میں شرمندہ ہوں ۔۔۔ اکبر علی

ہماری زندگی کے تجربات میں بہت ساری ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں ہم کسی کے ساتھ شئیر نہیں کرتے۔ اس کی وجہ شاید اس تجربے کی اپنی تلخی ہو جسے ہم دوبارہ یاد کرکے اپنی طبیعت خراب نہیں کرنا چاہتے یا پھر شاید یہ ڈر کہ اگر میں یہ بات شئیر کردوں تو معاشرہ میں میری حیثیت کیا ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہمای انا اس قدر مضبوط ہوتی ہے جو ہمیں اپنی غلطی کو ماننے سے روکتی ہے، ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنی غلطی کا…

اب بھی وقت ہے، افیون سے انکار کرو۔…

آج کا انسان جس دور سے گزر رہا ہے، یہ تاریخ کا اب تک سب سے بہترین دور ہے۔ موجودہ انسان ترقی اور آرام دہ زندگی کے جن لوازمات سے برخوردار ہے، وہ گزشتہ کسی بھی دور میں کسی انسانی نوع کو میسر نہیں رہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وقت جیسے جیسے گزرتا رہا ہے، انسان اور انسانی معاشرے بھی بہتری کی سمت بڑھتے رہے ہیں۔ نتیجتا آج کا انسانی سماج، انسانی زندگی کیلئے تاریخ کے کسی بھی انسانی سماج کے مقابلے میں بہترین خوبیوں سے مزین ہے۔…

کشتی شکستگانیم، ای بادِشُرطہ برخیز ۔۔۔ اکبر علی

کسی بھی انسانی معاشرے میں بعض پیشے ایسے ہوتے ہیں جو معاشرے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ عصمت فروشی یا جنس فروشی بھی ایک ایسا پیشہ ہے جو ہر دور اور زمانے میں پنپتا رہا ہے۔ اس پیشے کی خرابی یا اچھائی پر بحث مقصد نہیں بلکہ ایک حقیقت کے طور پر اس پیشے کے وجود کو تسلیم کرکے معاشرے پر اس کے اثرات پر ایک نظر دوڑانا مقصود ہے۔ پاکستان کے بعض بڑے شہروں میں اس پیشے سے منسلک افراد کی آبادی پر باقاعدہ علاقوں کے نام سے تقریباً…

جدال ھویت و سیاست۔ قسط دویم

  دہ بارے تعلیم و تربیت ہم جناب امیری ایں رہ موگہ آزرے کوئٹہ دوچار آشفتگی استہ یعنی تعلیم شن دہ فارسی نیہ لہذا اینا تعلیم ھیچ ندرہ۔ دہ الفاظ دیگہ مطلب ازونا ایں استہ کہ یک آزرے کوئٹہ اگر فارسی نخاندہ، دہ انگریزی اگر ڈاکٹریٹ ہم کنہ، بازم “بی تعلیم” استہ۔ ایں منطق ازونا دہ نظر خود شن اگر سم بایہ۔ دہ ہزارہ ٹاون حساب کدہ کہ چاردہ دنہ سکول فارسی استہ جبکہ دہ مری آباد دو دنہ استہ۔ کسیکہ از کوئٹہ باشد، امی قدر خبر درہ کہ مکاتب…

جدال ھویت و سیاست ۔۔۔ اکبر علی

قسط اول جناب علی امیری دہ ابن سینا یونیورسٹی کابل استاد استہ و فلسفہ درس میدہ۔ ماہ گزشتہ برای چند روز دہ کوئٹہ حضور دشتن۔ دہ ای دوران اونا ہمراہ مختلف افراد و ادارہ ہا دید و بازدید دشتن۔ عکس ہای شی رہ ہر روز دہ فیسبک می دیدیم کہ ہمراہ فلان آرگنائزیشن و فلان افراد ملاقات دشت۔ بعد از مختصر سفر کہ جناب امیری واپس کابل رفتن، یک طویل یادداشت ازی سفر کوئٹہ خُو دہ “اطلاعات روز” دہ نام “جدال ھویت و سیاست” دہ سہ قسط نوشتہ کدہ۔ دہ…

ای خُدا جان تا بیا ۔۔۔ اکبر علی

اللہ میاں تھلے آ ای خُدا جان تا بیا!!! گفتم امروز قد تُو دردِ دل کنوم دِل مہ پُورہ، یک کَمَک بِل بِل کنوم گب خُو بوگوم رُست، چرہ کِل کِل کنوم بیخی دُوری، دہ مِی نزدیکا بیا ائ خدا جان تا بیا!!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یک کَرَت گر میتنی خُو سیل کنو خُوب و بد رہ خود تُو یک غلبیل کنو زنگ درہ ہر یک مشین تُو، تیل کنو شاؤ اگر نہ می تَنی ، صوبا بیا ائ خدا جان تا بیا!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقتی بَینِ سنگ کِرِم رہ نان مِیدی ہر…

ابراہیم ہزارہ، پہلا سیاسی شہید ۔۔۔ اکبر علی

پاکستان میں ہزارہ قوم کی سیاسی تاریخ میں چند ایک واقعات ایسے ہیں جو بہت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ انیس جولائی انیس سو چھیاسی کے واقعے کے ذکر کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔ جی ہاں، یہ وہ تاریخ ہے جب کوئٹہ کے ڈگری کالج میں ایک ترقی پسند اور سیکولر فکر کے حامل نوجوان ابراہیم ہزارہ کو دن دیہاڑے قتل کیاگیا۔ ان کے قاتل ایران نواز جماعت اور ولایت فقیہ کی پیروکار تنظیم آئی ایس او کے کارکن تھے جن میں سے بعض فرار ہوکر ایران جا بسے…

ہزارستان کی زرعی زمینوں پر کوچیوں کے قبضے کی روایت ۔۔۔ اکبر علی

٭ افغانستان کے مرکز میں موجودہ ہزارستان کے تمام علاقے پہاڑی اور بے آب و گیاہ خشک پتھریلی زمینوں پر مشتمل ہیں۔ قابل زراعت میدانی زمینیں، نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود ان پہاڑی علاقوں کے رہنے والے جہاں کہیں چھوٹا سا ہموار ٹکڑا پائیں، اس پر گندم وغیرہ کاشت کرتے ہیں جو برآمد وغیرہ تو درکنار، خود ایک خاندان کی کفالت کیلئے بھی ناکافی ہوتی ہے۔ آبپاشی کا تمام تر دارومدار بارشوں اور برفباریوں پر منحصر ہے۔ لوگ غربت کی لکیر سے کہیں نیچے زندگی گزارنے پہ…

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔۔ اکبر علی

  پاکستان کے قیام  سے لے کر اب تک ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ہمیشہ ابتری کا شکار رہی ہے۔ پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبے کبھی بھی وفاق سے مطمئن نہیں رہے ہیں۔ بلوچستان کے حصے میں تو خیر شروع دن سے محرومیاں ہی ہیں جب کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ثور انقلاب کے بعد سے صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخوا) بھی پُر آشوب دور سے گزرتا آرہا ہے۔ افغانستان کی سیاسی صورتحال کے فیصلوں کے بڑے مراکز میں کوئٹہ اور پشاور بہت اہم رہے ہیں۔ یہاں تھوڑی…

غزل ۔۔۔ اکبر علی

“صلصال”، خود خدا کا ہی مجھ کو ہُنر لگے “طالب” نہیں ہوں جو مجھے “بودا” سے ڈر لگے   میں ٹِک نہ پایا ایک جگہ پر ہی دائمی یہ کائنات ساری مجھے، میرا گھر لگے   ہے فکرِ سُود مجھ کو نہ اندیشہِ زیاں افکارِ نَو ہمیشہ مگر پُر خطر لگے   پایا اسے بھی ساتھ، جہاں سے گزر ہوئی یہ ماہتاب مجھ کو میرا ہمسفر لگے   یہ بارِ دوش ہے مرا، یہ ذوق شاعری اور میرے دوستوں کو یہ زادِ سفر لگے   گر مُعجزہ نہیں ہے تو…