آج یکم جنوری 2024(قبل مسیح) کادن ہے اور ہم زرعی انقلاب عہد کے بیچوں بیچ غلام دارانہ نظام میں رہ رہے ہیں۔ یہاں محض پیٹ کی آگ بجھانے کی عوض ہم غلاموں سے زرعی زمینوں، کانوں یا دستکاری کے کارخانوں میں بیگار لئے جاتے ہیں اور اگر کسی آقا کی دسترس میں درج بالا اثاثے نہیں، تو وہ ہمیں گدھوں، خچروں اور گھوڑوں کی طرح دوسروں کے ہاں کرایوں پر چلاتے ہیں اور خود عیاشیاں کرتے ہیں۔ ہمارا جینا اور مرنا آقاؤں کے مزاج پر انحصار کرتا ہے۔ …
Author: فدا حسین
شطرنج کے موجد کا مخفی و مکتوم شاطرانہ مطالبہ ۔۔۔ فدا حسین
کہتے ہیں، کہ چونسٹھ(64) خانوں والا شطرنج کا کھیل بہت قدیم ہے اور اسے ایجاد کرنے والا شخص نہایت ذہین و فطین اور شاطر دماغ کا مالک تھا۔ جب اس نے اس کھیل کو مکمل طور پر ترتیب دیا، تواسے بادشاہ کے حضور پیش کیا اور بادشاہ سمیت اس کے وزیروں اور مشیروں کو بھی شطرنج کھیلنا سکھا دیا۔ دلچسپ کھیل سیکھنے کے بعد بادشاہ نے شطرنج اتنا پسند کیا، کہ اس نے اس کا کھیل کو ایجاد کرنے والے شخص کوفی الفور منہ مانگا انعام دینے کا فرمان جاری…
وجدان، الہام یا چھٹی حس کیا ہے؟۔۔۔ فدا حسین
شعور کے تین مرحلے ہیں: شعور، تحت شعور اور لا شعور! روزمرہ کی افراتفری میں ہم موقع بر محل شعورسے کام لیتے ہیں۔ مظاہر میں جو جو واقعات نمودار ہوتے ہیں انہیں شعور، تحت شعور کے حوالے مسلسل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تحت شعور کا کام ہے، کہ جو جو معلومات لاشعور میں پہلے سے موجود ہیں، انہیں وہ سلب/Delete کرتا جاتا ہے، جبکہ نئی معلومات کو وہ اپنے پاس محفوظ کرکے اس کی کاپی لاشعور کے خانے میں پھینک دیتا ہے۔ لاشعور میں وہ معلومات زندگی بھر محفوظ رہتے…
قوم کسے کہتے ہیں؟ ۔۔۔ فدا حسین
4 اپریل2021ء بروز اتوار شام پانچ بجے، ہم موسیٰ کالج میں ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مصباح لٹریری فیسٹیول میں پروفیسر ہود بھائی کی نشست میں شریک ہونے گئے۔ نشست میں بحث کا عنوان تھا ”قوم کسے کہتے ہیں؟“ انہوں نے لفظ ”قوم“ کی بابت نہایت خوبصورت توضیحات پیش کیں اور یہ دلچسپ دورانیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا، جن کے جوابات ہود بھائی نے نہایت حوصلے اور اپنے علمی نچوڑ سے دیئے۔ انہوں نے یہ…
غیر ضروری دستور کا نعم البدل ۔۔۔ فدا حسین
آج سے چالیس، پینتالیس سال قبل، ہزارہ لکڑہارے پہاڑوں سے کانٹے دار جھاڑیاں (خاشہ) اور لکڑیاں کاٹ کر محلوں میں فروخت کرکے اپنا گزربسر کرتے تھے۔ یہ سوسائٹی کے انتہائی غریب لوگ تھے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے، کہ ان کے بوسیدہ ملبوسات میں مختلف دوسرے کپڑوں کے پیوند لگے ہوتے تھے جن میں ان کے کپڑوں کا اصل رنگ مدغم ہوتا نظر آتا تھا۔(یعنی: کچھ پتہ نہیں چلتا تھا، کہ ان کے کپڑے کا اصل رنگ کونسا ہے) یہ لوگ بلاناغہ ہر شام مختلف گلیوں…
شرفو کاکا، جا اس سائیکل کی باٹلی بنا کے لے آ ۔۔۔ فدا حسین
کاغذ کے اس اشتعال انگیز پرزے کو دیکھ کر ایک پرانی انڈین فلم ”جانی واکر“ کی یاد تازہ ہو گئی۔ جس کا ہیرو اتفاق سے ”جانی واکر“ ہی تھا۔ اس فلم میں جانی واکر کا کردار ایک شرابی کا تھا جو ہر وقت نشے میں دھت رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خاندان کا کوئی بھی فرد اس پر ایک روپیہ اعتبار نہیں کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس کے بڑے بھائی، بھابی اور بھتیجے(جس کی عمر لگ بھگ چھ یا سات سال ہوگی) کو مہینہ بھر کے لیے مجبوراً…
تصور و تخیل ۔۔۔ فدا حسین
٭ فلسفے کا بنیادی سوال: ”ہستی سے شعور کے؛ مادے سے، فطرت سے تفکر کے رشتے کے بارے میں سوال۔“ (یعنی: مادہ قدیم ہے یا شعور؟) اس بنیادی سوال کے تعاقب میں دو طرائق افکار کے ٹکراؤ سامنے آتے ہیں جو آج تک برسرپیکار ہیں۔ عینیت پرستی اور مادیت پسندی! ان میں سے عینیت پرستی کو ”خیال پرستی یا تصوریت“ بھی کہتے ہیں جو افلاطون کی عالم امثال پر تکیہ کرتی ہے۔ افلاطون مادی دنیا کی ہر شے کو عین بعین اپنے عالم امثال کی تصویر بتاتا ہے۔ وہ…
کسی سماج میں طرزِ تحریر یا زبان کا کردار…. فدا حسین
٭ ”جو لبوں پر بے اختیار آئے ’لہجہ‘ اور جو تحریر میں بے اختیار آئے ’زبان‘ کہلائے۔“ یادداشت تاریخ ہمیں بتاتی ہے، کہ انسان نے لکھنا پڑھنا لاکھوں سال کی تگ و دو کے بعد 4800 سال قبل سیکھ لیا تھا۔ تب سے اب تک مختلف خطوں کی مختلف مہذب اقوام نے صدیوں کی صدیاں دماغ سوزیوں میں گذارنے کے بعد اپنی آسانی کے لیے اپنی ہی ثقافتی علامتوں کی تجریدات پر محض انہیں ترتیب ہی نہیں دیا، بلکہ بوقلمونی اصوات پر انہیں استوار بھی کیا۔ انہوں نے اب…
نذر اللہ، نیازِ حسین(ع) ۔۔۔ فدا حسین
* سفید پوش ہزارہ گی معاشرے کی معاشی حالت روزبروز نہایت پتلی ہوتی جارہی ہے۔ بظاہر سفیدپوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اور اپنی خودداری کو گھائل کیے بغیر ہم کسی کے سامنے اپنا دستِ سوال دراز نہیں کر سکتے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کی درجنوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ خاص طور پر جو زمانے پر افشائے راز ہوچکی، میری اس بہن کی غربت و بیچارگی ہے جسے چند سال قبل کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان نے شاید دھکے دے کر گھر سے نکال…
جبلتیں اور اطوار و عادات ۔۔۔ فدا حسین
بشمول انسان تمام حیوانات میں یکساں پائی جانے والی خلقی صفات و خصوصیات؛ یا غیر ارادی مورثی تحریکِ حیوانی جس میں تبدیلی ناممکن ہو ”جبلت“ کہلاتی ہے۔ بنیادی طور پر جس میں ضرورت کے مطابق خوراک حاصل کرنا؛ تولیدِ نسل کے لیے جنسی لحاظ سے جفتی کرنا اور سونا اور جاگنا شامل ہے۔ خلقی جبلتوں سے ماورا ماں باپ کے سکھائی گئی حکمت عملیوں سے استفادہ اور سطحِ عقل و شعور پر انحصار کرتے ہوئے انسان یا حیوان مختلف طرائق سے اپنی جبلتوں کی پیاس بجھا سکتا ہے، جنہیں…