کچھ UNFINISHED STORIES کے بارے میں

میں اس لحاظ سے اپنے آپ کو  بہت ہی خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میرے ارد گرد ہمیشہ پیار اور محبت بانٹنے والے دوستوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ یہی دوستیاں میری زندگی بھر کی کمائی اور یہ دوست میری زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہیں۔ تین سال قبل مجھے اپنے اردو مضامین کو “قصہ ہائے ناتمام” کے نام سے کتابی شکل میں شائع کروانے پر پروفیسر عبدالرحیم چنگیزی نے آمادہ کیا جس کے لیے فنڈز ہمارے دوست علی مدد نے مہیا کئے۔ کتاب کی کامیاب تقریب رونمائی اظہار…

لوٹ مار  کریں آپ اور سزا بھگتیں ہم! ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

دروغ برگردن راوی، ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی لابی میں آئی ایم ایف کی ایک تین رکنی ٹیم آپس میں محو گفتگو تھی۔ ان کے سامنے ٹیبل پر کچھ فائلیں رکھی تھیں۔ ٹیم کی سربراہ بار بار اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتی اور دوبارہ گفتگو میں مصروف ہو جاتی۔ انہیں پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کا انتظار تھا جس سے پاکستان کو دیے جانے والے قرضے کی نئی قسط سے متعلق مذاکرات ہونے تھے۔ تبھی ہوٹل کے احاطے میں لگژری گاڑیوں کا ایک قافلہ داخل ہوا۔…

ذرا تصور کریں ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

٭ صبح کے سات بجے ہیں۔ آپ گہری نیند میں ہیں جب آپ کے موبائل فون کا الارم بجنے لگتا ہے۔ آپ جاگ جاتے ہیں اور پاس ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل ڈھونڈ کر اس کا الارم بند کر دیتے ہیں۔ پھر آپ آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکلتے ہیں اور باورچی خانے کی طرف لپکتے ہیں۔ کیتلی میں پانی بھر کر اسے ہیٹرپر رکھتے ہیں اور ہیٹرآن کر دیتے ہیں۔ ہاتھ منہ دھو کر آپ دوبارہ کمرے میں آتے ہیں،  بستر ٹھیک کرکے اپنا موبائل آن کرتے ہیں اور…

کورونا وائرس،  پاکستان  اور  بدلتے سماجی رویے ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

دسمبر 2019 میں جب چین کے مرکزی صنعتی شہر ووہان میں اچانک ایک پراسرار بیماری پھوٹ پڑی تو اکثر لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ بیماری جلد ہی چینی سرحدوں سے نکل کر ایک خطرناک وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔ چین کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے جس کی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن شاید پاکستانیوں نے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ جب چائنا…

کورونا وائرس، ایک امتحان ۔۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

کورونا وائرس کے خوف نے ہماری سماجی زندگی کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ خوف اتنا گہرا ہے کہ اگر ایک طرف دعاؤں پر یقین رکھنے والے حفاظتی ماسک کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں تو دوسری طرف پیاز اور ادرک کو کورونا وائرس کا شافی علاج قرار دینے والے بھی اس خوف سے جان نہیں چھڑا پا رہے۔ کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ایران سے واپس آنے والے زائرین اور کاروباری حضرات کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ مجھے نہیں…

سنگسار ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

اس کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔پہلا پتھر ٹھیک اس کی پیشانی پر پڑا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے پیشانی سے فوارہ پھوٹ پڑا ہو۔ خون بھل بھل نکل کر ندی کی صورت اس کی آنکھوں میں اترنے لگا۔ لیکن اس سے پہلے کہ اس کی چیخ کی بازگشت ختم ہوتی اس پر پتھروں کی بارش ہونے لگی۔ اس کے چہرے اور سر سے درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو جنبش دینے کی کوشش کی تاکہ اپنے بازوؤں کا حصار بنا کر اپنے چہرے کو…

قصہ ہائے ناتمام۔ ایک تعارف ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

۔ مذکورہ کتاب میں تیس ایسے مضامین شامل ہیں جو میں نے 2013 اور 2015 کے درمیانی عرصے میں لکھے۔ ان میں سے کئی مضامین ڈان اردو سمیت بعض دیگر میگزینز پر شائع بھی ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک بھر میں وحشت کا راج تھا اور کوئٹہ شہر کی سڑکیں روز ہزارہ مرد، خواتین اور بچوں کے خون سے لال ہو رہی تھیں۔ ان مضامین میں ان اور ان جیسے دیگر مقتولین کا ذکر ہے اور یہ کتاب منسوب بھی انہیں مقتولوں کے نام  ہے جنہیں شہید قرار…

ہے خبر گرم ان کے آنے کی ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

ہے خبر گرم ان کے آنے کی تحریر: حسن رضا چنگیزی گرما گرم خبر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے شہر جدہ شریف میں ایک بہت بڑا موسیقی کا بین الاقوامی کنسرٹ ہونے جا رہا ہے جس میں ہسپانوی نژاد امریکی گلوکارہ نکی مناج، برطانوی گلوکار لیام پین اور کورین پاپ گروپ کے علاوہ بعض دیگر بین الاقوامی فنکار اپنی دلربا اداؤں اور ہوش ربا فنون کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جس نے پوری دنیا خصوصا مسلمان ممالک کے باسیوں کو ورطہ…

ہزارہ کلچر ڈے ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

ہزارہ کلچر ڈے تحریر:  حسن رضا چنگیزی یہ 1987-88 کی بات ہے۔ ان دنوں میں بلوچستان یونیورسٹی کا طالب علم اور ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا صدر تھا. ہمارا دفتر تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کی بالائی منزل پر تھا۔ تنظیم اور ایچ ایس ایف اجتماعی امور سے متعلق سرگرمیاں عموماً مشترکہ طور پر انجام دیا کرتی تھیں جن میں سیمینارز، ہزارہ گی تھیٹراورموسیقی کی محافل کا انعقاد بھی شامل تھا۔ انہیں دنوں دونوں تنظیموں نے باہمی اشتراک سے ہزارہ گی ثقافت سے جڑی بعض دستیاب اشیاء کی تین روزہ نمائش…

چار دیواری ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

چاردیواری حسن رضا چنگیزی ان چاروں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا۔  ان میں سے تین سبزی فروش تھے جو ہزارہ قبرستان کے ایک کونے میں ٹھیلے لگاکر سبزیاں فروخت کرتے تھے۔ ان کے ٹھیلے آس پاس تھے اس لیے ان کی آپس میں کافی جان پہچان ہوگئی تھی۔ وہ تینوں روز  پو پھٹنے سے پہلے گھر سے نکلتے اور کوئی گاڑی کرایے پر لیکر شہر کے دوسرے کونے میں واقع سبزی منڈی چلے جاتے۔ وہاں سے سبزیاں خرید کر اور انہیں گاڑی میں لاد کر وہ دوبارہ گھروں کو…