ذرا تصور کریں ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

٭

صبح کے سات بجے ہیں۔ آپ گہری نیند میں ہیں جب آپ کے موبائل فون کا الارم بجنے لگتا ہے۔ آپ جاگ جاتے ہیں اور پاس ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل ڈھونڈ کر اس کا الارم بند کر دیتے ہیں۔ پھر آپ آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکلتے ہیں اور باورچی خانے کی طرف لپکتے ہیں۔ کیتلی میں پانی بھر کر اسے ہیٹرپر رکھتے ہیں اور ہیٹرآن کر دیتے ہیں۔ ہاتھ منہ دھو کر آپ دوبارہ کمرے میں آتے ہیں،  بستر ٹھیک کرکے اپنا موبائل آن کرتے ہیں اور حسب معمول پیغامات پڑھنے لگ جاتے ہیں۔  تبھی آپ کو خبر ملتی ہے کہ “پاکستانی سٹوڈنٹس” یعنی ٹی ٹی پی کے مسلح جنگجوؤں نے اسلام آباد کا گھیراؤ کرلیا ہے اور وہ مختلف سمتوں سے ٹولیوں کی شکل میں دارالحکومت میں داخل ہو رہے ہیں جہاں انہیں روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ آپ پریشان ہوجاتے ہیں اور آپ کو یکدم خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ اگرچہ پچھلے کئی دنوں سے آپ ایسی خبریں سن رہے تھے کہ عجیب و غریب حلیوں اور سیاہ پگڑیوں میں ملبوس پاکستانی “سٹوڈنٹس” ملک کے کئی چھوٹے شہروں اور قصبوں پر قابض ہو چکے ہیں، لیکن آپ نے کبھی ان خبروں کو سنجیدہ نہیں لیا۔ کیونکہ آپ کو اپنے حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں پر حد درجہ اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرسوں جب آپ نے خبر سنی کہ ایک صوبے کے گورنر نے لڑے بغیر صوبے کا کنٹرول “سٹوڈنٹس” کے حوالے کردیا ہے اور عوام کی سیکورٹی پر مامور افراد بھی اپنا اسلحہ سٹوڈنٹس کے قدموں میں رکھ کر خاموشی سے گھروں کو چلے گئے ہیں، تب بھی آپ کو یقین تھا کہ بھلے سارا ملک سٹوڈنٹس کے آگے ہار مان لے، دارالحکومت پر قبضہ کرنا ان کے لیے ناممکن ہوگا۔

آپ ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر ٹی وی آن کرتے ہیں تاکہ صحیح صورت حال کا اندازہ لگا سکیں۔ لیکن وہاں پر معمول کے اشتہارات چل رہے ہیں۔   آپ  موبائل فون پر اپنا فیس بک آن کرتے ہیں جہاں روز کی طرح چٹ پٹی خبریں، میمز، جگتیں اور تحریریں آپ کی منتظر ہیں۔ انہی خبروں  اور تحریروں کے درمیان کچھ خبریں طالبان کی پیش قدمیوں اور کامیاببیوں  سے متعلق بھی ہیں جو یقیناً خوشگوار نہیں۔  باورچی خانے میں گیس ہیٹر پر رکھی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہا ہے لیکن آپ  سوچوں میں گم ہیں۔تبھی  باہر سےآنے والےشور شرابے اور چیخنے چلانے کی آوازیں سن  کر آپ چونک پڑتے ہیں اور تیزی سے  بالکونی کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر آپ نیچے جھانکتے ہیں تو  سڑک پر ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ لوگ خوف اور سراسیمگی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔  دکانیں زیادہ تر بند ہیں لیکن اکا دکا  کھلی دکانوں کے شٹر بھی تیزی سے گر رہے ہیں، ہر طرف افرا تفری کا عالم ہے۔  سڑک پر زیادہ تعداد بچوں کی ہے جو مختف رنگوں کے یونیفارم پہنے، پیٹھ اور کاندھوں پر بستے لٹکائے سکول جانے کی نیت سے گھروں سے نکلے ہیں۔  ان کی سمجھ میں یہ ہلہ گلہ نہیں آرہا اس لیے حیران نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ ان بچوں کے ہاتھ تھامے کچھ خواتین بھی سڑک پر نظر آرہی ہیں جن کے چہروں پر خوف صاف نظر آرہا ہے۔ اس بھاگم بھاگ اور سراسیمگی کو دیکھ کر کچھ عورتیں اور بچے رونے لگ پڑے   ہیں۔ آپ پریشانی کے عالم میں دوبارہ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ ٹی وی پر اب ایک سہمی ہوئی نیوز ریڈر دکھائی دے رہی ہے جو بریکنگ نیوز دے رہی ہے کہ  “سٹوڈنٹس” نے صدارتی محل اور وزیر اعظم ہاؤس پر قبضہ کرلیا ہےجبکہ  صدر اور وزیر اعظم کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اب آپ کو حالات کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔ باورچی خانے میں چائے کے لئے رکھا پانی ابل رہا ہے لیکن آپ کا دھیان کہیں اور ہے۔ تبھی آپ کے موبائل کی گھنٹی  بجنے لگتی ہے۔ آپ اپنے موبائل پر نظر ڈالتے ہیں۔  سکرین پر ابّو کا نام دیکھتے ہی آپ کال ریسیو کرکے موبائل کانوں سے لگا لیتے ہیں۔ ہیلو کہتے ہی موبائل پرآپ کو ابّو کی لرزتی آوازسنائی دیتی ہے۔

“ہیلو بیٹا کیسے ہو، کہاں ہو، ٹھیک تو ہو؟ سنا ہے ” پاکستانی سٹوڈنٹس” نے اسلام آباد پر بھی قبضہ کرلیاہے۔ بیٹے یہاں تو ہر طرف یہی لوگ نظر آرہے ہیں۔ یہ رات کو ہی شہر میں گھس آئے تھے۔  ان کے پاس خطرناک اسلحہ ہے اور وہ ہر ایک کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں۔ ہمارا تو گھر سے نکلنا محال ہو گیا ہے۔  سنا ہے رات انہوں نے فائرنگ کرکے آٹھ آدمیوں کو مار بھی دیا ہے۔ بیٹااپنا خیال رکھو۔ ہو سکے تو  نوکری ووکری چھوڑ دو اور گھر چلے آؤ۔ سب ساتھ ہوں گے تو ڈھارس بندھی رہے گی”

آپ اپنے ابّو کو تسلیاں دینے لگتے ہیں لیکن آپ سمجھ جاتے ہیں کہ آپ کا لہجہ ہر قسم کے اعتماد سے عاری ہے۔ آخر کار آپ اس وعدے کے ساتھ فون بند کر دیتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو آپ گھر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔  باورچی خانے میں گیس ہیٹر پر رکھے برتن میں پانی اب بھی  بھاپ بن کر اڑ رہا ہے۔ آپ بالکونی میں کھلنے والی کھڑکی سے باہر سڑک پر نظر ڈالتے ہیں جہاں ہو کا عالم ہے بس کبھی کبھار کوئی گاڑی تیزی سے آکے گزر جاتی ہے۔ آپ موبائل سے اپنے آفس کا نمبر ڈائل کرتے ہیں لیکن کوئی آپ کی کال ریسیو نہیں کرتا۔  آپ آفس کے دوستوں کو کال کرنے لگتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آفس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور ملازمین کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔

ملک پر طالبان کے قبضے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔  دارالحکومت  سمیت پورے ملک میں غیر یقینی صورت حال ہے۔ آپ کے آفس میں طالبان نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور عمارت پر آویزاں  این جی او کا بورڈ اتار کر طالبان کا پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ آپ کے دفتر کے کئی ساتھی شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ کئی کولیگ بیرون ملک بھی پرواز کر چکے ہیں۔  تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند ہیں۔  اکثر عمارتوں پر طالبان نے قبضہ جما رکھا ہے۔ تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں۔  سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہیں۔بازاروں اور گلی محلوں میں   اکا دکا  دکانیں کھل گئی ہیں جن پر  عموماً رش نطر آتا ہے۔ بینکوں کے باہر اور اے ٹی ایم مشینوں پر لمبی قطاریں نظر آتی  ہیں لیکن کسی کو ایک حد سے زیادہ پیسے نکالنے کی اجازت نہیں۔ سڑکوں پر بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں نظر آتی ہیں جن پر طالبان کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں ۔     سڑکوں  پر طالبان کی ٹولیاں گشت کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کے کندھوں پر کلاشن کوفیں اور ہاتھوں  میں بجلی کی تاریں اور ہنٹر  ہیں جن سے جب جی چاہے وہ لوگوں کی چمڑی ادھیڑنے لگتے ہیں۔ عورتیں ان کا خاص نشانہ ہیں جو بہ امر مجبوری کسی کام سے باہر نکلتی ہیں۔  طالبان نے اعلان کر رکھا ہے کہ عورتیں بلا وجہ اور بغیر کسی محرم کے گھروں سے نہ نکلیں اور باہر نکلتے وقت ہمیشہ برقعہ پہنیں۔  

امی اور ابو مسلسل فون کرکے آپ کو گھر آنے کا کہتے ہیں لیکن آپ اس  موہوم امید کے ساتھ ابھی تک دارالحکومت میں ٹکے ہوئے ہیں کہ شاید حالات دوبارہ بہتر ہوں۔ حالانکہ آپ کو دن رات اس بات کا خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر طالبان کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ آپ ایک غیر ملکی ادارے سے منسلک تھے تو آپ کو خطرناک نتائج  کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے اور فلیٹ میں گھس کر آپ کے جسم میں گولیاں بھی اتاری جا سکتی ہیں۔ لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کے شہر کے حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں ۔ دارالحکومت ہونے کے ناطے یہاں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات اب بھی موجود ہیں جبکہ دنیا بھر کے صحافی رپورٹنگ کی غرض سے یہاں مقیم ہیں اس لیے طالبان ذرا محتاط ہیں ورنہ  دیگر شہروں خصوصاً دور دراز کے علاقوں سے تو بہت ڈراؤنی خبریں آرہی ہیں جن کے مطابق وہاں بجلی ناپید ہے۔ موبائل کے اکثر ٹاورز کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا ہے اس لیے موبائل اور انٹر نیٹ کام نہیں کر رہے۔  لڑکیوں کے سکول بند کر دیئے گئے ہیں اور ان میں طالبان نے رہائش اختیار کر رکھی ہے۔ تھانوں کا بھی یہی حال ہے جہاں پولیس کی کرسیوں پر طالبان براجمان ہیں جو اپنی عدالتیں لگا کر فوری سزائیں سناتے اور پہلی فرصت میں ان پر عملدرآمد بھی کرواتے  ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ    روز ایک دو بندوں کی لاشیں بجلی کے کھمبوں سے لٹکتی نظر آتی ہیں اورروزکئی  گھروں کے دروازے ٹوٹتے ہیں  اور طالبان  گھروں میں گھس کر  پورے کا پورا کنبہ قتل کردیتے ہیں۔ بعض علاقوں سے تو ایسی بھی خبریں آرہی ہیں کہ طالبان گھروں میں گھس کر جوان کنواری لڑکیوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے جارہے ہیں تاکہ طالبان جنگجوؤں  سے ان کا نکاح پڑھوایا جا سکے۔  اگرچہ آپ مسلسل اپنے آپ کو اس بات کی جھوٹی  تسلی دیتے رہتے ہیں کہ آپ کے آبائی شہر میں حالات قدرے بہتر ہیں لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ  آنے والے دن آپ اور آپ کے خاندان کے لیے زیادہ اچھے نہیں ہوں گے کیونکہ آپ اور آپ کے بھائی کی نوکریاں چھوٹ جانے سے آپ کے خاندان کو روٹی کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ ابو کی عمر ویسے بھی کام کرنے کی نہیں رہی اور آپ بھائیوں کو بھی کوئی  نئی ملازمت ملنے کی توقع نہیں۔

ملک پر طالبان کے قبضے کو پندرہ دن گزر چکے ہیں۔ آپ اپنے شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ یہاں آنے میں بہت مشکلات تھیں کیونکہ دارالحکومت سے نکلنے والے راستوں پر جا بجا طالبان نے چیک پوسٹیں قائم کر رکھی تھیں جن سے گزرنا جان جھوکوں والا کام تھا لیکن شاید قسمت آپ پر مہربان تھی جو آپ صحیح سلامت گھر پہنچ گئے۔  یہ تو  یہاں آکر  پتہ چلا کہ یہاں کے حالات آپ کے تصور ات کے برعکس کافی زیادہ خراب تھے۔   شہر میں تعمیراتی کام ٹھپ پڑا ہوا تھا۔ زیادہ تر کاروبار بند پڑے ہوئے تھے۔ اگرچہ طالبان نے سرکاری ملازمین کو کام پر آنے کی اجازت دے رکھی تھی تاکہ کاروبار حکومت کسی طرح چلتا رہے لیکن  دفاتر میں ہر طرف خوف کی فضا تھی کیونکہ وہاں بھی مسلح جنگجو دندناتے پھرتے تھے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر بھی مسلح طالبان کا پہرہ تھا اور لوگوں کو ایک خاص مقدار سے زیادہ پیسے نکالنے کی اجازت نہیں تھی۔  سننے میں آرہا تھا کہ بینکوں میں پڑے پیسے بھی تیزی سے کم ہو رہےتھے  کیونکہ اس صورت حال میں لوگ بینکوں میں پیسے جمع کرانے سے کترا رہے تھے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پاپندی عائد کردی گئی تھی اور خواتین ملازمین کو دفاتر آنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ خواتین کو صرف  لیڈی ڈاکٹرز سے علاج کی اجازت تھی جبکہ مرد ڈاکٹروں کو خواتین کے علاج سے منع کر دیا گیا تھا۔ روزمرہ بالخصوص غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں کیونکہ ملک کے کئی علاقوں میں  طالبان کی انتظامیہ  نے   لوگوں کی زرعی زمینوں پر قبضہ کرلیا تھا اور زرعی اجناس کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔   حالات کافی خراب تھے اور ہر طرف وحشت کا راج تھا۔ عورتیں تو مکمل طور پر گھروں میں  قید ہو ہی گئی تھیں مرد بھی بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سےپرہیز کرنے لگے تھے تاکہ کسی مسلح اور ہنٹر بردار مجاہد سے مڈبھیڑ کا امکان نہ رہے۔

ملک پر طالبان کے قبضے کو اب ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے۔ ملک کے سابق حکمران عوام کی ڈھیروں دولت لوٹ کر  ملک سے فرار ہو گئے ہیں اورعرب اور مغربی ممالک میں  جا بسے ہیں۔ سابق اعلیٰ بیوروکریٹ ، ساستدان اور سرمایہ دار بھی اپنے اثرو رسوخ سے کام لے کر بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔    طالبان نے بھی  اب اپنی حکومت کا اعلان کردیا ہےہے جو خالصتاً  طالبان رہنماؤں پر مشتمل ہے۔ اس میں کسی غیر طالب یا عورت کو نمائندگی نہیں دی گئی۔  طالبان حکومت کا سربراہ اس شخص کو بنایا گیا ہے جو کبھی مخالفین کے سر کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلنے میں مشہور تھا۔خواتین سے متعلق   وزارت ختم کرکے اس کی جگہ امر بالمعروف کی وزارت متعارف کی گئی ہے جسے بزور ہنٹر عوام کو راہ راست پر لانے اور انہیں برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس وزارت کی سربراہی دارالحکومت میں قائم ایک مشہور مسجد کے  ایک ایسے منتظم کو سونپی گئی ہے     جو اپنے متشدد خیالات میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ملک میں لڑکیوں کے تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند کر دیئے گئے ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت  پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔  تمام آرٹس سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر تالے لگا دیئے گئے ہیں اور ان میں موجود تمام فن پاروں کو آگ لگادی گئی ہے۔ ملک کے مختلف اداروں اور شاہراہوں پر بنے مجسمے بارود سے اڑا دیئے گئے ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے سربراہوں کو ہٹا کر ان کی جگہ مدرسے کے طالب علموں کو وائس چانسلر اور پرنسپل مقرر کیا گیا ہے۔ سائنسی تعلیم ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔  موسیقی سننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور ملک بھر میں میوزک اکیڈمیوں میں رکھے موسیقی کے آلات توڑ دیئے گئے ہیں۔ کھیلوں پر بھی مکمل پابندی عائد ہے جبکہ پارکوں میں خواتین کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ اب ان پارکوں میں طالبان جھولا جھولتے نظر آتے ہیں۔ جلسے جلوسوں اور اظہار رائے پرمکمل پابندی عائد ہے ۔  سوشل میڈیا پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور طالبان پر تنقید کرنے والوں کو ڈھونڈ کر انہیں کوڑے مارے جا رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز اگرچہ اب بھی کام کر رہے ہیں لیکن ان کی سکرینوں پر اب زیادہ ترمسلح طالبان  کے چہرے نظر آتے ہیں۔  ملک کی معاشی حالت انتہائی دگرگون ہے۔ روپے کی قدر تیزی سے گر رہی ہے۔ مغربی اور سرمایہ دار ممالک نے ملک پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور غیر ملکی بینکوں میں پڑے ملکی اثاثے منجمد کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ عوام کی اکثریت کے گھروں میں بھوک اور افلاس نے ڈھیرے ڈال دیئے ہیں جبکہ بے روز گاری کی وجہ سے مزدور  نان شبینہ کے محتاج بن کر رہ گئے ہیں۔  اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے طالبان حکومت نے مخالف فرقوں اور غیر مسلموں پر جزیہ عائد کردیا ہے تاکہ آمدنی کی کوئی صورت نکل سکے۔   لوگوں کی ایک  بڑی تعداد ملک چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے لیکن انہیں نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔  ان لوگوں میں آپ بھی شامل ہیں۔

آج کل  ہمارا پڑوسی افغانستان کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ اگر خاکم بہ دہن ایسی صورت حال کا ہمارے ملک کو سامنا کرنا پڑ جائے تو کیا ہوگا!؟  مجھے یقین ہے کہ میری طرح آپ بھی نہیں چاہیں گے کہ کبھی ہمیں یا ہمارے پیاروں کو کسی ایسی صورت حال کا سامنا کرنا  پڑے۔ اگرچہ  اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے حالات بہت مختلف ہیں لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہیے  کہ 2007 سے 2009 کے دوران سوات میں ہم ایسی صور حال کا تجربہ کر چکے ہیں۔

سیانے کہہ گئے ہیں کہ جب پڑوس میں درندے بسیرا کرلیں تو گھر کی حفاظت کی پہلے سے زیادہ فکر کرنی چاہئے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم افغانستان کے حالات پر بغلیں بجانے کے بجائے اپنے گھر کی فکر کریں ۔

حسن رضا چنگیزی

حسن رضا چنگیزی

اظہار کی مجلس ادارت کے رکن حسن رضا چنگیزی ایک بلاگر ہیں۔ وہ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *