لوٹ مار  کریں آپ اور سزا بھگتیں ہم! ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

دروغ برگردن راوی، ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی لابی میں آئی ایم ایف کی ایک تین رکنی ٹیم آپس میں محو گفتگو تھی۔ ان کے سامنے ٹیبل پر کچھ فائلیں رکھی تھیں۔ ٹیم کی سربراہ بار بار اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتی اور دوبارہ گفتگو میں مصروف ہو جاتی۔ انہیں پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کا انتظار تھا جس سے پاکستان کو دیے جانے والے قرضے کی نئی قسط سے متعلق مذاکرات ہونے تھے۔ تبھی ہوٹل کے احاطے میں لگژری گاڑیوں کا ایک قافلہ داخل ہوا۔ ان لمبی سیاہ رنگ کی بیش قیمت گاڑیوں کو آگے اور پیچھے سے پولیس کی متعدد گاڑیاں بدرقہ کر رہی تھیں۔ جیسے ہی یہ گاڑیاں ہوٹل کے احاطے میں رکیں، پولیس کے مستعد مسلح جوان تیزی سے اپنی گاڑیوں سے اترے اور لگژری گاڑیوں کے گرد حلقہ بنا کر کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں سیاہ گاڑیوں کے دروازے بھی کھلنے لگے جن کے اندر سے برینڈ ڈ سوٹوں میں ملبوس، قیمتی برینڈڈ جوتے پہنے اور آنکھوں پر برینڈڈ چشمے لگائے کچھ افراد نیچے اترنے لگے۔ ان کے لباس سے غیر ملکی پرفیوم کی خوشبوئیں پھوٹ رہی تھیں۔ نیچے اتر کر انہوں نے نخوت سے اپنی ٹائیوں کی گرہیں درست کیں جبکہ کچھ نے ہاتھوں سے اپنے بال سنوارے پھر ہوٹل کے ایک باوردی ملازم کے اشارے پر لابی کی طرف قدم بڑھادیے۔ انہیں آگے بڑھتے دیکھ کر کچھ دوسرے افراد بھی ان کے پیچھے ہولیے جن کے ہاتھوں میں رنگ برنگی فائلیں تھیں۔ وفد کے اراکین لابی میں داخل ہوئے تو انہیں یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ وہ جن سے ادھار مانگنے آئے تھے انہوں نے عام روزمرہ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ وفد کے ایک رکن نے تو ایک عام سی جینز اور شرٹ پہن رکھی تھی۔ مذاکرات شروع ہوئے تو ایک مرحلے پر آئی ایم ایف کے وفد کی سربراہ نے سوال پوچھا کہ اگر ہم قرضے کی نئی قسط جاری کرتے ہیں تو کیا گارنٹی ہوگی کہ آپ کا ملک وقت پر سود سمیت قرضہ لوٹا دے گا کیونکہ ریکارڈز کے مطابق آپ پہلے ہی بہت سارا قرضہ لے چکے ہیں لیکن آپ وقت پر ان کی ادائیگی نہیں کر سکے؟

“ہم نے اس بار سخت معاشی اقدامات اٹھانے کی ٹھان لی ہے۔ ہم پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں کافی حد تک بڑھا رہے ہیں۔ ہم نے عوام پر متعدد نئے ٹیکسز لگانے کا بھی اصولی فیصلہ کرلیا ہے ہمیں یقین ہے کہ اس بار ہم وقت پر قرضہ سود سمیت ادا کر دیں گے” پاکستانی وفد میں شامل ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایک فائل خاتون کے سامنے رکھتے ہوئے جواب دیا جسے سن کر خاتون کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پاکستانی وفد کے اراکین پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کے حکمران اور بیوروکریٹس اپنی شاہ خرچیوں کو لگام دیں۔ کیونکہ آپ کی لگژری گاڑیوں، آپ کے قیمتی لباس اور آپ کے پروٹوکول کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آپ قرضہ لینے نہیں بلکہ دینے آئے ہیں۔

خیر یہ تو راوی کی روایت ہے جو جھوٹی بھی ہو سکتی ہے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روایت سچی ہو بس راوی نے کچھ مرچ مسالہ لگا کر بیان کردیا ہو لیکن اس بات سے ہرگز انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے حکمرانوں اور افسر شاہی کے جو ٹور ہیں ان کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرتے ہی بیرون ملک سے سینکڑوں کی تعداد میں نئی قیمتی گاڑیاں منگوائی جاتی ہیں جنہیں مختلف وزارتوں اور محکموں میں بانٹ دیا جاتا ہے جو بعد میں حکمرانوں اور بڑے افسروں اور ان کے ذریعے ان کے چمچوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے استعمال میں چلی جاتی ہیں۔ مال غنیمت میں   ملنے والی ان گاڑیوں کا جس بے رحمی سے استعمال ہوتا ہے وہ سب پر عیاں ہے جبکہ ان گاڑیوں میں استعمال ہونے والا تیل بھی سرکار مہیا کرتی ہے۔ دوسری طرف پہلے سے کھٹارا ہونے والی سرکاری گاڑیوں کو نیلامی کے ذریعے اونے پونے بیچ دیا جاتا ہے۔حکمران اور سرکاری طبقات  کی شاہی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش پر  سالانہ جتنے اخراجات ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جنہیں کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے یا کسی امیر ملک سے قرضہ یا بھیک مانگنے کی ضرورت ہے۔

2019 کی بات ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ کے خصوصی جہاز کی مرمت پر محض چار سالوں کے دوران 17کروڑ روپے خرچ کر دیے گیے۔ اس کے باوجود 2013 میں وزیر اعلیٰ کے لئے ایک نیا طیارہ خریدا گیا جس کی مرمت پرآئندہ چھ سالوں میں 16 کروڑ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی۔ اور یہ پچھلے دنوں کی خبر ہےکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے “اپنا” پرانا طیارہ جسے مقامی صحافی رکشہ کہا کرتے تھے، آزاد کشمیر کے وزیر اعلیٰ کو تحفے میں دان کر دیا۔

یہ پاکستان کے مبینہ طور پر سب سے غریب صوبے بلوچستان کی کہانی ہے جہاں پچھلے دنوں ایک بڑے سرکاری افسر کو اربوں روپوں کی کرپشن کے الزام میں 63 کروڑ روپے جرمانہ اور 7  سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ان کے اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں “بحق سرکار” ضبط کرلی گئی تھیں۔ چند سال قبل بھی اسی “غریب” صوبے کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے گھر میں بنی خفیہ الماریوں اور چھت پر بنی پانی کی ٹینکی سے اربوں  روپے برآمد ہوئے تھے جنہیں گنتے گنتے برقی مشین بھی تھک گئی تھی۔ یہ تو چند وہ مثالیں ہیں جو ہماری نظروں سے گزری ہیں ورنہ کوئی بھی پتھر اٹھا کر دیکھ لیں نیچے سے لوٹ مار کی کوئی نہ کوئی کہانی نکل آئے گی۔

ترقیاتی فنڈز کے نام پر عوامی دولت کی جس طرح لوٹ مار ہوتی ہے اس کی تفصیلات بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ ایک اور راوی کے بقول جام کمال کے دور میں صوبائی اسمبلی کے بعض منظور نظر اراکین کو سالانہ تین ارب روپوں کے ترقیاتی فنڈز جاری کئے گئے۔  اگر معمولی بھی تفتیش کی جائے تو بہ آسانی معلوم ہو جائے گا کہ متعلقہ حلقوں میں ان رقوم کا 10 فیصد حصہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ اب باقی نوے فیصد رقم کہاں گئی؟ اس کا سراغ لگانا بھی چندان مشکل کام نہیں کیونکہ راوی کے بقول ان “ترقیاتی رقوم” کا تقریباً 47 فیصد حصہ کمیشن کے نام پر وزرا، اراکین اسمبلی، بیوروکریسی اور سرکاری دفاتر کے ماتحت عملے کی جیبوں میں چلاجاتا ہے۔ بعد میں رہی سہی کسر ٹھیکہ دار اور اس کا عملہ پوری کر دیتا ہے یوں اربوں روپوں کے بدلے ناقص عمارات اور سڑکوں کی تعمیر کرکے عوام کی آنکھوں میں سرمہ لگایا اور سرکاری فائلوں کے صفحے کالے کئے جاتے ہیں۔ قرب و جوار کی ہی مثالیں لے لیں۔ علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں پچھلے ادوار میں اربوں روپوں کی لاگت سے درجن بھر سرکاری عمارتیں بنائی گئیں جنہیں کبھی استعمال میں نہیں لایا گیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ وہی عالیشان عمارتیں کھنڈرات اور نشئی افراد کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بلوچستان کی کسی حکومت کو یہ توفیق نہ ہو سکی کہ وہ ان عمارات، جنہیں مقامی لوگوں نے بھوت بنگلوں کا نام دے رکھا ہے، کی بحالی اور فعالی کے لیے کوئی قدم اٹھائے۔ اس کے برعکس ترقیاتی فنڈز کے نام پر دھڑا دھڑ مزید قوم جاری کی جارہی ہیں تاکہ نہ صرف اراکین اسمبلی کو وفادار رکھا جا سکے بلکہ منظور نظر افسر شاہی کا بھی پالن پوشن کیا جا سکے۔ ہمارے حکمران  اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے اورتنقید سے بچنے کی خاطر منظور نظر  میڈیا گروپس اورصحافیوں کو جس طرح بھاری بھرکم اشتہارات، مراعات، غیر ملکی دوروں اور جائیدادوں سے نوازکر ان کا منہ بند رکھنے کی سعی کرتے ہیں، وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

متاسفانہ یہ صورت حال صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ یہ لوٹ مار پورے پاکستان میں پوری شدت سے جاری و ساری ہے،  جس  کے چرچے پوری دنیا میں ہو رہے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جنوری 2022 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے  اور پچھلے دس سالوں میں پاکستان کی درجہ بندی سب سے بری سطح پر آچکی ہے۔ دوسری طرف ہمارے حکمران طبقے کا وژن ملاحظہ ہو۔ بار بار حکمران رہنے کے باجود وہ اپنے حلقہ انتخاب میں کبھی کوئی ایسی تعلیمی درسگاہ نہیں بنا سکے جہاں وہ فخر سے اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں، نہ ہی کوئی ایسا ہسپتال بنوا سکے جہاں اطمینان سے اپنا اور اپنے بچوں کا علاج کرواسکیں۔ تبھی تو ان کے بچے امریکہ اور برطانیہ کی تعلیمی درسگاہوں سے پڑھ کر آتے اور عوام پر حکمرانی کرتے ہیں جبکہ یہ خود اپنے گنج پن  کا علاج بھی باہر کے ملکوں میں کرواتے ہیں۔ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ ان تمام عیاشیوں اور لوٹ کھسوٹ کا راستہ ہموار کرنے کے لیے قیمتی کپڑوں میں ملبوس ہمارے حکمران لمبی چوڑی لگژری گاڑیوں میں بیٹھ کر اور ہاتھوں میں کشکول اٹھائےکبھی آئی ایم ایف تو کبھی کسی امیر یا سرمایہ دار ملک کے دروازے پرد ستک دینے پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ حکمرانوں کے اس کروفر اور عیاشیوں کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہےجو روز بروز مہنگائی کے بوجھ تلے دفن ہو رہے ہیں۔

 یہ سلسلہ شروع سے ہی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک حکمران اور افسر شاہی کی عیاشیوں کا راستہ نہیں روکا جاتا، جب تک کرپشن اور لوٹ مار کے کلچر کا خاتمہ نہیں کیاجاتا، جب تک جھوٹی دشمنیاں پال کر اور دفاع کے نام پر عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر اسلحے کا انبار لگانے کے رسم کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی اور جب تک حکمرانوں اور افسر شاہی کو یہ احساس نہیں دلایا جاتا کہ جن پیسوں سے وہ اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں یہ ان  کا ذاتی نہیں بلکہ عوام کا پیسہ ہے ۔

اگر ہمارے حکمرانوں اور افسر شاہی نے اپنی شاہ خرچیاں اور لوٹ مار بند نہیں کیں تو ہم یوں ہی کبھی آئی ایم ایف کی منتیں کرتے اور کبھی سعودی عرب کے دروازے پر سوالی بن کر کھڑے نظر آئیں گے۔ جہاں سے قرضہ یا خیرات  ملتے ہی ہمارے حکمران نئی لگژری گاڑیوں کا آرڈر دیں گے تاکہ اگلی مرتبہ جب وہ ادھار  یا بھیک مانگنے جائیں تو ان کے پیروں تلے لش پش کرتی جدید ترین گاڑیاں ہوں۔

حسن رضا چنگیزی

حسن رضا چنگیزی

اظہار کی مجلس ادارت کے رکن حسن رضا چنگیزی ایک بلاگر ہیں۔ وہ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *