بھرم ۔۔۔ زہرا علی

ہوا میں خنکی کا فی بڑھ گئی تھی ،  وہ رکشے میں بیٹھا کسی  متوقع  مسافر کے انتظار میں سردی سے سکڑ رہا تھا۔  ساتھ ساتھ کانوں میں  ہیڈ  فون لگائے  گانوں کی دھن پر  باہر کے سرد موسم سے لڑنے کی ناکام کوشش بھی کر رہا تھا۔  اس  مصروف رکشہ اسٹینڈ پر شازونادر  ہی کوئی   خالی رکشہ مل پاتا، لیکن شاید آج سردی کے سبب لوگ گھروں میں ہی دبک کر چھپ گئے تھے۔  کافی انتظار کے بعد رکشے کے باہر رکتے قدموں نے  اس کا  دھیان گانوں سے…

میں ایک نئی موت مرا … زہرا علی

  نعرہ تکبیر……اللہ اکبر نعرہ رسالت……یا رسول اللہ ﷺ نعرہ حیدری……یا علیؑ۔ شہادت شہادت……سعادت سعادت۔   نعروں کی گونج سے جب میری آنکھ کھلی، تو میں نے محسوس کیا کہ میرا پورا جسم کسی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میری ناک میں روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ٹھونسے گئے تھے۔ یہ کس نے کیا تھا؟ اس طرح تو میرا دم گھٹ جائے گا۔ ایک شدید ہڑبڑاہٹ میں، میں نے ہاتھ پیر کھولنے اور ناک میں ٹھونسی وہ روئی نکالنے کی بہت کوشش کی؛…

یک بام و دو ہوا ۔۔۔ زہرا علی

٭ صحن کے اس سایہ دار دیوار کے ساتھ ہی صاف ستھری سی دری بچھائے، چار پانچ بچوں کو تھوڑے فاصلوں پر بٹھا کر رقیہ انہیں پڑھانے میں مصروف تھی۔ شام کے غالباً پانج بج رہے تھے، اور ابھی مسلسل تین گھنٹوں تک ان بچوں کے ساتھ کام کرنا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر چارپا ئی پر اس کی امی بیٹھی سویٹر بُن رہی تھی، تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد وہ نظر اٹھا کر رقیہ کی طرف دیکھتی تو اُن کا جی کھٹکنے لگتا۔ چار سال پہلے رقیہ کی شادی…

حق تلفی ۔۔۔ زہرا علی

  آج آٹھ مارچ ہے۔  خواتین کا  عالمی دن۔  موقع کی مناسبت سے ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں  ناجیہ سے ملاقات ہوئی۔ ناجیہ اور میں  نے چھ سال پہلے  کالج میں داخلہ لیا تھا لیکن کالج کے دوسرے ہفتے ہی  کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر  اس نے کالج آنا بند کر دیا اور ہمارا رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ تقریب میں شرکت کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ ہماری  اپنی کمیونٹی  نے یہ تقریب منعقد کی تھی جو اس سے پہلے کئی سالوں…

پیڑ سے بچھڑی شاخ، افسانہ ۔۔۔ زہرا علی

٭ ایک سرکاری ملازم کی معمولی تنخواہ میں نیاز علی اور ان کی مرحومہ بیوی نے خون پسینے سینچ کر یہ مکان خریدا تھا- تین کمروں اور کشادہ سے ایک صحن پر مشتمل اس گھر میں دونوں میاں بیوی سالوں تک اکیلے رہے، جب تک ان کے آنگن میں بچوں کی کلکاریاں نہ گونجیں۔ صحن کے بیچوں بیچ بر گد کا وہ اکلوتا پیڑ ہمیشہ سے وہاں اس گھر کے ایک فرد کی مانند کھڑا تھا۔ قدرتی خوبصورتی سے بھر پوروہ گھنا اور تناور درخت ایک مہربان اور محبت سے…

وہی لڑکی … زہرا علی

 وہی لڑکی    زہرا علی گلی کے نکڑ پر چائے کا وہ پرانا ہوٹل اُن دوستوں کی پسندیدہ  جگہ تھی۔   شام کی چائے وہ روز وہی پیتے تھے۔   ان  دوستوں کے  گروپ کی خاصیت یہ تھی کہ وہ جب بھی اکھٹے ہوتے ان کے پاس زیر بحث ایک سے بڑھ کر ایک  موضوعات ہوتے۔  سماجی، سیاسی، ادبی، مذہبی یا کسی بھی ہلکے پھلکے مو ضوع  پر بحث و  مباحثے سے وہ کبھی نہیں کتراتے تھے۔  مظہر اور مدثر کے علاوہ باقی سارے دوست مختلف گلی محلّوں سے آتے تھے۔  اُن …

شکوے سے شُکر کا سفر ۔۔۔ زہرا علی/ دوسری اور آخری قسط

افسانہ شکوے سے شُکر کا سفر  تحریر: زہرا علی  دوسری اور آخری قسط وقت گزرتا رہا لیکن ہمارے گھر کا ماحول نہ بدلا۔ میں بڑی ہوکر دادی کی آنکھوں میں اور زیادہ کھٹکنے لگی تھی۔  دادی نے اُس گھر میں میرا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اُن کی چبھتی نگاہوں اور زیر لب بد دعاؤں کے ڈر سے میں سارا دن خود کو کمرے میں  بند کر کے پڑی رہتی۔ اگر کھبی غلطی سے ہم دونوں کا آمنا سامنا ہوبھی جاتا تو اُن کی نظروں میں اپنے لیے شدید نفرت…

شکوے سے شُکر کا سفر ۔۔۔ زہرا علی 

افسانہ شکوے سے شُکر کا سفر  تحریر: زہرا علی  پہلی قسط “ای بابئی خدا نجات بدہ از دست از تو شُملی، تو رسوا ، کد ایقس زبان درازی از تو ، تو دہ دو روزخاد سر خو سفید کدہ امادی پس از خانے شوئی خو۔  ای بابئی تور ہ چپ بوبرہ انگہ”۔  یعنی “اللہ معاف کرے، جتنی گز بھر کی تمہاری لمبی زبان ہے، تم تو دو دن بھی کسی کے ساتھ ٹک کرنہیں رہ پاؤگی اور شادی کے دوسرے دن ہی واپس بھیج دی جاؤگی!”  دادی کے یہی الفاظ…

رسی کی گانٹھ ۔۔۔ زہرا علی

رسی کی گانٹھ زہرا علی آخری قسط دعوت میں دادی اور فاطمہ سب سے الگ تھلگ کونے میں ہی بیٹھی رہیں۔ فاطمہ نے  پہلی بار کسی کو دلہن بنتے دیکھا تھا۔ وہ دلہن کسی پری کی مانند خوبصورت لگ رہی تھی۔ کیا کوئی اتنی پیاری بھی ہو سکتی ہے!؟ جب اس نے یہ سوال دادی ماں سے پوچھا تو دادی ماں  نے جواب دیا “ناں بیٹا، میری فاطمہ تو دنیا کی سب سے حسین  دلہن بنے گی۔ کیونکہ تیرے من کی پاکیزگی تیرے چہرے  کا نور بن کر چمکے گی”۔ …

رسّی کی گانٹھ ۔۔۔ زہرا علی

رسّی کی گانٹھ زہرا علی قسط اول مولوی غلام حسین کے ہاں شادی کے دوسرے برس ہی اللہ کے  فضل سے رحمت پیدا ہوئی تو دادی ماں نے کنیز فاطمہ نام رکھا۔ چھوٹا سا خاندان خود مولوی صاحب کے علاوہ ان کی زوجہ اور ماں پر مشتمل تھا۔ پورا خاندان سخت دین دار تھا اور دنیا اور دنیاوی تعلیم سے خائف بھی۔ یہی وجہ ہے کہدادی نے اپنے  اکلوتے بیٹے کو بھی دینی تعلیم ہی دلوائی۔ پوتی کی پیدائش پر ڈاکٹرنی کے بجائے گھر پر ہی دیسی ٹوٹکوں اور دائی…