ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (سولہویں قسط) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(سولہویں قسط) ہزارہ قوم کا مبداء و منشا تحریر: جاوید نادری جیساکہ پچھلی قسط کے آخر میں ذکر ہو چکا ہے کہ ہزارہ قوم اس خطے کی کوئی “نو وارد” یا بچھڑی ہوئی قوم نہیں ہے، بلکہ ان کا وجود، ان کی زبان، اور ان کا روایتی حافظہ اسی خطے کی مٹی سے گزشتہ کئی ہزار سال سے مسلسل جڑا چلا آ رہا ہے۔ کسی قوم کی تاریخی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ اپنے ماضی کو دیانت داری سے سمجھے، اس کی…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (پندرہویں قسط) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (پندرہویں قسط) ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا  تحریر: جاوید نادری ہزارگی زبان کی دوبیتی اس قوم کی شاعری کا اہم ترین روایتی روپ ہے۔ دوبیتی ہزارہ قوم کے جذباتی، ثقافتی اور تاریخی تجربات کا سب سے معتبر شفاہی ذریعہ ہے۔ یہ چار مصراعوں پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں محبوب سے محبت، کوہساری زندگی کی سختیاں، ہجر و فراق، اور بامیان و کوہِ بابا کے منظر نامے کو بڑی خوبصورتی سے پرویا جاتا ہے۔اس لوک ادب کا لسانی و فنکارانہ تجزیہ اس…

مانوس اجنبی (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری

مانوس اجنبی (افسانہ) تحریر: جاوید نادری آغا رضا اپنی اسکوٹر کو کک لگانے میں مصروف تھا۔ اس نے کئی مرتبہ کک لگائی، مگر اسکوٹر اسٹارٹ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ جھنجھلا کر ایک بار پھر کک لگانے والا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔ “السلام علیکم!” آغا رضا نے گردن گھما کر دیکھا۔ ایک مانوس سا اجنبی اس کے پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ “وعلیکم السلام!” رضا نے جواب تو دے دیا، مگر اس کی نظریں اب بھی اس شخص کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔…

عشق پیچاں (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری

عشق پیچاں   تحریر: جاوید نادری دونوں نے جیسے ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھا، یوں محسوس ہوا جیسے صدیاں گزرنے کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں۔ دونوں اچانک ایک دوسرے کی بانہوں میں سما گئے۔ ایک دوسرے کے ہونٹوں کو بوسہ دیا، پھر آہستہ آہستہ گالوں اور گردن پر بوسہ دیتے رہے۔ چند لمحوں تک وہ اسی طرح ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ دونوں کی عمریں اب چالیس کی حد پار کر چکی تھیں، مگر اس لمحے انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دوبارہ اپنی جوانی…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) (چودھویں قسط) تحریر: جاوید نادری جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہزارہ قوم کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، اسے مظلومیت اور لاچاری کے ایک محدود زاویے سے پیش کیا گیا۔ تاہم تاریخی حقائق کی گہری چھان بین ثابت کرتی ہے کہ یہ قوم کسی بیرونی لشکر کی محض اتفاقی باقیات نہیں، بلکہ اس خطے کی مٹی سے جڑی ایک قدیم، بہادر اور باشعور تہذیب ہے۔ اس تاریخ کا سفر منگول حملوں سے صدیوں پہلے…

ایک دوست کی ناگہانی موت ۔۔۔ جاوید نادری

ایک دوست کی ناگہانی موت  تحریر:جاوید نادری پتہ نہیں کیوں، مگر آج قاسم غیر معمولی جلدی میں تھا۔ میں نے کئی بار پوچھا، “خیریت ہے؟ کہاں جانا ہے؟” وہ ہر بار بات ٹال دیتا۔ آخر صرف اتنا بولا، “بس کام سمیٹو اور چلو۔ راستے میں تمہیں گھر کے قریب اتار دوں گا۔” جب میں نے دیکھا کہ وہ کچھ بتانے پر آمادہ نہیں تو خاموشی سے اپنا کام سمیٹا اور اس کی گاڑی میں جا بیٹھا۔ پورے راستے وہ خاموش رہا۔ نظریں سڑک پر جمائے ڈرائیو کرتا رہا۔ کبھی کوئی…

زندگی کا قیدی ۔۔۔ جاوید نادری

زندگی کا قیدی  تحریر: جاوید نادری ہوٹل کے تھڑے پر کھڑا ایک اجنبی مگر مانوس سے شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو بھائی، یہ کبھی میرا کلاس فیلو ہوا کرتا تھا۔ آج اس کی حالت دیکھو، نشے نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ اب دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔” میں نے نرمی سے جواب دیا، “میں آپ کو جانتا تو نہیں، لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ تمام انسان ایک ہی سیدھی لکیر پر سفر نہیں…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (عظیم عالمی جنگیں اور ہزارہ جوان) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (عظیم عالمی جنگیں اور ہزارہ جوان)   تیرہویں قسط تحریر: جاوید نادری بڑی سلطنتیں جب اپنے اقتدار کی جنگیں لڑتی ہیں تو وہ تاریخ کی کتابوں میں صرف اپنے جرنیلوں کے نام رقم کرتی ہیں، اور ان گمنام قوموں کا نام خاموش تاریکیوں کی نذر کر دیتے ہیں جن کی شجاعت نے ان کے سر کے تاج بچائے ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے دو بڑے عالمگیر معرکوں میں انگریزی اور روسی امپائرز نے ہزارہ قوم کی بکھری ہوئی جلاوطن نسل کو تاریخ کے نہایت…

کاش آج نہ آتے (افسانہ)۔۔۔ جاوید نادری

کاش آج نہ آتے (افسانہ) تحریر: جاوید نادری انسان اپنے ذہنی تذبذب سے کیوں نکل نہیں سکتا یہ وہ سوال تھا جو غلام محمد کو ہمیشہ پریشان کیے رکھتا تھا غلام محمد جو ایک متوسط طبقے کا معمولی سا محنت کش آدمی تھا اس کے پاس اپنی دیانت، اپنی محنت اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے سوا زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دل سے چاہتا تھا کہ اس کے گھر آنے والا کوئی بھی مہمان خالی ہاتھ یا خالی پیٹ واپس نہ جائے۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ رزق بانٹنے…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(دی گریٹ گیم اور نہ مٹنے کی ضد) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(دی گریٹ گیم اور نہ مٹنے کی ضد)  بارہویں قسط تحریر: جاوید نادری کسی بھی جلاوطن یا جبر کا شکار ہونے والی قوم کی تاریخ کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اپنے مآخذ یا تو وقت کی بے رحم موجوں کی نذر ہو جاتے ہیں یا پھر قابضین کے ہاتھوں تلف دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں اس قوم کے تمدنی وجود اور عسکری بقا کی کڑیوں کو جوڑنے کے لیے تاریخ دانوں کو ان بڑی طاقتوں کے سرکاری، فوجی اور خفیہ آرکائیوز…