ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (میر یزدان بخش) ۔۔۔ جاوید نادری

میر یزدان بخش کی داستانِ حیات ہزارہ تاریخ کے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ یہ قوم کبھی لاچار، مغلوب اور بے بس نہیں رہی، بلکہ اس کی تاریخ مزاحمت، سیاسی شعور اور اپنے وجود کے دفاع کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔ میر یزدان بخش کی عسکری تاریخ […]

Continue Reading

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار ۔۔۔ جاوید نادری

تاریخ کا مقصد آنکھوں میں آنسو لانا نہیں بلکہ ذہن میں سوال اور دل میں وقار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ زخموں سے بھری ضرور ہے، مگر یہ زخم کمزوری کی نہیں بلکہ مزاحمت اور بقا کی علامت ہیں۔ اس تاریخ کو سمجھنا قید میں رہنا نہیں بلکہ اپنی فکری طاقت کو […]

Continue Reading

ایران میں احتجاجی تحریک: نظریاتی تقسیم علاقائی مماثلتیں اور خانہ جنگی کا خطرہ ۔۔۔ سید عنایت

  ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو مجموعی طور پر دو بڑے دھڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ حلقہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں اسلامی نظام کی بقا یا اس کے اندر اصلاحات کا حامی ہے، اور دوسرا وہ جو اس نظام کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم […]

Continue Reading

تنازع کشمیر: سازشی نظریات سے حقیقت کی طرف سفر ۔۔۔ سید عنایت

       کچھ مہینے قبل  مجھے ایک آن لائن مذاکرے میں شرکت کا موقع ملا،  جس کا موضوع:  ”پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی تھا۔“  اس نشست میں پاکستان اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی دانشور،  صحافی اور سماجی کارکن شریک تھے۔  گفتگو کا محور تنازع کشمیر تھا اور بیشتر شرکاء کا موقف تھا کہ برطانیہ […]

Continue Reading

القاعدہ و داعش: امریکی سازش یا ہماری فکری لغزش؟ ۔۔۔ سید عنایت

مسلم دنیا میں ایک جملہ عام ہو چکا ہے: “یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے!” یہ سوچ محض سادہ فریب نہیں بلکہ ایک خطرناک رویہ ہے، جو ہمیں اپنی اصل ذمہ داری سے فرار کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب تک ہم حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے، نہ ہم اپنے زوال کی وجوہات سمجھ […]

Continue Reading

جامعہ بلوچستان کی زبوں حالی ۔۔۔ ڈاکٹر رحیم چنگیزی

  جامعہ بلوچستان کو صوبے کے قدیم ترین اعلیٰ تعلیمی ادارے کادرجہ حاصل ہونے کے ساتھ یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آج صوبے کے تمام اداروں میں خدمات انجام دینے اور معاشرے میں مثبت سوچ اور تبدیلیاں لانے والے تقریباً تمام افراد گذشتہ ۴۵ سالوں سے اسی جامعہ سے فار غ التحصیل ہیں۔مگر آج […]

Continue Reading

جامعہ بلوچستان کا مالی بحران یا پرائیوٹائزیشن کی جانب قدم ۔۔۔ علی رضا منگول

جامعہ بلوچستان کا قیام ستمبر 1970ء میں عمل میں آیا جو صوبہ بلوچستان کی اولین یونیورسٹی ہے۔ آج اس یونیورسٹی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق علوم سے نوجوانوں کی کثیر تعداد فیضیاب ہونے کے لیے دور افتادہ علاقوں سے آتے ہیں۔ جن میں بیشتر طلباء انتہائی پسماندہ علاقوں کے غریب خاندانوں سے تعلق […]

Continue Reading

معاشرہ اور اِنسان ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں ۔۔۔ علی رضا منگول

زندگی میں اِنسان اپنے سماجی، سیاسی اور معاشی ماحول سے جو بھی سیکھتا ہے اُسی کے بل بوتے وہ اپنی زندگی گزارتا ہے۔ وہ زندگی کے تمام فیصلے معاشرے سے حاصل کردہ نفسیات اور نظریات کے مطابق انجام دیتا ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی بھی شخص نہیں جس کا کوئی نظریہ نا ہو، خواہ وہ […]

Continue Reading

کشتی شکستگانیم، ای بادِشُرطہ برخیز ۔۔۔ اکبر علی

کسی بھی انسانی معاشرے میں بعض پیشے ایسے ہوتے ہیں جو معاشرے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ عصمت فروشی یا جنس فروشی بھی ایک ایسا پیشہ ہے جو ہر دور اور زمانے میں پنپتا رہا ہے۔ اس پیشے کی خرابی یا اچھائی پر بحث مقصد نہیں بلکہ ایک حقیقت کے طور پر اس پیشے کے […]

Continue Reading

ہزارہ قوم کا قبول اسلام اور شیعہ بننے کا عمل ۔۔۔ فدا گلزاری

حصہ اول ہزارہ قوم کا قبول اسلام اور پھر شیعہ مکتب فکر میں داخلے کا عمل ایک ایسا سوال ہے جو ہزارہ تاریخ پر کام کرنے والے محققین کے لئے ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ اگرچہ ان متنازعہ آراء کو لے کر ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے قابل تو نہیں ہونگے مگر ان […]

Continue Reading

دھرنے کی تاریخ اور ہزارہ کمیونٹی کے دھرنے … سجاد عاصم

دھرنا ایک قسم کا احتجاج ہے، جس میں احتجاج کرنے والے ایک جگہ بیٹھ جاتے ہیں اور کسی خاص مطالبے پر اصرار کرتے ہیں۔ عموما دھرنا دینے والوں کا احتجاج اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک انکا مطالبہ منظور نہیں کیا جاتا۔ دھرنے کا مطالبہ عموما عملی نوعیت کا ہوتا ہے، تاریخ میں […]

Continue Reading

حکومت اور حزب اختلاف، ایک ہی سکے کے دو رخ ۔۔۔ علی رضا منگول

. پی ڈی ایم تحریک عوامی مفادات کی بجائے سیاست دانوں کے دم گھٹنے کا نتیجہ ہے اور اس کا عوام کے بنیادی اور حقیقی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جلسوں میں شریک روایتی قائدین عوام کے بنیادی مسائل پر کوئی موقف اختیار کرنے کے برعکس اپنی پارٹی پالیسی بیان کرنے پر تمام توانائی […]

Continue Reading

لبرلائزیشن، پرائیوٹائزیشن اور گلوبلائزیشن سرمایہ داری کے فطری ارتقاء کا نتیجہ اور اظہار ہے ۔۔۔ علی رضا منگول

سرمایہ داری کے آغاز میں تقریباً 1500ء سے 1800ء تک دنیا کے کچھ ممالک عمومی طور پر یورپ اور خصوصاً مغربی یورپ اٹلی، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور آسٹریا میں ایک معاشی نظریہ اپنایا گیا جسے Mercantilism کہا جاتا ہے۔ یہ معاشی نظریہ ان ممالک میں ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور باہمی تعلقداری کے بغیر […]

Continue Reading

ہزارستان کی زرعی زمینوں پر کوچیوں کے قبضے کی روایت ۔۔۔ اکبر علی

٭ افغانستان کے مرکز میں موجودہ ہزارستان کے تمام علاقے پہاڑی اور بے آب و گیاہ خشک پتھریلی زمینوں پر مشتمل ہیں۔ قابل زراعت میدانی زمینیں، نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود ان پہاڑی علاقوں کے رہنے والے جہاں کہیں چھوٹا سا ہموار ٹکڑا پائیں، اس پر گندم وغیرہ کاشت کرتے ہیں جو […]

Continue Reading

سانحہ 6 جولائی1985ء، ایک خونین باب کا آغاز ۔۔۔ اسحاق محمدی

  گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی ہمارے خِطے کی تاریخ میں اس لحاظ سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دہائی کے آخری چند سال کے دوران بڑے بڑے سیاسی تحولات آئے۔ اپریل 1978ء میں روس نواز خلق ڈیموکریٹک پارٹی نے افغانستان میں سردار داؤد خان کا تختہ الٹ کر ملک کی بھاگ ڈور […]

Continue Reading