گڈیاں بنا “کنی” کے (افسانہ ) ۔۔۔ جاوید نادری

گڈیاں بنا “کنی” کے (افسانہ) تحریر: جاوید نادری “کیا بات ہے طاہر بھائی!” دوست محمد نے اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا، “میں نے ایک بات نوٹ کی ہے۔ جب بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے، آپ کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی گڈی ضرور ہوتی ہے۔ لگتا ہے گڈیاں اڑانے کا بڑا شوق ہے آپ کو۔” طاہر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گڈی کی طرف دیکھا، پھر ہلکا سا مسکرایا۔ “نہیں یار، ایسی کوئی بات نہیں۔ بس اتفاق ہے۔ جب بھی تم ملتے ہو، میرے ہاتھ…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “دی گریٹ گیم” ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(گیارویں قسط) “دی گریٹ گیم” تحریر: جاوید نادری انیسویں صدی کے اواخر (1890ء کی دہائی) میں جب امیر عبدالرحمن خان کے جابرانہ نظام اور ہزارہ جات کی طویل جنگ کے نتیجے میں ہزارہ قوم کے لاکھوں افراد اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے، تو یہ محض پناہ گزینوں کی ایک نقل مکانی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے جنگجو، جفاکش اور انتہائی منظم تمدن کا پھیلاؤ تھا جس کی عسکری صلاحیتوں کو اس دور کی دو سب سے بڑی عالمی طاقتوں، برطانیہ اور روس،…

“ہزارہ جات کا تاریخی سمجھوتہ اور مکافات عمل”۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار“ہزارہ جات کا تاریخی سمجھوتہ اور مکافات عمل”  (دسویں قسط)      تحریر: جاوید نادری ہزارہ جات کے مختلف خطوں میں ہزارہ قوم کی بے مثال قربانیوں اور طویل گوریلا جنگ نے امیر کو یہ باور کرا دیا تھا کہ وہ اس قوم کو کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ برطانوی ہند کے خفیہ ریکارڈز اور افغان مورخین کے مطابق، اس جنگ نے امیر کے شاہی خزانے کو تقریباً خالی کر دیا تھا اور کابل کی باقاعدہ فوج کے ہزاروں تربیت…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران” ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (نویں قسط) “خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران” تحریر: جاوید نادری یہ ایک ایسی داستان ہے جو کاغذ پر سیاہی سے نہیں بلکہ ہزارہ جات کے سنگلاخ پہاڑوں پر خون سے لکھی گئی ہے۔ اس تحریر میں ان خواتین کی عظمت اور ‘چہل دختران’ کی اس لازوال قربانی کو سمیٹا گیا ہے جو تاریخ کے سینے پر ایک گہرا زخم بھی ہے مگر فخر اور وقار کا نشان بھی۔ تاریخ کے صفحات جب 1890ء کی دہائی کے باب پر کھلتے ہیں، تو…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “ارزگان کی مزاحمت” ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(آٹھویں قسط) “ارزگان کی مزاحمت” تحریر: جاوید نادری یہ تحریر ان گمنام ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہے جنہوں نے جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے زنجیروں میں جکڑے ہوئے وقار کو منتخب کیا۔ تاریخی طور پر ارزگان ہزارہ جات کا “قلب” مانا جاتا تھا۔ یہ علاقہ اپنی دشوار گزار پہاڑیوں، قدرتی دفاعی مورچوں اور جنگجو قبائل کی وجہ سے مشہور تھا۔ مغل دور سے لے کر درانی دور تک، ارزگان کے سرداروں نے ہمیشہ ایک نیم خود مختار حیثیت…

دھندلاہٹ (افسانچہ) ۔۔۔ جاوید نادری

دھندلاہٹ (افسانچہ) تحریر: جاوید نادری انسان بھی کیا عجیب ہے۔۔۔۔ بدصورت سے بدصورت شخص بھی اپنے آپ کو خوبصورت مانتا ہے۔ لیکن- نہیں، میں تو ایسا نہیں ہوں۔ میں نے کب خود کو خوبصورت سمجھا ہے؟ مجھے تو اپنا چہرہ اور اپنی پوری جسامت، کبھی پسند ہی نہیں آئی۔ ہاں، یہ میرے ہاتھ تھوڑے سے گورے اور خوبصورت ہیں شاید ۔۔۔ ہرگز نہیں۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا اکتاہٹ سے اپنے چہرے کو ٹٹول رہا تھا اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بوریت تیر رہی تھی، وہ اپنے پورے…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت”۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت” ساتویں قسط تحریر: جاوید نادری ہزارہ مزاحمت کی تاریخ میں “عام مجاہدین” اور “سنگر نشین” وہ گمنام سپاہی ہیں جنہوں نے کسی باقاعدہ عسکری تربیت یا بیرونی امداد کے اس وقت کی جدید ترین شاہی افواج کا راستہ روکا۔ فیض محمد کاتب اور برطانوی مبصرین جیسے میٹ لینڈ نے ان کی جرات اور تکنیکی مہارت کا واضح نقشہ کھینچا ہے، چونکہ ان کی سپلائی لائنیں کٹی ہوئی تھیں، اس لیے انہوں نے “خود کفالت” کا راستہ اپنایا۔ ان کی…

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (چھٹی قسط) تاریخ صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ان اقدار، تصورات اور اجتماعی ارادوں کا ریکارڈ ہوتی ہے جن کے لیے انسان تمام تر نامساعد حالات میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ 1860 سے 1893 تک کا عہد ہمیں بتاتا ہے کہ جب زمین، خود مختاری اور وقار لازم و ملزوم ہو جائیں تو موت بھی ایک بیانیے کی صورت میں فتح بن کر ابھرتی ہے۔ میر صادق بیگ ارزگانی اور بنیاد علی خان کی…

طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری

ان کہی کا تخیلاتی جمال کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر موسیقی روح کی غذا ہے، تو شاعری روح کا کلام یا اس کی زبان ہے۔ موسیقی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ اپنی معنوی حدوں کو چھو کر خاموش ہو جاتے ہیں، جبکہ شاعری انہی خاموشیوں کو ایک شعوری صورت اور بیانیہ عطا کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موسیقی احساس کی غیر متعین روانی ہے اور شاعری اسی احساس کا تعین شدہ ادراک۔ ایک دل پر وارد ہوتی ہے اور دوسری دل…

میر صادق بیگ ارزگانی و سردار بنیاد علی خان ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار پانچویں قسط انیسویں صدی کے وسطی عشرے ہزارہ جات کی تاریخ میں محض ایک غیر متحرک وقفہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسے عہد کی تشکیل کا زمانہ تھا جسے عباس دلجو نے بجا طور پر “سیاسی بیداری” کا مرحلہ قرار دیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ہزارہ معاشرہ نہ صرف اپنے جغرافیائی وجود کے تحفظ کے لیے متحرک ہوا بلکہ اس نے ایک واضح سیاسی شعور کے ساتھ اپنی شناخت کو بھی ازسرِ نو مرتب کیا۔ اس عہد کی سب سے…