ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(گیارویں قسط) “دی گریٹ گیم” تحریر: جاوید نادری انیسویں صدی کے اواخر (1890ء کی دہائی) میں جب امیر عبدالرحمن خان کے جابرانہ نظام اور ہزارہ جات کی طویل جنگ کے نتیجے میں ہزارہ قوم کے لاکھوں افراد اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے، تو یہ محض پناہ گزینوں کی ایک نقل مکانی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے جنگجو، جفاکش اور انتہائی منظم تمدن کا پھیلاؤ تھا جس کی عسکری صلاحیتوں کو اس دور کی دو سب سے بڑی عالمی طاقتوں، برطانیہ اور روس،…
Category: کالم
“ہزارہ جات کا تاریخی سمجھوتہ اور مکافات عمل”۔۔۔ جاوید نادری
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار“ہزارہ جات کا تاریخی سمجھوتہ اور مکافات عمل” (دسویں قسط) تحریر: جاوید نادری ہزارہ جات کے مختلف خطوں میں ہزارہ قوم کی بے مثال قربانیوں اور طویل گوریلا جنگ نے امیر کو یہ باور کرا دیا تھا کہ وہ اس قوم کو کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ برطانوی ہند کے خفیہ ریکارڈز اور افغان مورخین کے مطابق، اس جنگ نے امیر کے شاہی خزانے کو تقریباً خالی کر دیا تھا اور کابل کی باقاعدہ فوج کے ہزاروں تربیت…
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران” ۔۔۔ جاوید نادری
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (نویں قسط) “خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران” تحریر: جاوید نادری یہ ایک ایسی داستان ہے جو کاغذ پر سیاہی سے نہیں بلکہ ہزارہ جات کے سنگلاخ پہاڑوں پر خون سے لکھی گئی ہے۔ اس تحریر میں ان خواتین کی عظمت اور ‘چہل دختران’ کی اس لازوال قربانی کو سمیٹا گیا ہے جو تاریخ کے سینے پر ایک گہرا زخم بھی ہے مگر فخر اور وقار کا نشان بھی۔ تاریخ کے صفحات جب 1890ء کی دہائی کے باب پر کھلتے ہیں، تو…
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “ارزگان کی مزاحمت” ۔۔۔ جاوید نادری
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(آٹھویں قسط) “ارزگان کی مزاحمت” تحریر: جاوید نادری یہ تحریر ان گمنام ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہے جنہوں نے جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے زنجیروں میں جکڑے ہوئے وقار کو منتخب کیا۔ تاریخی طور پر ارزگان ہزارہ جات کا “قلب” مانا جاتا تھا۔ یہ علاقہ اپنی دشوار گزار پہاڑیوں، قدرتی دفاعی مورچوں اور جنگجو قبائل کی وجہ سے مشہور تھا۔ مغل دور سے لے کر درانی دور تک، ارزگان کے سرداروں نے ہمیشہ ایک نیم خود مختار حیثیت…
میر صادق بیگ ارزگانی و سردار بنیاد علی خان ۔۔۔ جاوید نادری
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار پانچویں قسط انیسویں صدی کے وسطی عشرے ہزارہ جات کی تاریخ میں محض ایک غیر متحرک وقفہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسے عہد کی تشکیل کا زمانہ تھا جسے عباس دلجو نے بجا طور پر “سیاسی بیداری” کا مرحلہ قرار دیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ہزارہ معاشرہ نہ صرف اپنے جغرافیائی وجود کے تحفظ کے لیے متحرک ہوا بلکہ اس نے ایک واضح سیاسی شعور کے ساتھ اپنی شناخت کو بھی ازسرِ نو مرتب کیا۔ اس عہد کی سب سے…
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (میر یزدان بخش) ۔۔۔ جاوید نادری
میر یزدان بخش کی داستانِ حیات ہزارہ تاریخ کے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ یہ قوم کبھی لاچار، مغلوب اور بے بس نہیں رہی، بلکہ اس کی تاریخ مزاحمت، سیاسی شعور اور اپنے وجود کے دفاع کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔ میر یزدان بخش کی عسکری تاریخ صرف دفاع کی داستان نہیں بلکہ یہ “تزویراتی برتری” (Strategic Superiority) کی ایک ایسی مثال ہے جہاں ایک چھوٹی قوت نے اپنے سے کئی گنا بڑی اور جدید مسلح افواج کو ناک چنے چبوا دیے۔…
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار ۔۔۔ جاوید نادری
تاریخ کا مقصد آنکھوں میں آنسو لانا نہیں بلکہ ذہن میں سوال اور دل میں وقار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ زخموں سے بھری ضرور ہے، مگر یہ زخم کمزوری کی نہیں بلکہ مزاحمت اور بقا کی علامت ہیں۔ اس تاریخ کو سمجھنا قید میں رہنا نہیں بلکہ اپنی فکری طاقت کو پہچاننا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، عموماً اسے مظلومیت، شکست اور لاچاری کے ایک محدود اور یک رخی زاویے سے پیش کیا گیا۔ یہ محض ایک فکری کوتاہی نہیں بلکہ ایک…
ایران میں احتجاجی تحریک: نظریاتی تقسیم علاقائی مماثلتیں اور خانہ جنگی کا خطرہ ۔۔۔ سید عنایت
ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو مجموعی طور پر دو بڑے دھڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ حلقہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں اسلامی نظام کی بقا یا اس کے اندر اصلاحات کا حامی ہے، اور دوسرا وہ جو اس نظام کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم اسلامی نظام مخالف کیمپ خود گہری نظریاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک نمایاں گروہ رضا پہلوی کے گرد مجتمع دکھائی دیتا ہے اور شاہی دور کو کم از کم علامتی طور پر ملائی آمریت کے…
تنازع کشمیر: سازشی نظریات سے حقیقت کی طرف سفر ۔۔۔ سید عنایت
کچھ مہینے قبل مجھے ایک آن لائن مذاکرے میں شرکت کا موقع ملا، جس کا موضوع: ”پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی تھا۔“ اس نشست میں پاکستان اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی دانشور، صحافی اور سماجی کارکن شریک تھے۔ گفتگو کا محور تنازع کشمیر تھا اور بیشتر شرکاء کا موقف تھا کہ برطانیہ نے جان بوجھ کر کشمیر کو ایک ”سلگتا ہوا تنازعہ“ بنا کر چھوڑا۔ تاکہ خطے میں ایک نہ تھمنے والا عدم استحکام جاری رہے۔ یہ نکتہءِ نظر بظاہر بہت جاذبِ نظر اور جذباتی طور پر…
القاعدہ و داعش: امریکی سازش یا ہماری فکری لغزش؟ ۔۔۔ سید عنایت
مسلم دنیا میں ایک جملہ عام ہو چکا ہے: “یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے!” یہ سوچ محض سادہ فریب نہیں بلکہ ایک خطرناک رویہ ہے، جو ہمیں اپنی اصل ذمہ داری سے فرار کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب تک ہم حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے، نہ ہم اپنے زوال کی وجوہات سمجھ سکیں گے اور نہ ہی ان کا کوئی حل تلاش کر سکیں گے۔ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے جنم اور فروغ کی کہانی صرف کسی عالمی سازش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہماری اپنی فکری،…