اتوار کا دن۔۔۔ راحیلہ بتول

اس اتوار کو خلاف معمول خوب دیرتک سونے کا ارادہ کیا مگرحسب عادت عین مخصوص وقت پہ آنکھ کھل گئی۔ پھر دیرتک کروٹیں بدلنے اور نیند سے آنکھ مچولی کھیلنے کے بعد نظریں دیوارپہ ٹنکی گھڑی پرپڑی۔ ابھی گھڑی نے نو بجائے ہی تھے کہ چلتا ہوا پنکھا اور ایرانی کولر دونوں بیک وقت بند ہو گئے۔ چلو جی! پتہ چلا کہ بجلی بھی ہماری طرح چھٹی منانے چلی گئی۔

اب اتنی گرمی میں بھلا نیند کہاں آنی تھی لہذا خود پر مزید تشدد کیئے بغیر، ناشتہ بنانے کے لیے باورچی خانے چلے گئے۔ چھٹی کی مناسبت سے دل نے چاہا کہ کیوں نا آج ذرا خود کو شاہانہ انداز میں ٹریٹ دی جائے۔ بس جونہی چائے کا پانی رکھنے کے لیےچولہا جلانے کی کوشش کی تو گیس کو نہ پا کر یہ نگاہیں ہکا بکا رہ گئیں۔ تحقیقات کے بعد یہ راز ہم پہ افشا ہوا کہ آج دن بھر گیس صاحبہ بھی اپنی شکل نہیں دکھانے والی۔ یعنی لمبی نیند کے بعد اب ہمارا شاہانہ ناشتے کا ارمان بھی ادھورا رہ گیا۔ نامراد دل کے ساتھ، اب جو ہولے ہولے کچن سے باہر آئے تو یہ بات ذہن میں آئی کہ واسا کا ٹیوب ویل گذشتہ کئی دنوں سے خراب ہونے کی وجہ سے نیچےٹینکر میں پانی بھی تو نہیں ہے اور جو اوپر ٹینکر میں بچا کُھچا پانی ہے وہ بس آئندہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے پھر تو ہمارا اور پانی کا بھی ساتھ باقی نہیں رہے گا۔

ان پے در پے آفتوں کے ایک ساتھ نزول کے بعد، تھوڑی دیر کے لئے ایسا لگا کہ شاید میں ابھی تک نیند میں ہوں اور خواب میں چاند یا مریخ پر چہل قدمی کر رہی ہوں جہاں نہ تو کوئی بجلی ہے، نہ گیس اور نہ ہی پانی کا کوئی نام و نشان۔ مگر جلد ہی اوسان سنبھلے اور پتہ چلا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقی زندگی کا ایک منظر ہے جہاں سے نمو و رشد کے آثار آہستہ آہستہ نا پید ہوتے جا رہے ہیں۔

اتوار کی چھٹی خراب ہونے کا دکھ اپنی جگہ، پر مایوسی، بدحالی اور ناکامی کے دلدل میں پھنسنےکا خوف اپنی جگہ۔ یہ سنا تو تھا کہ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر اتنا دردناک اور خوفناک بھی، یہ تو اس دن پتہ چلا۔ اک یہی خیال خوف اور گھٹن پیدا کرنے کے لئے کافی تھا کہ بظاہر تو میں اکیسویں صدی جیسے جدید اورترقی یافتہ دور میں کھڑی تھی پر حقیقتا ہماری زندگی تو پتھروں اور غاروں والے زمانے سے بھی بدتر ہو رہی ہے۔ حالت زار تو یہ ہے کہ آج کےدور میں جب مختلف ممالک 2021 کی سب سے حیرت انگیز اور دلچسپ ایجادات کا مقابلہ منعقد کروانے میں مصروف ہیں، ہم بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ کب بجلی آئے تو پانی کی موٹر اسٹارٹ ہو، پھر کہیں جا کے غسل خانے کے نل سے تھوڑا پانی میسر آئے اور ہمیں نہانا نصیب ہو۔ (مذکورہ عمل واسا کےعملے سمیت تمام ٹیوب ویلز کی صحیح کارکردگی سے مشروط ہے۔)

خیر اب سوچنا یہ ہے کہ آخر ہمارے حالات کب بہتر ہونگے؟ کب ہمیں بنیادی ضروریات کے فقدان نامی بیماری سے آزادی ملے گی؟ کب ہمیں ہمارا مستقبل حقیقی معنوں میں روشن اور تابناک دکھائی دے گا؟ کب ہم بجلی ، پانی اور گیس کے جھنجھٹ سے نکل کر اپنی ذات اورشخصیت کی تعمیرکرپائیں گے؟ سچ کہوں تو رواں حالات نے یہ چیزیں ناممکنات کی فہرست میں شامل کر دی ہیں۔ کیونکہ اگرعوام اپنے جمہوری اور پیدائشی حق کے حصول کے لیے آواز بلند نہیں کرے گی توابتری ان کی منتظر ہوگی۔ ٹھیک ہے آپ یو-پی-ایس اور جنریڑ کی استطاعت رکھتے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ گیس کی کمی آپ ایل-پی-جی سلنڈرسے پوری کر لیتے ہیں اور پانی کے ٹینکر منگوانا تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مگر کاش کہ یہ سارے حربے مسئلے کا مستقل حل شمار ہوتے۔

یاد رکھیں، اجتماعی چوری کا ایک منظم اور خفیہ کاروبار رچا کر مجھے اور آپ کو اس ماحول کا عادی بنایا جارہا ہے۔ لہذا چپ رہ کر مجرم کا ساتھی بننے سے بہتر ہے کہ احتجاج کریں، مختلف پلیٹ فارمز پہ شکایت درج کرائیں، اپنی آواز حکام بالا تک پہنچائیں ۔ ورنہ دور نہیں وہ دن جب بجلی ،پانی اور گیس چور، ہوا سے بھی ساری آکسیجن چرا کر، سانس لینے کیلئے ہمیں سلنڈر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔

راحیلہ بتول

راحیلہ بتول شعبے کے لحاظ سے ایک بینکر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *