کشتی شکستگانیم، ای بادِشُرطہ برخیز ۔۔۔ اکبر علی

کسی بھی انسانی معاشرے میں بعض پیشے ایسے ہوتے ہیں جو معاشرے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ عصمت فروشی یا جنس فروشی بھی ایک ایسا پیشہ ہے جو ہر دور اور زمانے میں پنپتا رہا ہے۔
اس پیشے کی خرابی یا اچھائی پر بحث مقصد نہیں بلکہ ایک حقیقت کے طور پر اس پیشے کے وجود کو تسلیم کرکے معاشرے پر اس کے اثرات پر ایک نظر دوڑانا مقصود ہے۔
پاکستان کے بعض بڑے شہروں میں اس پیشے سے منسلک افراد کی آبادی پر باقاعدہ علاقوں کے نام سے تقریباً ہر کوئی واقف ہے۔
مغربی ممالک کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر میں “ریڈ لائٹ ایریاز” ہوتے ہیں جہاں جسم فروشی کا کاروبار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بعض ممالک اور بعض شہر ایسے بھی ہیں جن کی وجہ شہرت ہی یہی پیشہ ہے۔
اکثر یورپی ممالک میں (سوائے چند ایک کے) اس پیشے کو قانونی حیثیت دی گئی ہے جس سے وہاں کی حکومتوں کو ٹیکس کی مد میں اچھی خاصی آمدن ہوتی ہے۔
کسی بھی عمل کے اچھے یا بُرے نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح عصمت فروشی کے بھی معاشرے پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ البتہ معاشرے کی ساخت اور رسوم و روایات کے تناسب سے اس پیشے کے اثرات بھی زیادہ اور کم ہوسکتے ہیں۔
اس بات کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ چونکہ اس پیشے میں مرکزی ستون عورت ہوتی ہے لہذا کسی معاشرے میں اگر یہ دیکھا جائے کہ وہاں عورت کو کیا سماجی حیثیت حاصل ہے، عورت کس قدر بااختیار ہے، روزگار کے حوالے سے عورت کو کیا مواقع میسر ہیں، فردی آزادی کی کیا حیثیت ہے اور یہ کہ روزگار کے حوالے سے ایک عورت کا ایک مرد پر کتنا انحصار ہے۔
ان تمام زاویوں سے اگر دیکھا جائے تو ایک بات ہم بخوبی جان لیں گے کہ جس معاشرے میں عورت کو جتنے کم انسانی حقوق حاصل ہیں، وہاں پر اسی تناسب سے عصمت فروشی اور جنسی استحصال کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اسلامی معاشرے میں پاکستان، اور پاکستان میں بالخصوص وہ علاقے جہاں قبائلی نظام بہت مستحکم ہے۔ اس پیشے کے حوالے سے بہت حساسیت پائی جاتی ہے جبکہ شہروں میں آۓ دن ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن کے مطابق نہ صرف عورتیں بلکہ مرد اور نوجوان لڑکے بھی سڑک کنارے کھڑے ہوکر مساج وغیرہ کے نام پر جسم فروشی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یوٹیوب پر چند ایک ایسی ویڈیوز میں نے خود دیکھی ہے جن میں ان جسم فروش لڑکوں سے انٹرویوز لیے گئے ہیں۔
ایک اور بات ذہن میں رہے کہ جسم فروشی ایک خالصتاً شہری پیشہ ہے۔ دیہی علاقوں میں وہاں کی مخصوص سماجی ساخت کی بنیاد پر اس پیشے کی نمو نہیں ہوتی، ہر چند دیہی علاقوں میں بھی اس پیشے کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔
اب بلوچستان کی جانب آتے ہیں۔
2019 میں بلوچستان یونیورسٹی سے متعلق ایک ایسا سکینڈل اخبارات کی زینت بنا جو مبینہ طور پر بلوچستان یونیورسٹی کے زنانہ ہاسٹلز اور ٹوائلٹس وغیرہ میں خفیہ کیمروں کی تنصیب سے متعلق تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان خفیہ کمروں کی فوٹیجز کی بنیاد پر طالبات کو بلیک میل کیا جاتا تھا۔
 چونکہ قبائلی معاشرے میں “غیرت” اور “ناموس” کی جڑیں زندگی اور موت سے جڑی ہوتی ہیں لہٰذا ہمیشہ کی طرح اس مسئلے کو “عزت” وغیرہ کی آڑ میں دبا دیا گیا۔
طالبات یا ان کے خاندانوں کی جانب سے کوئی بھی اس وجہ سے پیشقدم نہیں ہوا کہ آخر میں بدنامی “عورت” کے ہی نصیب میں آتی ہے، اس وجہ سے بھی اس مسئلے کو دبانے میں کسی کو چنداں مشکل پیش نہیں آئی۔ ایسے معاملات کو دبانے والے عناصر میں ان بااثر حلقوں کا زیادہ کردار ہوتا ہے جن کے اپنے نام سکینڈل میں آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
دو ہفتے قبل اسی طرح کا ایک سکینڈل کوئٹہ سے وائرل ہوا جس نے جلد ہی ملک بھر کے میڈیا کی توجہ حاصل کرلی۔
اس سیکنڈل کا جو مرکزی کردار پولیس کی حراست میں ہے وہ بدنام زمانہ چرس سمگلر حبیب اللہ (ساقی خانہ والے) کا پوتا ہے۔ منشیات کی دنیا میں اس فیملی کے نام سے ہر کوئی باخبر ہے۔
پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے، صحافی اور اس مافیا کا نشانہ بننے والی بعض لڑکیوں کے مطابق یہ ایک پورا مافیا ہے جو غریب اور مجبور لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کراور انہیں نشہ آور ادویات پلا کر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے دوران ان کی ویڈیوز بنا کر انہیں منشیات فروشی اور جنس فروشی کے کاروبار کیلئے استعمال کرتا تھا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس واقعے کو بھی بلوچستان یونیورسٹی کے ویڈیو سکینڈل کی طرح دبا دیا جاتا ہے یا پھر اس واقعے کے مجرموں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایاجاتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس واقعے کی شکار عورتوں کا تعلق چاہے کسی بھی قوم یا قبیلے سے ہو، سامنے نہیں آئیں گی جبکہ اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ منشیات اور عورتوں کی سپلائی کے کاروبارمیں ملوث افراد کس قدر بااثر ہوتے ہیں۔، لہٰذا اگر یہ مسئلہ بوجوہ دبا دیا جاتا ہے تو اس میں کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔
اس تمام داستان میں جو نکتہ سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ “مجرم” یہی عورتیں ہی قرار پائیں گی اور زندگی بھر خمیازہ بھی ان عورتوں کو ہی بھگتنا ہوگا۔
اس نکتے کو شاید ہی کوئی درخور اعتنا سمجھے کہ گزشتہ بیس سالوں میں کوئٹہ کا ہزارہ سماج ایک منظم نسل کُشی کا شکار رہا۔ جس کے نتیجے میں معاشرے کا تمام ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ گیا، ہزاروں خاندانوں کی کمائی اور روزگار کے ذرائع چھین لئے گئے، ہزاروں عورتیں بیوہ اور ہزاروں بچے یتیم کردیئے گئے۔ ایک مختصر سی آبادی پر اگر ظلم کے اتنے پہاڑ توڑے جائیں وہاں ایسے مسائل کا ابھر کر سامنے آنا ایک فطری امر ہے۔
 چونکہ پاکستان ایک فلاحی ریاست تو ہے نہیں جو ان بیواؤں اور بچوں کی کفالت کا ذمہ لے ، نتیجتاً غربت اور تنگدستی معاشرے کے افراد کو برائی کے جس گڑھے میں دھکیل رہی ہیں، وہ مختلف صورتوں میں ہمارے سامنے آرہی ہیں۔

ایک اور بات جس کی طرف ہم سب کو خاص توجہ دینی ہوگا وہ یہ کہ معاشرے کے کسی خاص حلقے کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ ان جنسی جرائم کو بہانہ بناکر ہماری بچیوں پر تعلیمی درسگاہوں اور ملازمتوں کے دروازے بند کرے۔ کیونکہ کچھ ایسی سرگوشیاں ہورہی ہیں کہ چونکہ عورتیں “حجاب” نہیں کرتیں ، “بے حیائی” کو فروغ دے رہی ہیں لہذا انھیں چاہئے کہ “باعزت و با پردہ” بن کر “خواتین خانہ” کے فرائض انجام دیں۔
ہمارے “معتبرین” کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری ترقی اور بقا کی ضامن ہماری عورتیں ہی ہیں، بےجا ننگ اور غیرت کے نام پر ہم اپنی عورتوں کو گھروں میں قید نہیں کریں گے۔ ہماری بیٹیاں، ہماری بہنیں ہمارا فخر ہیں۔

میں ایک پُرامید شخص ہوں۔ مجموعی طور پر میں صورتحال کو اس طرح دیکھتا ہوں کہ جس بےدردی اور منظم طریقے سے مسلسل بیس سال تک ایک چھوٹی آبادی کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی گئی، جس طرح ان کا معاشی اور جسمانی قتل عام کیا گیا، جس طرح سے معاشرے کے فرد فرد کو نفسیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑا، پورے معاشرے کی بافت کو جس شکست و ریخت سے دوچار ہونا پڑا، ایسے میں اس بات کے بہت زیادہ چانسز تھے کہ معاشرہ اپنی شناخت کھو دیتا، نوجوانوں کی ہمت جواب دے جاتی، وہ تعلیمی، سیاسی اور ثقافتی میدانوں میں گمنامی کا شکار ہوجاتے، اور جتنی برائی ہمیں آج نظر آرہی ہے، اس سے دس گنا زیادہ برائیاں ہمارا دامن گیر ہوتیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہم ایسے گئے گزرے بھی نہیں کہ آنے والے زمانے میں اپنی بقا کی جنگ نہ لڑ سکیں۔
میں ذاتی طور پر اس معاشرے کے مستقبل سے، اس معاشرے کے نوجوانوں سے بہت زیادہ مطمئن ہوں، جس طرح ہم اپنی بقا کی جنگ لڑتے آئے ہیں، یہی ثبوت ہے کہ ہم مٹنے والے نہیں۔ میں دنیا بھر کی یونیورسٹیز میں اس قوم کی نوجوان نسل کو آگے بڑھتے دیکھ رہا ہوں اور یہی نوجوان نسل خود یہ جان چکی ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہوگا، اس کے لیے تیاری کیسی ہونی چاہیے۔ کم از کم میں اس نوجوان نسل سے جو امیدیں وابستہ کیے بیٹھا ہوں، ان کے بَر آنے میں مجھے کوئی شک و شبہ نہیں۔

اکبر علی

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے مدیراعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *