پاگل ۔۔۔ اسد مہری

* کئی سال پہلے ایک بار والد صاحب نے مجھے اپنے ساتھ کسی جنازے پرچلنے کو کہا۔ میں جانا تو نہیں چاہتاتھا مگر ابّوکو نا کہنا بھی گویا اپنے جنازے کو آواز دینے کے مترادف تھا۔ خیر جب میت والے گھر پہنچے تو والد صاحب اندر مرحوم  کی فیملی سے ملنےچلے گئے اور مُجھے گیٹ کے ساتھ واٹر ٹینک کے قریب بیٹھنے اور اپنی جگہ سے نہ ہلنے کی تاکید کی۔ کُچھ دیر بعد غسل خانے کا دروازہ کُھلا اور ایک بندہ اندر سے گیلے ہاتھوں کے ساتھ باہر نکلا…

ایک کشتی کے سوار۔۔۔ اسد مہری

حکومت مُلک بھر میں لاک ڈاؤن اُٹھانے کے اعلان کی تیاری میں مصروف ہے اور ہر شخص اپنی اپنی رائے دے رہا ہے، ٹی وی اور دوسرے میڈیا پہ لگاتاریہ سُنےکو مِل رہا ہے کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اس کشتی کو ہم نے ہی پار لگوانا ہے۔ یہ سب سُن کردُکھ ہوتا ہے کیونکہ ہم سب ایک کشتی کے سوار تو نہیں ہو سکتے ہاں البتہ ایک ہی طوفان کے شکار ضرور ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تُمھاری کشتی ان حالات میں شاید تباہ…

آزمائش ۔۔۔ اسد مہری

۔ دسمبر کی سخت سردی اور سڑک پہ جمی برف کی موٹی تہ پہ نازک سی دری پر دُکان کی سیڑھی سے تکیہ لگائے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا “امی کیا اللّہ  واقعی ہم سے بہت پیار کرتا ہے؟ اور ہمیں آزمائش میں ڈالتا رہتا ہے تاکہ جان سکے کہ ہم اُس کے اچھے بندے ہیں یا نہیں؟” سوال کرتے ہوئے جواد نے اپنا سر اپنی ماں کی گود میں رکھنے کی کوشش کی۔ مگراُس کی ماں آج بہت چپ تھی۔ جواد کو ماں کی یہ خاموشی بہت عجیب…

خوش قسمت ۔۔۔ اسد مہری

. آبائی وطن سے دور غیر مُلکوں میں جہاں کوئی بھی ہمارا نہیں ہوتا۔ زندگی صُبح پانچ بجے شروع ہوتی ہے اور شام سات بجے تک مشین کی طرح کام کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ کُچھ خوش قسمت یار دوست اپنے بال بچوں اور فیملی کے پاس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں جبکہ بعض تنہا اپنے کرائے کے مکان میں یا دوستوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ جو دوست اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں کام سے  گھر لوٹنے کے…

ثواب ۔۔۔۔ اسد مہری

ثواب  اسد مہری صبح سے گلی میں اسپیکر پر نوحے کی آواز گونج رہی تھی. یہ آواز حاجی صاحب جو اتفاق سے صدر محلہ بھی ہیں، کے گھر سے آرہی تھی. وہ تین دِن پہلے کربلا کی زیارت سے تشریف لائے تھے، اور لوگ صُبح ہی سے حاجی اسد کے گھر آنےجانے میں مصروف تھے. وہاں تو جیسے لنگر لگا ہوا تھا، سارے متمول دوکاندار، حاجی صاحبان اور بزنس مین، اپنی گاڑیوں میں جوق در جوق آ رہے تھے اور جاتے ہوئے حاجی اسد (جوکہ اب حاجی کربلائ اسد ہو…

شرم کرو ۔۔۔ اسد مہری

شرم کرو اسد مہری گھر آتے ہی وہی روز کا طعنہ سننے کو ملتا ہےکہ میں کوئی کام کیوں نہیں کرتا؟  مُفت کی روٹیاں توڑتاہوں۔ فلاں ہمسائے کا بیٹا یہ کام کرتا ہے یاوہ کام کرتا ہے۔روز کی اس بدمزگی سے میں بھی تنگ آ چُکا ہوں اور اکثر دیر سے گھر آتا ہوں تا کہ بڑے بھائی کے ساتھ کوئی بد تمیزی یا بد مزگی نہ ہو۔  بڑے بھائ کی شادی سے پہلے گھر میں ایسا کوئ مسلۂ نہیں تھا اور نہ ہی کبھی اُنھوں نے میری تعلیم اور…