طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری

ان کہی کا تخیلاتی جمال کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر موسیقی روح کی غذا ہے، تو شاعری روح کا کلام یا اس کی زبان ہے۔ موسیقی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ اپنی معنوی حدوں کو چھو کر خاموش ہو جاتے ہیں، جبکہ شاعری انہی خاموشیوں کو ایک شعوری صورت اور بیانیہ عطا کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موسیقی احساس کی غیر متعین روانی ہے اور شاعری اسی احساس کا تعین شدہ ادراک۔ ایک دل پر وارد ہوتی ہے اور دوسری دل…

نہیں! میں خود کو ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔ جاوید نادری

تم نے مجھے کہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں خدا ہوں، ہاں، مجھے خدائی کا دعوی کرتے ہوئے تم نے نہیں دیکھا ہے۔ تو پھر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں سب کچھ بھلا دوں تمہارے دیے ہوئے ہر زخم کو ہر غم کو ہر درد کو میں کیسے بھلا سکتا ہوں؟ میں خدا نہیں ہوں! میں کسی کو معاف کرنے کا استعارہ نہیں ہوں! میں اب بھی پل پل میں جل رہا ہوں میں اس ہر لمحے کا مقروض ہوں ہر اس لمحے کا جس…

آئینہ میں عکس ۔۔۔ جاوید نادری

اچھا ہوا تم وقت پر آ گئے۔ آؤ، یہاں بیٹھتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں۔ تو بتاؤ! کیسا چل رہا ہے سب؟ کوئی ڈھنگ کا کام مل گیا تمہیں؟ یا ابھی تک یونہی بیکار پھرتے ہو؟ مجھے یاد ہے، آخری بار جب ہم مل بیٹھے تھے تو تم نے کہا تھا کہ تمہارے ذہن کے اندر کوئی گھس بیٹھیا ہے، جو تم سے تمہاری یادداشت چھیننے پر تلا ہے۔ کیا تم نے اس کا پتہ لگایا؟ کون ہے وہ، اور چاہتا کیا ہے؟ اچھی جگہ ہے نا! چاروں طرف…

گوگل اور ڈاکٹر ۔۔۔ ہاشم کیمیاگر

سلطانہ اپنے منہ پر ماسک پہنے کلینک میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کررہی تھی۔ پچھلے دو دنوں سے اس کو شدید نزلہ زکام ہوا تھا۔ گوگل پر علاج کے کافی طریقے بھی اس نے ڈھونڈھ لیے تھے لیکن ان دو دنوں میں کوئی ایک دو طریقے ہی وہ آزما سکی تھی۔ ٹھیک تو وہ ہوئی نہیں، اور باقی طریقے اس سے آزمائے ہی نہیں گئے کیونکہ طبیعت اور بگڑ رہی تھی۔ بہر حال اس نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ سلطانہ ابھی بیٹھی ہی تھی…

ٹپ اور کرایہ! سو لفظوں کی کہانی ۔۔۔ عارف چنگیزی

فاطمہ: ویٹر! ویٹر: جی میڈم! فاطمہ: مینو دیجئے۔ ویٹر: لیجئے میڈم۔ فاطمہ: ہمارے لئے 3 اسپیشل برگر، 1 درمیانی پیزا ، 1 رشیئن سلاد اور 3شوگر فری سپرائٹ لائیں۔ ویٹر: ok میڈم! فاطمہ: کتنا وقت لگے گا؟ ویٹر: بس 20منٹ۔ ویٹر: لیجئے آپ کا آرڈر۔ فاطمہ: تھینک یو۔ فاطمہ: ویٹر! بل لائیں کتنا ہوا؟ ویٹر: یہ لیجئے، 4000 روپے ہوگیا۔ فاطمہ: یہ لیں 5000روپے، 1000روپے آپ کی ٹپ۔ ویٹر: تھینک یو میڈم۔ آصفہ: ٹپ بہت زیادہ نہیں دی؟ فاطمہ: کوئی بات نہیں؛ چلیں۔ آصفہ: ٹھیک ہے چلیں۔ فاطمہ: رکشہ! عابد:…

کرایہ! سو لفظوں کی کہانی ۔۔۔ عارف چنگیزی

عابد: سنا ہے آپ گھر کی دوسری منزل کرایہ پر دینا چاہتے ہیں۔ فرمان: صحیح سنا ہے۔ عابد: کتنا کرایہ رکھا ہے؟ فرمان: ایڈوانس 15لاکھ، ماہانہ کرایہ 30ہزار عابد: بہت زیادہ نہیں؟ فرمان: ماہانہ 30ہزار کون سا مہنگا ہے؟ عابد: غریب لوگ ماہانہ 30ہزار کماتے نہیں۔ کرایہ کس طرح ادا کریں؟ فرمان: ضرورت مند لوگ لے لیں گے۔ عابد: ایڈوانس ایک یا دولاکھ رکھیں تاکہ ضرورت مند باقی رقم سے کاروبار کرکے کرایہ کا بندوبست کرسکیں۔ فرمان: چھوڑو ان باتوں کو چلو سبزی روڑ سے سبزی خریدتے ہیں۔ عابد: گھر…

سو لفظوں کی کہانی، جلاؤ گھیراؤ ۔۔۔ عارف چنگیزی

عمیر دودھ میں پانی ملا رہا تھا کہ اسے مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے آواز سنائی دی۔ ”بھائیوں جلدی سے مسجد کے پاس جمع ہو جائیں، دو مسیحییوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔ ہمیں جاکر انہیں سبق سکھانا ہو گا۔“ یہ سن کر عمیر نے اپنا کام ادھورا چھوڑ کر غصے کی حالت میں ہاتھ میں ڈنڈا لیا اور دل میں سوچا، کہ ان کی یہ جرات کہ ہمارے قرآن پاک کی بے حرمتی کریں۔ جب وہ جلاؤ گھیراؤ سے فارغ ہوا، تو فوراً گھر پہنچا اور…

  بھرم ۔۔۔ زہرا علی

ہوا میں خنکی کا فی بڑھ گئی تھی ،  وہ رکشے میں بیٹھا کسی  متوقع  مسافر کے انتظار میں سردی سے سکڑ رہا تھا۔  ساتھ ساتھ کانوں میں  ہیڈ  فون لگائے  گانوں کی دھن پر  باہر کے سرد موسم سے لڑنے کی ناکام کوشش بھی کر رہا تھا۔  اس  مصروف رکشہ اسٹینڈ پر شازونادر  ہی کوئی   خالی رکشہ مل پاتا، لیکن شاید آج سردی کے سبب لوگ گھروں میں ہی دبک کر چھپ گئے تھے۔  کافی انتظار کے بعد رکشے کے باہر رکتے قدموں نے  اس کا  دھیان گانوں سے…

سو لفظوں کی کہانی (قبروں کی تعمیر)۔۔۔ عارف چنگیزی

 پہلا دوست: یار زمانہ بہت بدل گیا ہے۔  دوسرا دوست: وہ کیسے؟ پہلا: آج کل لوگ زندہ انسانوں پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتے اور نہ ہی غریبوں کا کوئی پرسان حال ہے، مگر مُردوں کی قبروں کی تعمیر کیلئے ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں۔  دوسرا: ہاں یار صحیح کہہ رہے ہو، ہمارے پڑوس والے بہت ہی غریب ہیں، ان کے پاس دو وقت کا کھانا تک نہیں۔ اگر آپ کے پاس کچھ رقم ہے تو انہیں دے دیں۔ پہلا: میرے پاس تو صرف 35000 ہے جو میں نے اپنی…

ای خُدا جان تا بیا ۔۔۔ اکبر علی

اللہ میاں تھلے آ ای خُدا جان تا بیا!!! گفتم امروز قد تُو دردِ دل کنوم دِل مہ پُورہ، یک کَمَک بِل بِل کنوم گب خُو بوگوم رُست، چرہ کِل کِل کنوم بیخی دُوری، دہ مِی نزدیکا بیا ائ خدا جان تا بیا!!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یک کَرَت گر میتنی خُو سیل کنو خُوب و بد رہ خود تُو یک غلبیل کنو زنگ درہ ہر یک مشین تُو، تیل کنو شاؤ اگر نہ می تَنی ، صوبا بیا ائ خدا جان تا بیا!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقتی بَینِ سنگ کِرِم رہ نان مِیدی ہر…