ہزارہ مہاجرت در مہاجرت! ۔۔۔  اسحاق محمدی

     

جیسا کہ میں نے پہلے اپنے مقالہ  ”ہزارہ اجتماعی مہاجرت کی داستان“  میں لکھا تھا کہ ہزارہ قوم کی اجتماعی مہاجرت کا آغاز 17 ویں صدی (1622ء) میں قندہار پر شیعہ ایرانی صفوی کے دورحکومت  سے ہوتا ہے۔  جنہوں نے دہلی کی مغل سلطنت کو کمزور کرنے کی خاطر کوہ سلیمان کے دامن میں آباد افغان قبائل کو قندہار میں بسانے کر “حائل پٹی بنانے کی پالیسی” بنائی تھی۔(یاد رہے کہ یہ مہاجرت تمام تر ہزارہ جات کی طرف رہی)  بدقسمتی سے اس دور سے لے کر آج تک ہزارہ مہاجرت کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔  لیکن 21ویں صدی کے دوران ہزارہ قوم کو انہی نامساعد حالات کی وجہ سے مہاجرت کی ایک نئی قسم کی راہ اختیار کرنی پڑی جسے  ”مہاجرت در مہاجرت“  کا نام دینا زیادہ مناسب ہوگا۔  یعنی اب کی بار انہیں ان دوسرے ممالک سے بھی بہ امر مجبوری مہاجرت اختیارکرنا پڑی،  جہاں وہ لمبے عرصے تک آباد رہی تھی اور یہ دو ممالک ایران اور پاکستان ہیں۔  آئیے ان کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں:

الف- پاکستان

       جیسا کہ میں نے اپنے مضمون  ”ہزارہ اجتماعی مہاجرتوں کی داستان“  میں تفصیل سے لکھا تھا،  کہ شیعہ صفوی دور میں قندہار سے جبری بے دخلی کے باوجود ہزارہ قوم نے ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت کے بجائے ہزارہ جات کی دشوار گذار وادیوں میں آباد ہونے کو ترجیح دی اور یہ کہ ان کی پہلی اجتماعی ہجرت انیسویں صدی کے اواخر(1893ء کے بعد) میں امیر عبدالرحمان کے ہاتھوں ہزارہ نسل کشی اور اپنی زرخیز زمینوں سے بے دخلی کی پالیسی کے نتیجے میں انجام پائی۔  چنانچہ ان کی ایک بڑی تعداد برٹش بلوچستان میں اور ایک قلیل تعداد پاڑہ چنار اور گلگت میں آکر بس گئی اور اس نئی سرزمین کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے لگی، اس ضمن میں کوئٹہ-سبی،  کوئٹہ-چمن،  کوئٹہ-ژوب،  ژوب-دانے سر روڈ،  ریلوے لائنوں کی تنصیب،  شمالی علاقہ جات کی ڈوگرہ راج سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کی تحریک میں گلگت کی  ”چنگیزی“  فیملی کے قائدانہ کردار بطور خاص قابل ذکر ہیں۔  لیکن افسوس کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک اس نئے وطن میں پرامن اور پرسکون رہنے کے بعد 1999ء سے شدت پسند مسلح سنی وہابی تنظیموں سپاہ صحابہ اور پھر لشکر جھنگوی کے نام سے ان پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جو دو دہائیوں کے بعد تا حال(2022ء) جاری ہے۔  نیشنل کمیشن فار ہیومن رائیٹس پاکستان کی فروری 2018ء رپورٹ کے مطابق ان دہشتگرد حملوں میں 2000 ہزارہ جان بحق ہوئے ہیں،  500 آسٹریلیا ہجرت کرتے ہوئے غرقاب ہوئے ہیں اور ہزاروں دیگر مہاجرت پر مجبور ہوئے ہیں(1)۔ زیادہ تر مہاجرت یورپ،  آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ کی طرف ہوئی ہے۔  پاکستانی ہزارہ مہاجرین کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں،  تاہم ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن محترمہ زہرہ یوسف نے اکتوبر 2014ء میں دیگر اقلیتوں ہندو، ذکری اورسیٹلرزکے ساتھ شیعہ(ہزارہ) مہاجرین کی تعداد 3 لاکھ بتائی تھی جنہوں نے صرف بلوچستان سے ہجرت کی تھی(2)۔ 

 شواہد بتاتے ہیں کہ پاکستانی ہزارہ مہاجرین کی تعداد دیگر پاکستانی اقلیتوں میں سب سے زیادہ رہی ہے،  نیز صوبہ سندھ کے شہروں جیسے کراچی،  حیدرآباد،  سانگھڑ اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر پاڑہ چنار سے بھی قابل ذکر تعداد میں ہزارہ  مہاجرت پر مجبور ہوئے ہیں اور ہجرت کا یہ سلسلہ کم و بیش آج تک جاری ہے۔  اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی  قیادتوں کی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی ہزارہ اب(2022ء) تک دہشتگرد حملوں کے زد میں ہیں۔  ان پر کوئٹہ میں آخری دہشتگردانہ حملہ مارچ  2022ء میں ہوا جس میں 2 ہزارہ دکاندار جان بحق ہوئے۔

ب:  ایران

       دستیاب تاریخی شواہد کی رو سے ایران میں ہزارہ قوم کو پہلی بار نادر شاہ افشار(1736-1747ء) کے دور میں اور دوسری 1856ء میں شاہ نصیرالدین قاجار کے دور میں اس غرض سے جبری مہاجرت و آبادکاری پر مجبور کیا گیا تاکہ ایران کی مشرقی سرحد کو سنی جنگجوؤں کے حملوں سے محفوظ رکھا جاسکے(3)۔  تاہم امیر عبدالرحمان کی ہزارہ نسل کشی اور زمینوں پر قبضے کی پالیسی کے بعد بڑی تعداد میں ہزارہ ایران کی طرف بھی ہجرت کر گئے جنہیں وہاں لمبے عرصے تک بربری کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔  1936ء میں ہزارہ آرمی آفیسر(یوسف عبقری) نے رضاشاہ کبیر سے درخواست کی وہ انہیں (ایرانی ہزارہ کو)  ”ہزارہ“  کے نام سے منسوب کرنے کا حکم صادر کریں،  لیکن شاہ نے غیر منطقی طورپر1937ء میں انہیں  ”ہزارہ“  کے بجائے  ”خاوری“  یعنی مشرقی کے غیر مانوس اور دور از مفہوم نام سے منسوب کرنے کا فرمان جاری کردیا(4)۔ ایران میں آباد ہزارہ قوم کے اس مختصر پس منظر کو بیان کرنے کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔  اپریل 1978ء میں افغانستان کے اندر انقلاب ثور کی صورت میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی،  ہزارہ قوم سمیت محروم طبقات کی ایک بڑی تعداد نے شروع میں اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا۔  لیکن بہت جلد مغربی طاقتوں نے  اسلام کی آڑ لے کر ایک طرف پاکستانی فوجی آمر جنرل ضیاء کے ذریعے رد انقلاب کی کمپیئن شروع کروائی،  جبکہ دوسری طرف ایران میں بھی کسی ماسکو نواز بائیں بازو کے انقلاب کو روکنے کی خاطر جلاوطن مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی کے ذریعے رضا شاہ کا تختہ الٹ کر ایک اسلامی شیعی حکومت قائم کروادی۔  جس نے  ”اسلام مرز ندارد“  یعنی ”اسلام میں کوئی سرحد نہیں“  کا نعرہ بلند کیا۔  چنانچہ افغانستان کے سادہ لوح سنی عوام جوق در جوق پاکستان کی طرف  جبکہ شیعہ ایران کے نزدیک ہوتے گئے۔  وہاں کے ہزارہ عوام کی اکثریت نے بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے کی بنا پر  ”اسلام مرز ندارد“  کے نعرہ سے متاثر ہوکر ایران ہی کو ترجیح دی۔  لیکن گزشتہ 40 سال کی تاریخ گواہ ہے،  کہ ایران نے کبھی بھی افغان مہاجرین کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا،  یہاں تک کہ انہیں حصول علم و دانش سے بھی محروم رکھا۔  اس ضمن میں سینکڑوں اسناد اور ویڈیوز گوگل اور دیگر سوشل میڈیاز پر دستیاب ہیں۔

       2014ء سے ولایت فقیہ رژیم نے شام میں ڈکٹیٹر بشرالاسد کی ڈوبتی حکومت کو بچانے کے لئے وہاں پراکسیز(کرائے کے جنگجو)  بھیجنے لگی۔  اپنے اس مشن کی کامیابی کے لئے ولایت فقیہ نے ایک طرف مذہب کا سہارا لیا،  تو دوسری طرف گرین کارڈ کا لالچ دیا،  جبکہ تیسری طرف قید و بند اور جبری اخراج کی دھمکی دے کر ایران میں مقیم شیعہ افغان مہاجرین بطور خاص ہزارہ مہاجرین کی  ”فاطمیون ڈویژن یا لشکر فاطمیون میں“  بھرتیاں کرنے اور پھر انہیں شام بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا۔  اس بات کی تائید تمام آزاد ذرائع کرتے ہیں کہ کم تربیت یافتہ ہونے،  وہاں کے جغرافیہ اور زبان وکلچر سے عدم آگاہی رکھنے کے باعث  ایرانی سپاہ نے انہیں اپنے لئے انسانی شیلڈ/ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اس غیر انسانی پالیسی کے باعث لشکر فاطمیون میں جانی نقصانات کی شرح بہت زیادہ تھی۔  اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوری 2018ء میں بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق،  لشکر فاطمیون کے ایک ترجمان(زھیر مجاہد)  نے شام میں کم از کم دو ہزار افغان مہاجرین کی ہلاکت اور آٹھ ہزار کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ساتھ ولایت فقیہ حکومت کی بے اعتنائیوں کی شکایت بھی کی تھی(5)۔ جبکہ افغان ایم این اے اور رکن پارلیمنٹ بلقیس روشن نے ان ہلاکتوں کی تعداد 5500 اور مفقودالاثر افراد کی تعداد 1200 بتائی تھی(6)۔ گویا جتنی تعداد میں پاکستانی ہزارہ گذشتہ 20 سالوں کے دوران وہابی دہشتگردوں کے ہاتھوں ہلاک و زخمی ہوئے ہیں،  اس سے کئی گنا زیادہ ہلاک و زخمی،  ایرانی ولایت فقیہ کے ہاتھوں صرف چار سال میں ہوئے ہیں۔  اس امر سے یہ تلخ حقیقت خوب عیاں ہو جاتی ہے،  کہ اپنے مفادات کے لئے مذہب کا بے رحمانہ استعمال کرنے اور پراکسی جنگ میں شیعہ ولایت فقیہ اپنے سنی وہابی حریف سے کئی گنا آگے ہے۔  اتنی بھاری تعداد میں ہلاکتوں اور جانی نقصانات کی خبریں بہت تیزی سے ایران میں مقیم ہزارہ مہاجرین میں پھیلی اور ان کی بڑی تعداد ایک بار پھر اپنی جانیں بچانے کی خاطر مہاجرت کی راہ پر چل نکلی۔  اب کی بار ان کی منزل مقصود کوئی اسلامی ملک نہیں،  بلکہ کافر یورپ تھا۔  جون 2016ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تک(یعنی:2015سے2017ء تک)  6 لاکھ 63 ہزار افغان مہاجرین نے یورپ میں پناہ لے لی تھی،  جن میں 44 فیصد(یعنی 3 لاکھ کے قریب)  ہزارہ مہاجرین تھے جن کی اکثریت اسلامی ملک ایران سے فرار ہوئے تھے(7)۔ اس کے علاوہ یواین ایچ سی آر کے مطابق مزید ایک لاکھ سے زائد افغانی مہاجریں ترکی،  یونان،  انڈونیشیا وغیرہ میں اس وجہ سے اب تک بے یار و مددگار پڑے ہوئے  ہیں،  کیونکہ کوئی اور مغربی ملک مزید مہاجر قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔  ہزارہ مہاجرت در مہاجرت کی یہ داستان نہایت المناک،  غمناک اور دکھوں سے بھری ہے۔

 

  1. https://nchr.gov.pk/wp-content/uploads/2019/01/HAZARA-REPORT.pdf
  2. https://www.dawn.com/news/1137636/300000-people-have-left-balochistan-says-hrcp-chie
  3. Shift and Drift in Hazara Ethnic Consciousness by Niamtaullah Ibrahimi (now Ph.D) P-5
  4. Above source P-7 and The Hazaras by Hassan Poladi P-259
  5. https://www.bbc.com/persian/iran-42590722
  6. https://www.facebook.com/watch/?v=459477624743003
  7. https://www.rescue-uk.org/sites/default/files/document/1040/15-06-16europeanrefugeecrisis-afghanistanbriefingfinal.pdf
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.