میں شرمندہ ہوں ۔۔۔ اکبر علی

ہماری زندگی کے تجربات میں بہت ساری ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں ہم کسی کے ساتھ شئیر نہیں کرتے۔ اس کی وجہ شاید اس تجربے کی اپنی تلخی ہو جسے ہم دوبارہ یاد کرکے اپنی طبیعت خراب نہیں کرنا چاہتے یا پھر شاید یہ ڈر کہ اگر میں یہ بات شئیر کردوں تو معاشرہ میں […]

Continue Reading

اب بھی وقت ہے، افیون سے انکار کرو۔…

آج کا انسان جس دور سے گزر رہا ہے، یہ تاریخ کا اب تک سب سے بہترین دور ہے۔ موجودہ انسان ترقی اور آرام دہ زندگی کے جن لوازمات سے برخوردار ہے، وہ گزشتہ کسی بھی دور میں کسی انسانی نوع کو میسر نہیں رہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وقت جیسے جیسے گزرتا […]

Continue Reading

کشتی شکستگانیم، ای بادِشُرطہ برخیز ۔۔۔ اکبر علی

کسی بھی انسانی معاشرے میں بعض پیشے ایسے ہوتے ہیں جو معاشرے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ عصمت فروشی یا جنس فروشی بھی ایک ایسا پیشہ ہے جو ہر دور اور زمانے میں پنپتا رہا ہے۔ اس پیشے کی خرابی یا اچھائی پر بحث مقصد نہیں بلکہ ایک حقیقت کے طور پر اس پیشے کے […]

Continue Reading

جدال ھویت و سیاست۔ قسط دویم

  دہ بارے تعلیم و تربیت ہم جناب امیری ایں رہ موگہ آزرے کوئٹہ دوچار آشفتگی استہ یعنی تعلیم شن دہ فارسی نیہ لہذا اینا تعلیم ھیچ ندرہ۔ دہ الفاظ دیگہ مطلب ازونا ایں استہ کہ یک آزرے کوئٹہ اگر فارسی نخاندہ، دہ انگریزی اگر ڈاکٹریٹ ہم کنہ، بازم “بی تعلیم” استہ۔ ایں منطق ازونا […]

Continue Reading

جدال ھویت و سیاست ۔۔۔ اکبر علی

قسط اول جناب علی امیری دہ ابن سینا یونیورسٹی کابل استاد استہ و فلسفہ درس میدہ۔ ماہ گزشتہ برای چند روز دہ کوئٹہ حضور دشتن۔ دہ ای دوران اونا ہمراہ مختلف افراد و ادارہ ہا دید و بازدید دشتن۔ عکس ہای شی رہ ہر روز دہ فیسبک می دیدیم کہ ہمراہ فلان آرگنائزیشن و فلان […]

Continue Reading

ای خُدا جان تا بیا ۔۔۔ اکبر علی

اللہ میاں تھلے آ ای خُدا جان تا بیا!!! گفتم امروز قد تُو دردِ دل کنوم دِل مہ پُورہ، یک کَمَک بِل بِل کنوم گب خُو بوگوم رُست، چرہ کِل کِل کنوم بیخی دُوری، دہ مِی نزدیکا بیا ائ خدا جان تا بیا!!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یک کَرَت گر میتنی خُو سیل کنو خُوب و بد رہ […]

Continue Reading

ابراہیم ہزارہ، پہلا سیاسی شہید ۔۔۔ اکبر علی

پاکستان میں ہزارہ قوم کی سیاسی تاریخ میں چند ایک واقعات ایسے ہیں جو بہت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ انیس جولائی انیس سو چھیاسی کے واقعے کے ذکر کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔ جی ہاں، یہ وہ تاریخ ہے جب کوئٹہ کے ڈگری کالج میں ایک ترقی پسند اور سیکولر فکر کے حامل […]

Continue Reading

ہزارستان کی زرعی زمینوں پر کوچیوں کے قبضے کی روایت ۔۔۔ اکبر علی

٭ افغانستان کے مرکز میں موجودہ ہزارستان کے تمام علاقے پہاڑی اور بے آب و گیاہ خشک پتھریلی زمینوں پر مشتمل ہیں۔ قابل زراعت میدانی زمینیں، نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود ان پہاڑی علاقوں کے رہنے والے جہاں کہیں چھوٹا سا ہموار ٹکڑا پائیں، اس پر گندم وغیرہ کاشت کرتے ہیں جو […]

Continue Reading

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔۔ اکبر علی

  پاکستان کے قیام  سے لے کر اب تک ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ہمیشہ ابتری کا شکار رہی ہے۔ پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبے کبھی بھی وفاق سے مطمئن نہیں رہے ہیں۔ بلوچستان کے حصے میں تو خیر شروع دن سے محرومیاں ہی ہیں جب کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ثور انقلاب کے […]

Continue Reading

غزل ۔۔۔ اکبر علی

“صلصال”، خود خدا کا ہی مجھ کو ہُنر لگے “طالب” نہیں ہوں جو مجھے “بودا” سے ڈر لگے   میں ٹِک نہ پایا ایک جگہ پر ہی دائمی یہ کائنات ساری مجھے، میرا گھر لگے   ہے فکرِ سُود مجھ کو نہ اندیشہِ زیاں افکارِ نَو ہمیشہ مگر پُر خطر لگے   پایا اسے بھی […]

Continue Reading

مجھے تم سے بہت پیار ہے ۔۔۔ اکبر علی

مجھے تم سے بہت پیار ہے اکبر علی یہ ان دنوں کی یادداشت ہے جب میں پہلی کلاس میں تھا۔ میرے ماموں اور چچا نے مل کر ایک بیکری کھول رکھی تھی جہاں آرڈر پر بازار کی بہت ساری دکانوں کے لئے بسکٹس اور کیک وغیرہ بنائے جاتے تھے۔ دکانوں سے آرڈر لینا، ان تک […]

Continue Reading

ابراہیم شہید، جن کے ذکر کے بغیر کوئٹہ میں ہزارہ قوم کی سیاسی تاریخ نامکمل ہے ۔۔۔ اکبر علی

ابراہیم شہید جو گورنمنٹ ڈگری کالج کے طالبعلم تھے، انیس جولائی انیس سو چھیاسی کو کالج ہی کے احاطے میں قتل کردیے گئے۔ قاتلین، ایران نواز تنظیم، آئی۔ایس۔او کے ارکان تھے۔ اصل واقعے کی تفصیلات چشم دید گواہان، لکھ چکے ہیں لہذا تفصیل میں جائے بغیر ایک اور اہم نکتے پر کچھ کہنا چاہوں گا۔  […]

Continue Reading

کوئٹہ میں پانی کا بحران ۔۔۔ اکبر علی

کوئٹہ میں پانی کا بحران تحریر: اکبرعلی پانی کی کمی اس وقت تقریباً پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ خصوصا افریقہ اور ایشیا کے باشندوں کو پانی کی قلت کا سب سے زیادہ سامنا ہے اور بدقسمتی سے انھی براعظموں کے عوام ہی پانی کا سب سے زیادہ ضیاع کرتے ہیں۔  پانی کی قلت […]

Continue Reading

کوئٹہ، آئندہ بیس سالوں میں ہم کہاں ہوں گے؟ ۔۔۔ اکبر علی

کوئٹہ، آئندہ بیس سالوں میں ہم کہاں ہوں گے؟ اکبر علی کوئٹہ نے اپنی معلوم شہری تاریخ میں بدترین بد امنی کا بدترین دَور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دیکھا ہے۔ نئے میلینیم اور نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر کے قلب اور بازار کی گلیوں میں جس طرح ہزارہ عوام کا […]

Continue Reading