سرائے نمک ۔۔۔ اسحاق محمدی

سرائے نمک! تحریر: اسحاق محمدی میں نے 1976ء میں جب یزدان خان ہائی سکول میں داخلہ لیا تو اس وقت سکول کی چار دیواری زیادہ اونچی نہیں تھی، اس لیے حاجی آباد کے طلبہ کڈے غلام کی طرف سے اور مہرآباد کے طلبہ کوچہ ملا رضا کی جانب سے دیوار پھلانگ کر سکول آتے تھے۔ کڈے غلام میں اس وقت کوئی آبادی نہیں تھی۔ اس کے مشرق کی طرف، جہاں کسی زمانے میں ایک ایرانی سکول قائم تھا، ایک بڑا گڑھا موجود تھا۔ بزرگ لوگ بتایا کرتے تھے کہ وہاں…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران” ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (نویں قسط) “خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران” تحریر: جاوید نادری یہ ایک ایسی داستان ہے جو کاغذ پر سیاہی سے نہیں بلکہ ہزارہ جات کے سنگلاخ پہاڑوں پر خون سے لکھی گئی ہے۔ اس تحریر میں ان خواتین کی عظمت اور ‘چہل دختران’ کی اس لازوال قربانی کو سمیٹا گیا ہے جو تاریخ کے سینے پر ایک گہرا زخم بھی ہے مگر فخر اور وقار کا نشان بھی۔ تاریخ کے صفحات جب 1890ء کی دہائی کے باب پر کھلتے ہیں، تو…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “ارزگان کی مزاحمت” ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(آٹھویں قسط) “ارزگان کی مزاحمت” تحریر: جاوید نادری یہ تحریر ان گمنام ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہے جنہوں نے جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے زنجیروں میں جکڑے ہوئے وقار کو منتخب کیا۔ تاریخی طور پر ارزگان ہزارہ جات کا “قلب” مانا جاتا تھا۔ یہ علاقہ اپنی دشوار گزار پہاڑیوں، قدرتی دفاعی مورچوں اور جنگجو قبائل کی وجہ سے مشہور تھا۔ مغل دور سے لے کر درانی دور تک، ارزگان کے سرداروں نے ہمیشہ ایک نیم خود مختار حیثیت…

ایک تکفیر نامہ اور ہزارہ قوم کی سیاسی تنہائی ۔۔۔ اسحاق محمدی

ایک تکفیر نامہ اور ہزارہ قوم کی سیاسی تنہائی تحقیق و تحریر: اسحاق محمدی فروری 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد، دیگر علاقوں کے شیعہ ملاّؤں کی طرح کوئٹہ کے ملا بھی پرپرزے نکالنے لگے۔ اس ضمن میں پہل شیخ یعقوب علی توسلی نے تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کوئٹہ کے خلاف ایک تکفیری خط سے کی۔ یاد رہے کہ اس وقت تنظیم کے کچھ اراکین افغانستان میں ثور انقلاب کے خلاف “اتحادیہ مجاہدین اسلامی افغانستان” سے وابستہ ہو کر ہزارہ جات میں مصروفِ عمل ہوگئے تھے اور اُس وقت…

میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی

میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ! تحریر: اسحاق محمدی ستمبر 1982ء میں انٹر پاس کرنے کے بعد میں نے مزید پڑھنے سے پہلے جاب کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ کچھ پیسے پس انداز کر سکوں۔ اس مقصد کے لیے ادھر اُدھر سے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ سرکاری جاب کے لیے تاریخِ پاکستان، تاریخِ اسلام اور کرنٹ افیئرز کے علاوہ ٹائپنگ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ مجھے معلوماتِ عامہ کے ضمن میں کوئی دقت نہیں تھی، کیونکہ یزدان خان ہائی سکول کی نمائندگی کرتے ہوئے میں نے آل…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت”۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت” ساتویں قسط تحریر: جاوید نادری ہزارہ مزاحمت کی تاریخ میں “عام مجاہدین” اور “سنگر نشین” وہ گمنام سپاہی ہیں جنہوں نے کسی باقاعدہ عسکری تربیت یا بیرونی امداد کے اس وقت کی جدید ترین شاہی افواج کا راستہ روکا۔ فیض محمد کاتب اور برطانوی مبصرین جیسے میٹ لینڈ نے ان کی جرات اور تکنیکی مہارت کا واضح نقشہ کھینچا ہے، چونکہ ان کی سپلائی لائنیں کٹی ہوئی تھیں، اس لیے انہوں نے “خود کفالت” کا راستہ اپنایا۔ ان کی…

شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی

شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں بہت سے دوستوں کو شاید معلوم نہ ہو کہ میرے بچپن کے کچھ سال شاہرگ میں گزرے ہیں، جو کوئٹہ کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شاہرگ اپنے کوئلے کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ 1970ء کے دوران وہاں کل 6 ہزارہ گھرانے تھے جن میں سے 2 جوتے (چوٹ) کے کاروبار سے جبکہ باقی 4 کوئلے کے کاروبار سے منسلک تھے۔ میرا بڑا چچا، مرحوم منشی نادر علی، حافظیان کول کمپنی میں منشی…

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (چھٹی قسط) تاریخ صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ان اقدار، تصورات اور اجتماعی ارادوں کا ریکارڈ ہوتی ہے جن کے لیے انسان تمام تر نامساعد حالات میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ 1860 سے 1893 تک کا عہد ہمیں بتاتا ہے کہ جب زمین، خود مختاری اور وقار لازم و ملزوم ہو جائیں تو موت بھی ایک بیانیے کی صورت میں فتح بن کر ابھرتی ہے۔ میر صادق بیگ ارزگانی اور بنیاد علی خان کی…

آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی

کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کے اجتماعی سیٹ اپ میں دو سسٹم کافی عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ ایک طائفگی، جس کی بنیاد طائفوی تعلق پر قائم ہے، جبکہ دوسرا آغیلی، جس کی بنیاد ہمسایہ داری ہے۔ آغیلی سسٹم کے تحت ایک ہی محلے میں رہنے والے 20، 30 یا اس سے زائد آس پاس کے ہمسائے اکٹھے ہو کر ایک آغیل کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں فوتگی کی صورت میں چندہ اکٹھا کرنا بھی شامل ہے۔ آغیلی ایک رضاکارانہ سسٹم ہے، جس میں آس پاس کے قریبی…

ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی

اگرچہ ہزارہ قوم کی برصغیر میں آمد پندرھویں صدی کے اوائل کی ہے، لیکن جدید تاریخ میں ان کی آمد کا سلسلہ امیر جابر عبدالرحمان کے ہاتھوں 1893ء کے اواخر میں حتمی شکست کے بعد شروع ہوا۔ برٹش انڈیا میں جغرافیائی نزدیکی کی مناسبت سے ارزگان اور قرب و جوار کے ہزارہ، بالائی بلوچستان کے مختلف راستوں سے داخل ہو کر کوئٹہ، جبکہ غزنی و قرہ باغ کے ہزارہ نے پاڑہ چنار اور گلگت کو اپنا مسکن بنایا۔ بلوچستان میں انگریز انتظامیہ نے سنجاوی میں ہزارہ آبادکاری کا منصوبہ بنایا،…