اصلی نگینے ۔۔۔ اسحاق محمدی

٭
اس سال جولائی میں مجھے بارہ سال بعد کوئٹہ جانے کا موقع ملا تھا۔ زیادہ وقت نجی مصروفیات میں گذرا، تاہم قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کی محافل میں گپ شپ کے علاوہ، عام گلی کوچوں میں لوگوں کے رویوں، بطور خاص نوجوان نسل کی بے سریوں اور نشست و برخاست سے مجھے لوگوں میں نفسا نفسی، سیالداری، دولت اور نمود و نمائش کے پیچھے اندھا دھند بھاگم بھاگ، جبکہ نوجوانوں میں اپنے مستقبل سے لاتعلقی کی کیفیتیں صاف طورپر نظر آئیں۔ اس بارے میں قدرے تفصیل سے لکھنے کا ارادہ ہے۔ لیکن اسی دوران ایسے بعض چھوٹے گروپوں اور افراد سے بھی ملنے کے مواقع ملے جو ان تمام بھاگم بھاگ اور اجر و ثواب کے لالچ سے کوسوں دور سوسائٹی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ اس تحریر میں، میں انہی باکردار افراد میں سے دو کے بارے میں مختصر عرض کرنا چاہتا ہوں:
فدا صاب:
فدا صاب (صاحب) کو ان کے قریبی دوست فدا ہمدم کے نام سے بھی پکارتے ہیں، کیونکہ وہ 1990ء کی دہائی میں ”ہمدم آرٹس“ کے نام  سے ایک نہایت فعال کتابت خانہ چلایا کرتے تھے۔ میں انہیں اپنے ہوش سنبھالنے کے وقت سے اس لئے جانتا ہوں، کیونکہ میرے بچپن اور لڑکپن کے کئی سال ان کی گلی سے متصل ”گلی بابے واحِدہ“ میں گذرے۔ اتفاق سے ہمارا گروپ رات گئے کا بھنڈار، عین ان کے گھر کے سامنے دکان ”حاجیکہ“ کے تھڑے پر سجاتا تھا۔ ان کا پہلا عشق قلم اور خوش نویسی ہے۔ بعد میں انہوں نے اسی خوش نویسی کو اپنا پروفیشن بنالیا۔ کمپیوٹر کے آنے کے بعد طباعت کے شعبے میں جب خوش نویسی(کتابت) کی قدر گھٹتی گئی، تو وہ اسی سے منسلک پرنٹنگ پریس کے کاروبار سے وابستہ ہوئے اور آج ”پاک پرنٹنگ پریس“ کے مالک ہیں۔ قلم کے بعد ان کا اگلا عشق کتاب بینی سے ہوا اور یہ عشق روزافزوں حد تک نہ صرف اب بھی جاری ہے بلکہ اب دوسروں تک پہنچانے کا عزم و حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ نفسا نفسی کے اس دور میں جب اکثر لوگ فلاحی کاموں کو وقت کا ضیاع کہہ کر نظرانداز کرتے ہیں اور اندھا دھند دولت، شہرت اور جاہ و مقام کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، فداصاب کمال بے نیازی سے سوسائٹی کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالے جارہے ہیں اور وہ بھی خاموشی سے۔ مثلاً:
الف: وہ اپنی سالانہ کمائی میں سے کم سے کم دو لاکھ روپے، قوم کے ہونہار مگرغریب اور نادار طالبعلموں کی مدد کے لیے صرف کرتے ہیں،  یہ سوچے بغیر کہ ان کا تعلق کس طائفہ یا خانوار سے ہے۔ اب وہ سٹوڈنٹس کی بہتر رہنمائی اور مالی معاونت کے لئے ”نمو“ کے نام سے ایک باقاعدہ فیس بک پیج چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ب: کئی روشن خیال ویب سائٹس اور پیجز کے لئے نہ صرف لکھتے ہیں بلکہ ان کے اداراتی ٹیم کا حصہ بھی ہیں جس میں ”اظہار ڈاٹ نیٹ“ سرفہرست ہے۔
ت: چونکہ وہ خود بھی؛ اور اس کے رفقاء بھی ترقی پسند سوچ رکھتے ہیں، اس لئے ترقی پسندانہ تفکر کے فروغ کے لئے علی رضا منگول کے ساتھ مل کر نئی نسل کی فکری بالیدگی واسطے باقاعدگی سے ہفتہ وار سٹڈی سرکلز چلارہے ہیں، جو ریکارڈ کے مطابق شاید تیس یا چالیس سرکلز پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علمی موضوعات پر ویڈیو کلپس بھی بناکر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے رہتے ہیں۔
ج: گذشتہ چھ سالوں سے ”پراپرٹی فائینڈر“ کے نام سے ایک فیس بک پیج چلا رہے ہیں، جس کے تحت انہوں نے اب تک چھ سو سے زائد مکانات بغیر کسی کمیشن، معاوضے یا لالچ کے، یا تو فروخت کیے ہیں یا گروی اور کرایوں پر چڑھائے ہیں۔ دلچسپ نکتہ یہ کہ وہ خودعرصہ بیس سال سے کرائے کے مکانات میں رہ رہے ہیں اور اس کی ملکیت میں آج بھی(ایک انچ) زمین نہیں ہے۔ بقول خود ان کے ”اگر وہ ایک پرسینٹ(01%) کمیشن بھی چارج کرتے تو اب تک کروڑوں کما چکے ہوتے اور ساتھ ہی کئی مکانات اور دوکانوں کے مالک بھی ہوتے۔“ یاد رہے کہ عام پراپرٹی ڈیلرز مکان کی کل قیمت؛ یا گروی کی طے شدہ رقم پر کم سے کم دوپرسینٹ(02%) اور کرایہ داری پر ایک مہینہ کا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ ان سب رضاکارانہ فلاحی کاموں کی انجام دہی کے لئے بے پناہ عزم اور انرجی کے علاوہ وقت کی درست منیج منٹ فدا صاب کا کمال ہے۔
فدا صاب سنجیدہ، بردبار طبیعت اور پروقار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا حلقہ احباب کافی وسیع اور تمام قومیتوں، مذاہب اور طبقات پر پھیلا ہوا ہے۔
 
کیپٹن علی محمد:
کیپٹن علی محمد سے یوں تو میں کئی حوالوں سے واقف ہوں، ایک یہ کہ مرحوم خیرعلی چاچا کا بیٹا ہے، دوسرا اس کی میرے دوست طاہرخان (سفیر موٹرز) سے رشتہ داری ہے اور تیسرا یہ کہ وہ کھیلوں کے فروغ میں کافی مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ لیکن حالیہ کوئٹہ وزٹ کے دوران، ان کے ساتھ طویل نشستوں سے مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ علم و دانش کے شعبہ میں بھی کافی سرگرم ہیں۔ آیئے ان سب کا مختصر احوال بیان کرتے ہیں:
الف: وہ گذشتہ کئی سالوں سے اپنے دوستوں اور بہی خواہوں کی مدد سے سالانہ قوم کے 100 کے قریب ہونہار غریب و نادار طلبا و طالبات کے لئے نہ صرف مفت تعلیمی مواد (یعنی کتابیں، کاپیاں، یونیفارمز وغیرہ) کا انتظام کرتے ہیں بلکہ سکول اورکالج کی سطح پر قوم کے زیادہ غریب اورمستحق طالبعلموں کی ایک محدود تعداد(10 تک) کی ماہانہ فیسوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ صوبے سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے چند نہات غریب مگر ہونہار طالبعلموں کی داخلہ فیس یا ہاسٹل چارجز میں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک نادار طالبعلم کے داخلے کے لئے ایک لاکھ بیس ہزار روپوں کا بندوبست کیا؛ اور اس سال انہوں نے کرونا وباء کے دوران پرائیویٹ سکولز کے 10 مستحق طالبعلموں کی فیسیں بھی ادا کیں۔
ب: کھیلوں میں چونکہ انہیں فٹبال زیادہ پسند ہے اس لئے 2014ء میں چند دوستوں سے مل کر انہوں نے ”ہزارہ سٹار فٹبال کلب“ کی بنیاد رکھی۔ مذکورہ کلب نے پاکستان کی سطح پر کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور متعدد بار فرسٹ اور سیکنڈ پوزیشن کی کئی ٹرافیاں جیت کر ایسے حالات میں کوئٹہ لوٹی، جب ہزارہ قوم بدترین دہشت گردی سے دوچار تھی اور ہزارہ افراد کا اپنے محلوں سے باہر نکلنا، جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اب وہ خود نیو ہزارہ گرین فٹبال کلب سے وابستہ ہیں۔ ان کی آمد سے اب یہ کلب بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔ 
ت: سابق ایم پی اے آغا رضا کے دور میں قیوم پاپا اسٹیڈیم گراونڈ کی غیرضروری طور پر توڑ پھوڑ کی گئی، جس کی وجہ سے کئی سال تک وہاں ایک بھی ٹورنامنٹ منعقد نہیں کیا جاسکا۔ تنگ آکر کیپٹن علی محمد نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کی دوبارہ بحالی کا مشکل بیڑہ اٹھایا، جسے اس وقت معاشرے کے اکثر حلقوں نے دیوانے کے خواب سے تعبیر کیا۔ لیکن معروف مثل ”نیت صاف، منزل آسان“ کے مصداق، انہوں نے اپنے اخلاص، انتھک محنت اور بہترین ٹیم ورک کے ذریعے ایک قلیل عرصہ میں گراونڈ میں دوبارہ مٹی ڈال کراس کی لیولینگ اور گھاس لگوانے کا تمام کام مکمل کروایا اور اس پرکامیاب ٹورنامنٹ کا انعقاد کرکے سب کو حیران کردیا۔ اب عبدالخالق ہزارہ صاحب نے ایک بار آسٹروٹرف لگوانے کی خاطر اسی(قیوم پاپا) اسٹیڈیم گراونڈ کی ایک بار پھر توڑپھوڑ کروائی ہے۔ خدا کریں اس دفعہ تعمیر نو کا یہ عمل جلد پایہ تکمیل تک پہنچے اور علاقہ کا یہ واحد اسٹیڈیم پھر سے کھیلوں کے لئے آباد ہوجائے۔ ایک نشست کے دوران جب میں نے کیپٹن علی محمد سے پوچھا کہ آخر کس وجہ سے آپ یہ سب زحمتیں اور خواریاں اٹھا رہے ہیں اوراکثر لوگوں کی طرح اپنی زندگی لوڈو، بھنڈار اور خوش گپیوں میں کیوں نہیں گذارتے؟ توانہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ: ”دوسروں کے کام آنا ہی اصل انسانیت ہے۔“
کیپٹن علی محمد دکھاوے کی ملنساری، سادہ مزاجی اور خوش گفتاری کی بجائے عملی کردار کے قائل ہیں۔ ان کی انہیں صفتوں کی وجہ سے ان کے دوست اور بہی خواہ آنکھیں بند کرکے ان پر اعتماد کرتے ہیں۔
حقیقت میں فدا صاب اور کیپٹن علی محمد جیسے آگاہ و بیدار، روشن ضمیر اور بے لوث باعمل لوگ ہی کسی معاشرہ کے ”اصل نگینے“ ہوتے ہیں۔ موقع ملا تو تحریری شکل میں ایسے مزید نگینوں سے معاشرے کو روشناس کرواتا رہوں گا۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *