ہزارہ ٹاؤن! حکومتی مراعات سے محروم ۔۔۔ عباس حیدر

٭ ہزارہ ٹاون کوئٹہ کے مغرب میں واقع ہے جہاں کی کل آبادی چھ سے سات لاکھ بتائی جاتی ہے جس کی اکثریتی آبادی ہزارہ اور اس کے ساتھ بلوچ،  پشتون،  پنجابی اور گلگتی و  بلتستانی دوستانہ ماحول میں رواداری کے ساتھ رہتے ہیں۔  سات لاکھ کی کثیر آبادی میں ناکافی صرف دو سرکاری سکولز ہیں ایک لڑکیوں کے لئے دوسرا لڑکوں کے لئے۔  دونوں اسکول ہزارہ ٹاؤن کے ایک کونے جنوب مشرق میں واقع ہیں۔  اگر کوئی طالب علم ہزارہ ٹاون کے شمال سے سکول جانا چاہے،  تو اسے…

صحرا کا مسافر ۔۔۔ عباس حیدر

  صحرا کا مسافر ہوں، ہرطرف تپتی ریت کے سوا اور کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ شدت پیاس سے میرا گلا سوکھ رہا ہے، پانی کی تلاش میں صحرا کی خاک چھان رہا ہوں، کبھی یہاں تو کبھی وہاں دیوانہ وار بھٹک رہاہوں۔ اپنی خشک زباں سے اپنے لبوں کو تر کرنے کی ناکام کوشش میں لگا ہوں۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے ہیں اور ان میں سوزش محسوس کر رہا ہوں۔ جہاں پاؤں رکھتا ہوں تپتی ریت میں دھنس جاتا ہے۔ اپنے سر پر بھوکے مردارخور بوڑھے گدھوں کو…

خواب خرگوش ۔۔۔ عباس حیدر

ہماری بد نصیبی دیکھئے کہ جس درد کو دوسروں کا درد کہہ کر کبھی ہم لاتعلق بن کر بیٹھے رہے، آج اس سے بھی بد تر درد، افسردگی اور غم انگیز لمحہ ہمارے ہی گریبان سے لپٹ چکا ہے۔ ہم نے کبھی جن لوگوں کے دکھ درد میں برابر شریک ہونے اور محض الفاظ  کا سہارا لینے کے بجائے عملی میدان میں اترنے کی کوشش یا زحمت ہی نہیں کی، آج انہی لوگوں کے آگے جھولی پھیلائے مدد کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے “بہ…

جائیں تو جائیں کہاں؟ ۔۔۔ عباس حیدر

میرے کچھ دوست مجھے ہمیشہ دکان میں بیٹھے رہنے کا طعنہ دیتے ہیں۔ خود تو بڑے سخی لوگ ہیں کبھی سنوکر کلب اور کبھی گیمنگ زون میں جاتے ہیں۔ مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے کئی باتوں پہ اختلاف ہوتا رہتاہے۔ ہم بعض اوقات ایک دوسرے کی باتوں سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔ کبھی وہ میری بات مان لیتے ہیں تو کبھی میں ان کی بات مان لیتا ہوں۔ انہی دوستوں میں سے ایک دوست ایک بار کسی سنوکر کلب میں بیس ہزار روپے( ۲۰۰۰۰) ہار گیا۔ جب…

ہزارہ ٹاؤن کا کچرہ ۔۔۔ عباس حیدر

ہزارہ ٹاؤن کا کچرہ عباس حیدر عید کا تیسرا دن تھا۔ ہزارہ ٹاؤن میں متعدد گھروں کے سامنے کچرے سے بھرے تھیلے پڑے ہوئے تھے جن میں موجود قربانی کی آلائشوں سے شدید بد بو اٹھ رہی تھی۔ کچرہ اٹھانے والے تین دن سے نہیں آرہے تھے یوں بد بو کی وجہ سے گلیوں میں گھومنا پھرنا مشکل ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے ہزارہ ٹاون کا یہ حال صرف عید کے دنوں میں ہی ہوتا تھا جبکہ باقی دنوں میں یہاں کے مکین اپنی مدد آپ کے تحت کوڑا…

ایک تھا لڑکا ایک تھی لڑکی ۔۔۔ عباس حیدر

ایک تھا لڑکا ایک تھی لڑکی تحریر: عباس حیدر وہ ایک غیرتعلیم یافتہ مگر طبیعتاً نہایت بھولا لڑکا تھا۔ حالانکہ وہ لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا مگر اپنا ہدف نرم و نفیس انداز میں سمجھانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ عنفوان شباب میں وہ کسی لڑکی کو چاہنے لگا تھااور لڑکی بھی اُسے چاہتی تھی۔ لڑکی متواتر اسے محبت نامے لکھتی مگر وہ نہ ان محبت ناموں کو پڑھ سکتا تھا، نہ کوئی جوابِ نامہ لکھ سکتا تھا اور نہ ہی اس کی چاہت سے دستبردار ہوسکتا تھا۔ ایک…

اِک ناگہاں آندھی چلی ۔۔۔ عباس حیدر

اِک ناگہاں آندھی چلی تحریر: عباس حیدر جس زمانے میں ہم سکول یا کالج جاتے تھے، ساری دنیا سے بے نیاز بڑی بے فکری سے کبھی بس تو کبھی نیم جان سائیکل کے ذریعے جایا کرتے تھے۔ نہ کوئی روکنے والا اور نہ ہی کوئی ٹوکنے والا موجود ہوتا۔ جہاں دل چاہتا ہم وہاں جایا کرتے تھے۔ کبھی دوستوں کے ساتھ، تو کبھی اکیلے پورے کوئٹہ کا چکر لگا آتے۔ ہمیں نہ تو کسی قسم کا خوف محسوس ہوتا اور نہ ہی کوئی انجانا ڈر۔ مختلف زبان بولنے والوں سے…

ماں میں کہاں جاؤں!؟ ۔۔۔ عباس حیدر

ماں میں کہاں جاؤں!؟  عباس حیدرماں میرے کاندھے لاشیں اٹھاتے اٹھاتے کمزور ہوچکے ہیں ۔  ماں میری عمر بیس سال ہے  لیکن میں لگتا چالیس  سال کاہوں۔  ماں میں تنہا ہوچکا ہوں،  ماں میں نے ہمیشہ دوسروں کا ساتھ دیا ہے لیکن دوسرے میرا ساتھ کیوں نہیں دے رہے؟ ماں میں کہاں کھیلوں؟  ماں مجھے آگے بڑھنا ہے۔ ماں زندگی تلخ ہوچکی ہے۔ ماں مجھے اس قبرستان سے نکلنا ہے۔ یہاں جنگل کا دستور ہے۔ ماں یہاں انسانیت   کا دستور نہیں چلتا۔  ماں میں ذہنی کوفت میں مبتلا ہوں۔  یہ…

میں کیا جواب دوں؟ ۔۔۔ عباس حیدر

میں کیا جواب دوں؟ عباس حیدر ہر تین سال کے بچے کے ذہن میں کسی نہ کسی چیز کے بارے میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے اورانہی سوالوں کے ساتھ عمر کی حد اور ذہن روزافزوں پختہ ہونے لگتا ہے۔  “پاپا یہ کیا ہے ؟ بچے سکول کیوں جاتے ہیں اوروہ وہاں جاکر کیا کیاکرتے ہیں ؟ پاپا آپ مجھے پاپڑ کھانے سے کیوں روک رہے ہو ؟ پاپا آپ ہر روز صبح سے شام تک کہاں جاتے ہو ؟ پاپا فلاں کے پاس گاڑی ہے آپ کے پاس کیوں…