عمیر دودھ میں پانی ملا رہا تھا کہ اسے مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے آواز سنائی دی۔ ”بھائیوں جلدی سے مسجد کے پاس جمع ہو جائیں، دو مسیحییوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔ ہمیں جاکر انہیں سبق سکھانا ہو گا۔“ یہ سن کر عمیر نے اپنا کام ادھورا چھوڑ کر غصے کی حالت میں ہاتھ میں ڈنڈا لیا اور دل میں سوچا، کہ ان کی یہ جرات کہ ہمارے قرآن پاک کی بے حرمتی کریں۔
جب وہ جلاؤ گھیراؤ سے فارغ ہوا، تو فوراً گھر پہنچا اور جوسرمشین کو ایک طرف رکھ کر دوبارہ اپنے ادھورے کام میں جت گیا۔
Latest posts by عارف چنگیزی (see all)
- سوال؟ ۔۔۔ عارف چنگیزی - Jul 15, 2026
- افسانوی کالم: مرتضیٰ ہجراں کی پیشکش ۔۔۔ عارف چنگیزی - Jul 5, 2026
- مذہب کا کاروبار اور معاشرتی یرغمالیّت ۔۔۔ عارف چنگیزی - Jun 28, 2026