انسانی معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے۔ معاشرے کا ہر ایک فرد اپنی جگہ پر ذمہ دار ہوتا ہے۔ فرد کی یہ ذمہ داری اس کی ذاتی اور اجتماعی نوعیت کی ہوتی ہے اور پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک فرد اگر چاہے تو پورے معاشرتی نظام کو بدل سکتا ہے اور اگر چاہے تو پورے معاشرتی نظام کو برباد بھی کرسکتا ہے۔ جس معاشرے میں روزانہ بچوں، بچیوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی روز کا معمول ہو۔ جس معاشرے کا معلم خود بچوں کے ساتھ…
Author: میر افضل خان طوری
امام حسین ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور سر زمین کربلائے معلی ۔۔۔ میر افضل خان طوری
٭ یہ کونسا سلطان عرب و عجم ہے جس کی سلطنت آج بھی قائم و دائم ہے؟ یہ کونسا شاہنشاہ ہے جس کے دربار میں آج بھی کروڑوں انسانوں کا جم غفیر ہے؟ یہ کونسا حاکم ہے جس کی حکومت حدود و قیود کی محتاج نہیں ہے؟ یہ کونسا خلیفة اللہ ہے جس کی دائمی خلافت کا جھنڈا دنیا کے ہر کونے میں لہرا رہا ہے؟ اس بادشاہ کا نام حسین ابن علئ ہے۔ یہ وہ ہیں جن کی پرورشِ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،…
درد کا احساس ۔۔۔ میر افضل خان طوری
ویسے تو درد ایک بری چیز سمجھا جاتا ہے۔ انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ درد کو خود سے دور رکھے۔ اگر ہم حقیقت میں دیکھیں تو درد ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں جسم کے اندر کسی بیماری کے ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ مثلا اگر ہمارے جسم کے کسی حصے میں کوئی مسلہ درپیش ہو تو درد ہمیں اس مسلے کا پتا دیتا ہے۔ وہ ہمیں اس بیماری یا مرض سے آگاہ کرنے کا وسیلہ ہوتا ے۔ درد ہمیں اس بیماری کا احساس دلاتا ہے۔ جب ہم درد…
زندگی کی اٹل حقیقت فنا ہے ۔۔۔ میر افضل خان طوری
* انسان اس دنیا میں اتنا مصروف ہو چکا ہے کہ شاید اس کے پاس اپنی موت کی خبر لینے کے لئے بھی وقت نہیں ہے۔ اس دار فانی میں ہر بہار کو خزان کا سامنا رہتا ہے اور گلشن کے ہر بھول کو کسی نہ کسی لمحے بکھرنا ہوتا ہے۔ شجر پر لگا آخری پتہ بھی اس امید میں رہتا ہے کہ بہار آئے اور میں پھر سے زندہ ہو جاؤں۔ مگر فنا اسے اپنی حقیقت سے روشناس کرو دیتی ہے۔ فنا ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے…
معرفت نفس کا معاشرتی اصلاح میں کردار۔۔۔میر افضل خان طوری
جس طرح انسان کے مادی جسم میں ظاہری قوتیں پائی جاتی ہیں جن کو ہم حواس خمسہ کہتے ہیں( یہ سونگھنے، چھکنے، مس کرنے، دیکھنے اور سننے کی قوتیں ہیں)، اسی طرح انسان کا وجود مختلف قسم کے باطنی قوتوں کا مسکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر ایک ولی، عارف کامل اور مفکر نے اپنے من میں ڈوبنے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ اپنی ذات کی معرفت کیا ہے؟ انسان اس کو کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ اپنی ذات کی معرفت…
کتاب ۔۔۔۔ میر افضل خان طوری
دنیا کی سب سے پہلی کتاب وہ چلتا پھرتا انسان تھا۔ جس وقت تحریر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ ہر تجربہ کار انسان ایک کتاب کی مانند ہوا کرتا تھا۔ دور دراز سے لوگ ان سے فن اور تجربہ حاصل کرنے کیلئے تشریف لایا کرتے تھے۔ اس طرح تجربہ اور فن ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل ہو جایا کرتا تھا۔ جب انسان نے الفاظ لکھنا سیکھا تو اسکے بعد ان الفاظ کو درختوں کے پتوں اور چمڑے وغیرہ پر لکھ کر محفوظ کیا جانے لگا۔ یوں انسان اپنے…
پاکستان کا نظام تعلیم اور ہماری ذمہ داری ۔۔۔۔میر افضل خان طوری
لفظ تعلیم عربی زبان کے باب تفعیل سے مشتق ہے۔ اس باب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی عمل کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مادہ ع ل م ہے۔ یہ وہی مادہ ہے جو علم کا ہے۔ یعنی علم حاصل کرنے کے تسلسل کو تعلیم کہتے ہیں۔ آج ہمیں جو ممالک اور اقوام دنیا میں سب سے آگے نظر آ رہی ہیں ان کی سب سے اہم اور بڑی وجہ اپنے ممالک میں موثر نظام تعلیم کا نفاذ ہے۔ ان ممالک میں آپ ہر وقت دنیا…
عقل اور حیات انسانی ۔۔۔ میر افضل خان طوری
مخلوقات عالم میں سے انسان وہ مخلوق ہے جس کا ہر لمحہ اپنی ذات کے ساتھ جنگ و جدل میں گزرتا ہے۔ اس کی ذات دو متضاد قوتوں کے درمیان میدان جنگ بنی رہتی ہے۔ ایک قوت کا تعلق اس کی خواہشات نفسانی سے ہے جو ہمیشہ فطری، عقلی اور انسانی حدود و قیود سے آزادی چاہتی ہےاور انسان کو اپنا اسیر بنانے پر بضد رہتی ہے جبکہ دوسری قوت کا تعلق انسانی ارادے سے ہے جو ان بے لگام نفسانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔ اللہ تعالی نے…
ہمارا معاشرہ اور اعلیٰ اخلاقی اقدار ۔۔۔ میر افضل خان طوری
۔ اپنی خلقت کے روز اول سے لے کر آج تک انسان کو دو طرح کی بیماریوں کا سامنا رہا ہے۔ ایک کا تعلق اس کے جسم سے ہے جبکہ دوسری بیماریوں کا تعلق اس کی روح سے۔ جسمانی بیماریوں میں نزلہ، زکام، کھانسی، بدہضمی اور سر درد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مادی بیماریاں ہیں۔ ان کا زیادہ تر علاج مادی اشیاء سے ہی ممکن ہے۔ جبکہ حسد، بغض، کینہ، نفرت، جھوٹ، خود غرضی، خوف، چالبازی اور منافقت وغیرہ روحانی بیماریاں ہیں۔ ان کا علاج صرف علم، فہم اور ادراک…
ایک بات پوچھوں، ماروگے تو نہیں؟ ۔۔۔ میر افضل خان طوری
ایک بات پوچھوں، ماروگے تو نہیں؟ میر افضل خان طوری کیا ہم مسلمان ہیں؟ سوری کیا ہم انسان ہیں۔۔۔؟ کیا بچوں اور بچیوں کی یہ بکھری ہوئی لاشیں ہماری معاشرتی پستی، بے حسی اور بے غیرتی پر نوحہ کناں نہیں ہیں؟ ہمارا استاد ، مولوی اور ڈاکٹر اتنے بڑے وحشی درندے کیوں بن چکے ہیں؟ تحت بھائی کےعلاقے تھانہ مسکین آباد میں پرائمری سکول ٹیچر کے ہاتھ بچے کا قتل ہو یا ضلع ناروال میں عائشہ ذوالفقار کا قتل۔ آخر ہماری گلیاں ،کوچے، بازار، سکول ،کالج، یونیورسٹیاں، مساجد اور مدرسے…