی جانی تھی۔ اس سلسلے میں جب انجینئرنوربن کے پاس گئے تو وہ اپنی بیگم رخسانہ احمد سمیت نہ صرف اس پروجیکٹ میں رضاکارانہ طورپر کام کرنے پر آمادہ ہوگئے، بلکہ پورا فرنیچر بھی دیدیا اور پھرخود اپنے خرچے پر لاہور، سیالکوٹ فیصل آباد گئے تمام ضروری مشینیں اور پرزہ جات لا کر لگوادی اور اپنی نگرانی میں باقاعدہ تربیت کا آغاز بھی کرادیا۔ مدد شریفی کے بقول سینٹر میں تربیت کا معیار اتنا بہتر تھا کہ پہلے شش ماھہ سیشن کے فارغ طلبا یہ مطالبہ کرنے لگے فلاں فلاں چیزیں ہمیں فراہم کردیں ہم فلاں فلاں مشین جیسے ریڈیو، پمپس وغیرہ بناکر دیں گے۔ اس سنٹر سے وابستہ کچھ مخلص دوست جیسے مدد شریفی، رحیم چنگیزی، اسحاق چنگیزی وغیرہ یا تو بیرون ملک چلے گئے یا پھر روزگار کی وجہ سے اس پروجیکٹ سے علیحدہ ہوگئے۔ سینٹر کا انتظام بابو اسداللہ کی سربراہی میں نئی ٹیم کے پاس چلا گیا، مگر انہوں نے اتنے اہم ٹینکیکل سینٹر کو جو اس وقت تک اپنے پاوں پر کھڑا ہوگیا تھا کو چلانے کی بجائے کوڑیوں کے دام بیچ دیا۔
اس قومی نقصان کا رنج انجینئرنوربن سمیت تمام دوستوں کو ہوا۔
قارئین کرام شادروان انجینئراحمد علی نوربن کی سخاوت اور قوم دوستی کے یہ صرف چند واقعات ہیں ورنہ ان کی دریا دلی اور ان کی شخصیت کے دیگر پہلووں جیسے انسان دوستی، علم دوستی اور منکسرالمزاجی سے جڑے ایسے واقعات بہت سارے ہیں جن کا احاطہ کرنے کیلئے کئی دفاتر چاہیے۔
یہ درویش منش انسان، دوستوں کے دوست اور ھزارہ قوم کی سچے فرزند 7ستمبر 2009 کو سرکی روڈ پر اپنے “نوربن ووڈ فیکٹری” کے عین سامنے نامعلوم دہشتگردوں کے ہاتھوں بربریت کا نشانہ بنے۔ “روح اش شاد
انجینئر احمدعلی نوربن (2009-1947) ۔۔۔ اسحاق محمدی
Latest posts by اسحاق محمدی (see all)