ایران ایک اور انقلاب کی جانب گامزن! ۔۔۔ اسحاق محمدی

    

فروری 1979ء میں جب ڈھیر سارے وعدوں کے ساتھ،  ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو اس کے بانی آیت اللہ خمینی کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس کے حامیوں کو موصوف کی تصویر کبھی چاند پر اور کبھی کسی اور سیارہ میں دکھائی دیتی تھی۔  بہت ساروں کو یقین ہو چلا تھا کہ بہت جلد پورا خطہ،  کیا بکنگھم پیلس اور وائٹ ہاوس پر ولایت فقیہ کا جھنڈا لہرانے لگے گا۔  اب یہ مقبولیت قصہ پارینہ بن چکی ہے۔  ولایت فقیہ کی حکومت اپنی بدترین طرز حکمرانی،  بے انتہا کرپشن،  ناانصافیوں اور وحشیانہ مظالم کے باعث ایرانی عوام کی نظر میں اس قدر منفور ہوئی ہے کہ وہ اب  ”مرگ بر اصل ولایت فقیہ“  کا نعرہ لگا رہے ہیں۔  اگرچہ  اس سے پہلے 2009ء،  2017ء اور 2019ء میں بھی ایرانی عوام اس ظالم و جابر،  حکومت کے خلاف بڑی تعداد میں نکل آئی تھی۔  لیکن ولایت فقیہ نے انہیں بزور طاقت کچل کر خاموش کروادیا تھا۔ 

      13 ستمبر 2022ء کو ایرانی اخلاقی پولیس ”گشت ارشاد“  تہران کے میٹرو سٹیشن کے باہر سے ایک 22 سالہ کرد لڑکی مھسا امینی کو  سر کے بال درست طریقہ سے نہ ڈھانپنے کے الزام میں یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئی کہ وہ اسے تنبیہ کرکے چھوڑ دے گی۔  گرفتاری کے وقت اس کا بھائی کیارش امینی بھی ساتھ  تھا۔  اس کے بعد مھسا امینی کے بارے میں اس کے گھر والوں کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی،  تا آنکہ 16 ستمبر کوفون کرکے انہیں یہ اطلاع دی گئی کہ مھسا پر دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔  حالانکہ یہ اطلاع سراسر جھوٹ پر مبنی تھی،  ارشاد پولیس نے اس 22 سالہ کرد لڑکی پر بدترین تشدد کی تھی جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی تھی۔  بعد میں اسی دن مھسا امینی کوما کی حالت میں ہی انتقال کر گئی جس کی موت کی خبر سن کر دوست احباب اور عام لوگ ہسپتال کے باہر اکھٹے ہوکر احتجاج کرنے لگے اور گشت ارشاد کے ہاتھوں ایک اور ایرانی خاتون کی ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے لگے۔  ولایت فقیہ حکومت نے حسب معمول طاقت کا استعمال کرکے احتجاج کرنے والوں کو تتربتر کردیا اور مھسا امینی کی تدفین سیکوریٹی اہلکاروں کے زیر نگرانی رات کی تاریکی میں کروادی۔  اگلے دن یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ایران کے طول و عرض میں لاکھوں لوگ بطور خاص نوجوان نسل ولایت فقیہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی اور یوں ایک پرتشدد احتجاج کا  نیا سلسلہ چل پڑا جو اب تک جاری ہے۔  ہیومن رایٹس تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق مھسا امینی کے چہلم تک ان پرتشدد ہنگاموں میں 253 لوگ بشمول خواتین اور 34 بچے ولایت فقیہ کے سیکوریٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔

      2009ء اور 2017ء کے احتجاجی ہنگاموں کے دوران صرف  ”مرگ بر دیکتاتور/ڈکٹیٹر مردہ باد“  کا نعرہ لگایا جاتا تھا جبکہ 2019ء کے دوران مرگ بر دیکتاتور کے ساتھ  ”مرگ بر خامنہ ای/خامنہ ای مردہ باد“  کے نعرے بھی لگائے گئے۔  مگر حالیہ احتجاجی ہنگاموں کے دوران ان میں  ”مرگ بر اصل ولایت فقیہ/اصل ولایت فقیہ مردہ باد“  کے نعرہ کے اضافے کے ساتھ ساتھ    ”آخوند باید گم شود/ملاؤں دفع ہو جاؤ“  کا اضافہ بھی سننے کو مل رہا ہے جو ایرانی عوام کی اس وحشیانہ نظام سے بے انتہا نفرت کا مظہر ہے۔  ”آخوند باید گم شود“  کا نعرہ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ایک قدامت پسند ملک میں مذہب کی آڑ لے کر حکومت پر قبضہ کرنا آسان ہے لیکن پرانے فرسودہ اصولوں اور ٹولز کے ساتھ نئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق عوام کو ڈیلیور کرنا ناممکن ہے۔  تاریخ میں کئی موقعوں پر دنیا کے مختلف خطوں پر مذہبی حکومتیں قائم ہوئی ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی وہاں کےعوام کو سکھ،  ترقی اور خوشحالی نہیں دے سکی ہے۔  سب سے مشہور قرون وسطی میں کلیسا کی حکومت ہے،  جو پورے یورپ پر صدیوں مسلط رہی۔  لیکن سوائے تباہی و بربادی،  پھانسی و وحشی گری اور پسماندگیوں کے کچھ نہ دے سکی۔  آج تاریخ میں اسے عہد تاریک(Dark  age)  کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔  ایران میں قائم ولایت فقیہ کی مقبولیت راتوں رات کم نہیں ہوئی،  بلکہ حکمران طبقہ کی نا اہلیوں،  کرپشنز اور عوام دشمن کرتوں کے نتیجے میں بتدریج کم ہوتی گئی۔  ایوان اقتدار سے منسلک ایک چھوٹے سے حجت الاسلام سے لے کر آیت اللہ اور آیت اللہ العظمیٰ لیول تک پر کرپشن،  خوردبرد اور اختیارات سے تجاوز کے ایسے ایسے سنگین الزامات ہیں کہ انسان کے ہوش آڑ جائے۔  اوپر سے ان کے بال بچے اور رشتہ دار جنہیں عرف عام میں  ”آغا زادے“  کہا جاتا ہے،  کے کرتوتوں کے سامنے عرب شہزادے بھی شرمندہ ہیں۔  یاد رہے،  کہ محمد رضا شاہ کے دور میں پہلوی خاندان کے صرف چند درجن لوگ مراعات یافتہ تھے۔  لیکن اب آل سعود کی طرح ایرانی مراعات یافتہ آغا زادوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کے سامنے خود ملاؤں کے بنائے گئے قوانین بھی ہیچ ہیں۔

      ایرانی عوام کی ایرانی حکمران ملا ٹولے کے ساتھ چپقلش کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے،  کہ ملا ایران کی پانچ ہزار سالہ تاریخ، عظیم الشان فتوحات،  افتخارات اورہیروز،  مثلاً سائرس اعظم جسے کوروش کبیر کے نام سے یاد کرتی ہے اور ساتھ میں انہیں بابائے قوم کہتی ہے،   نہ صرف ماننے پر آمادہ نہیں بلکہ تواتر سے کھلے عام ان کی توہین بھی کرتے رہتے ہیں۔  بہرحال مذہب کے نام پر قائم ولایت فقیہ کی اس ظالمانہ حکومت کا جانا یقینی ہے جس کا برملا اعتراف ابھی حال ہی میں موجودہ رہبر یعنی سید علی خامنہ ای بذات خود یہ کہہ کر،  کرچکا ہے کہ  ”نظام در پرتگاہ قرار دارد یعنی نظام زمین بوس ہونے والا ہے۔“  صرف دعا یہ ہے کہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو ،  تاکہ ایرانی عوام کا مزید خون نہ بہے اور وہ جلد امن و سکون کے ساتھ علم و دانش اور ترقی و پیشرفت کی منزل کی طرف گامزن ہوں۔

      میری ولایت فقیہ حکومت سے ناپسندیدگی اب نفرت میں اس لئے بدل گئی ہے،  کیونکہ شیعہ کاز کی حمایت کی دعویداری کے باوجود،  شدت پسند سنی طالبان کو افغانستان پر مسلط کرنے میں نہ صرف اس نے اہم کردار ادا کیا،  بلکہ اب بھی ان چند محدود ممالک میں شامل ہے جو ہرقدم پر ان وحشیوں کی حمایت کررہی ہے جوہزارہ قوم کی نسل کشی کی پالیسی پر گامزن ہے۔

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *