ہزارہ گی موسیقی کی پرورش میں کوئٹہ ہزارہ کا کلیدی کردار ۔۔۔ اسحاق محمدی

جیسا کہ میں نے اپنے ایک آرٹیکل میں قدرے تفصیل سے لکھا ہے، 70 کی دہائی تک پاکستانی ہزارہ میں ہزارہ گی موسیقی کے حوالے سے دلچسپی نہیں تھی۔ اکثریت اسے ایک پسماندہ اور دیہاتی موسیقی سمجھتے ہوئے نظر انداز کرتی تھی۔ لیکن اس کے بعد جن اداروں نے ہزارہ گی موسیقی کی ترویج میں […]

Continue Reading

جنرل ضیاء کے دور میں پہلے بلدیاتی انتخابات ۔۔۔ اسحاق محمدی

بلدیاتی انتخابات کرانا پاکستانی ڈکٹیٹر جنرلوں کا ہمیشہ سے پسندیدہ انتخاب رہا ہے، چاہے وہ جنرل ایوب خان ہوں، جنرل ضیاء ہوں یا پھر جنرل پرویز مشرف۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے کہ اس طرح وہ اپنے اقتدار کو خطرے میں ڈالے بغیر اندرونی اور بیرونی طور پر جمہوریت پسند ہونے کا تاثر دینے […]

Continue Reading

حسین علی یوسفی بطور ہزارہ گی ڈرامہ نگار ۔۔۔ اسحاق محمدی

شہید چیئرمین حسین علی یوسفی ایک متنوع شخصیت کے حامل تھے۔ وہ زیرک سیاست دان، شعلہ بیان مقرر، بذلہ سنج شاعر، ڈرامہ نگار اور ساتھ ہی ایک سماجی ناقد بھی تھے۔ وہ اپنی ہزارہ گی شاعری اور ڈرامہ نگاری کے ذریعے ہزارہ قوم کے اندر سیاسی بیداری لانے کے ساتھ ساتھ سماجی عیوب کو بھی […]

Continue Reading

بابو خدا نذر قنبری ۔۔۔ اسحاق محمدی

مرحوم بابو خدا نذر قنبری 17 ستمبر 1917ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ محترم قمبر علی، امیرِ جابرِ کابل عبدالرحمان کی ہزارہ نسل کشی سے بچنے کے لیے ہزارہ جات کے ضلع بہسود کے علاقے قولِ خویش سے ہجرت کر کے اُس وقت کے برٹش بلوچستان میں آ کر بس گئے تھے۔ […]

Continue Reading

گلگت کے ہزارہ! ۔۔۔ اسحاق محمدی

جیسا کہ میں نے اپنی چند دیگر تحریروں میں لکھا ہے کہ 1892ء میں امیرِ کابل عبدالرحمان کے ہاتھوں حتمی شکست کے بعد ہزارہ قوم کی ایک تعداد برصغیر کی طرف بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی۔ وہ دو سمتوں سے برصغیر، جو اس وقت برٹش انڈیا کہلاتا تھا، میں داخل ہوئی: ایک صوبہ بلوچستان […]

Continue Reading

حسن پولادی: ہزارہ قوم کا ایک درخشندہ ستارہ ۔۔۔ اسحاق محمدی

اسکالروں نے تاریخ کو اقوام کے “دماغ اور اُن کی یادداشت” سے تعبیر کیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ماضی سے رشتہ استوار رکھ کر ماضی کی کوتاہیوں و خامیوں سے سبق سیکھ کر اور کامیابیوں کے اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھ کر “حال” کو سنوارتی ہیں اور روشن مستقبل کے لیے […]

Continue Reading

پاکستان میں ہزارہ آبادی ۔۔۔ اسحاق محمدی

1892ء کے اواخر میں امیر کابل عبدالرحمان کے ہاتھوں شکست اور اپنی زرخیز زمینوں سے محروم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ہزارہ مہاجرین ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اس وقت کے برٹش بلوچستان کے شہر کوئٹہ کا رخ کیا، جبکہ ایک چھوٹے گروپ نے […]

Continue Reading

پاکستانی ہزارہ: اجتماعی و سیاسی حالات کی مختصر تاریخ قسط سوم … اسحاق محمدی

کار و مشاغل ایک جنگجو قوم ہونے کے ناطے، نیز انگریز اور زارِ روس کے مابین “گریٹ گیم” کے باعث، کوئٹہ میں ہزارہ قوم کے لیے سپاہ گیری کے وسیع مواقع میسر آئے۔ چنانچہ ان کی قابلِ ذکر اکثریت کو ابتدا میں 124 اور 125 بلوچ انفینٹری میں، اور بعد ازاں 1904ء میں ہزارہ پائینئر […]

Continue Reading

پاکستانی ہزارہ اجتماعی و سیاسی حالات کی مختصر تاریخ۔ دوسری قسط ۔۔۔ اسحاق محمدی

سیاست چونکہ 1893ء کے عظیم سانحے کے بعد ہزارہ قوم کے افراد نے کوئٹہ کا رخ کیا، تو اس وقت سلطنتِ برطانیہ سونے کی چڑیا ہندوستان کو زارِ روس کی یلغار سے بچانے کے لیے جنگی اقدامات کرنے میں مصروف تھی۔ ایک جنگجو قوم کے ناطے انگریزوں کو ان کی ضرورت تھی، لہٰذا انہوں نے […]

Continue Reading

پاکستانی ہزارہ: اجتماعی و سیاسی حالات کی مختصر تاریخ۔ قسط اول ۔۔۔ اسحاق محمدی

قسط اول جیسا کہ میں نے اپنے ایک جداگانہ مضمون میں لکھا ہے، برصغیر اور بطور خاص سندھ و بلوچستان میں ہزارہ قوم کی موجودگی چودھویں صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے، جن کی باقیات اب خاران (بلوچستان) میں نیکودری ہزارہ اور ٹھٹھہ (سندھ) میں ارغون ہزارہ کے مقبروں کی صورت میں ملتی ہیں۔ تاہم […]

Continue Reading

ہزارہ پروگریسیو فورم (ایچ پی ایف) ۔۔۔ اسحاق محمدی

1970 کی دہائی کے دوران، پاکستانی ہزارہ سماج میں کچھ افراد نے انفرادی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، تاہم مجموعی طور پر قوم میں سیاست، خاص طور پر ترقی پسند سیاست کی طرف رجحان کم تھا۔ ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اس سمت میں پہلی […]

Continue Reading

تنظیمِ نسلِ نو ہزارہ مغل … اسحاق محمدی

تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے قیام کے ضمن میں مختلف دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن استاد غفور ربانی، معروف دانشور شادروان پروفیسر ناظر حسین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ “اس زمانے (1965ء) میں محلہ نچاری کیمپ میں ایک فٹبال کلب، تاج کلب کے نام سے قائم تھا جس کا دفتر، حاجی یعقوب علی […]

Continue Reading

انجمن فلاح و بہبود ہزارہ 1963-1970ء ۔۔۔ اسحاق محمدی

1904ء تک کوئٹہ میں ہزارہ اجتماعی بودوباش کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں لیکن 1904ء میں ہزارہ پائینر کی تشکیل کے بعد ان کی اجتماعی زندگی پر عسکری خدوخال زیادہ نمایاں ہوتے گئے یعنی فوج میں جس کا رتبہ جتنا بڑا، اجتماعی طور پراس کی اہمیت بھی اتنی۔ لہٰذا اب ہزارہ پائینر کے سربراہ، […]

Continue Reading

اولمپیئن باکسر شہید سید ابرار حسین ہزارہ ۔۔۔ اسحاق محمدی

پاکستان کے لیجنڈری باکسر سید ابرار حسین ہزارہ کی پیدائش فروری 1965ء کو کوئٹہ میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام حاجی سید حسین شاہ تھا جن کا اپنا بزنس تھا۔ ابتدائی تعلیم  سے لے کر گریجویشن تک کوئٹہ کے مختلف درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرِک یونیورسٹی جرمنی سے سپورٹس سائنسز کی […]

Continue Reading

پروفیسر فاطمہ چنگیزی 1942-2025ء ۔۔۔ اسحاق محمدی

پروفیسر فاطمہ چنگیزی نے 1942ء کو کوئٹہ کے ایک ہزارہ گھرانہ حاجی احمد علی کے آنگن میں آنکھ کھولی۔ انکی خوش قسمتی تھی کہ ان کے والد عام روایت پسند ڈگر سے ہٹ کر روشن سوچ رکھنے والے انسان تھے اور بچوں کے ساتھ، بچیوں کی تعلیم کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ حاجی احمدعلی کی […]

Continue Reading