ہجرت، ایک جبلی عمل۔۔ علی رضا منگول

ایک بار ہائی کورٹ کے سامنے کوئٹہ کے سب سے بڑے ہوٹل میں ایک این جی او کے زیر اہتمام ایک مجلس میں ہزارہ مائیگریشن کی وجوہات موضوع بحث تھی، جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔

وہاں دوران گفتگو موقع پاکر میں نے اپنی خواندگی اور تجربے کے مطابق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہجرت ایک حیوانی عمل ہے اور ہم فی الحال اس عمل کے سامنے لاچار ہیں تو ایک کہنہ سال معلم میری باتوں سے شدید برہم ہوئے اور انہوں نے غصے میں کہا کہ آپ الفاظ کے تقدسِ کا لحاظ نہیں رکھتے۔

اُن کے اس اعتراض سے کچھ بدمزگی تو پیدا ہوگئی مگر پھر جلد ہی ماحول اعتدال پر آ گیا۔ پھر جب ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تھے تو میں نے دوبارہ موضوع کو وہیں سے پکڑ لیا۔ معلم صاحب نے پھر اپنے وہی الفاظ دہرائے کہ آپ حرمتِ الفاظ کا خیال نہیں رکھتے۔

میں نے عرض کیا کہ ہجرت ایک جبلی عمل ہے اور جبلی عمل کو حیوانی، پیدائشی اور Inborn بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ شعوری عمل اس کے برعکس صرف انسان کے حصے میں آئی ہے۔ اس طرح جبلی عمل حیوانی اور شعوری عمل انسانی فعل کہلانے کی مستحق ہیں، لہٰذا اس میں غلطی کیا ہے؟

میں نے مزید کہا کہ خوراک اور دیگر ضروریات کی نسبتاً آسان تکمیل کے لئے تقریباً تمام جاندار ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں البتہ یہ جبلی عمل ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک انسان اور کوئی بھی سا ایک حیوان جب کسی صحرا میں بھٹک جائے، تو سایہ نہ ملنے پر حیوان لاچار ہوکر کہیں بھی سستانے بیٹھ جائے گا، مگر انسان شعوری مداخلت کرکے اپنے لئے عارضی سائبان بنا کر اس کے سائے تلے آرام کرے گا۔

میں پھر سے وہی بات کہتا ہوں کہ ”شعورِ آدمی کے آگے ہار جبلت کا مقدر ہے۔“

میرا ایک دوست پی ٹی سی ایل سے اُن پچاس ہزار ملازمین کے ساتھ بیک جنبشِ قلم نکالے جانے والوں میں سے ایک تھا، جو کچھ پیسے ملنے پر پانی کے راستے آسٹریلیا چلا گیا اور بقول اُس کے وہاں پہنچ کر ان سے یہ کہہ دیا کہ اسے کمیونسٹ ہونے کے ناطے خطرہ ہے اس لئے وہ بھاگ آیا ہے, یا ہجرت کی ہے۔ خیر، جب اس کی وہاں قبولی ہو گئی تو چند سال بعد واپس آنے پر ایک نشست میں اس نے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا  یار مجھے تو آسٹریلیا بالکل پسند نہیں آیا مگر اب کیا کروں بچے مجھے جان سے مار ڈالیں گے اگر میں انہیں اپنے ساتھ آسٹریلیا لے کر نہیں گیا۔ لہٰذا اب میں مجبور ہوں اس لئے مجھے واپس آسٹریلیا جانا ہی پڑے گا۔ مگر میں اب بھی یہی کہتا ہوں، کہ آسٹریلیا مجھے قطعاً پسند نہیں ہے۔ تو میں نے کہا کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی؟ آپ ایک مرتبہ بچوں کو وہاں پہنچا دو، پھر واپس آکر اپنے لوگوں کی خدمت کر لینا اور ہاں اگر میں تمہاری جگہ ہوتا، تو میں ایسا ہی کرتا۔

اس قصے کو عرصہ بیت چکا، مگر اس کی طرف سے خاموشی ابھی تک چھائی ہے۔

بہر حال ہجرت کرنا یا نا موافق حالات سے بھاگنا ایک حیوانی عمل ضرور ہے اس لئے زندگی میں شعوری مداخلت کے ذریعے تبدیلی کے لئے جدوجہد کرکے جینا چاہیے۔ البتہ جبلت کے تحت عمل کرنا اور حیوان بننا ہرگزدرست نہیں ہے، بس کہہ سکتے ہیں کہ جبر کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ وہ جبر شعور کی کمی یا لاشعوری طور پر عمل بھی ہوسکتا ہے۔

تو نتیجے کے طور پر میری رائے یہ ہے، کہ جبریت کے قوانین کو سمجھتے ہوئے جبر کو توڑا جاسکتا ہے یا کم از کم توڑنے کی انسانی کوشش ضرور کرلینی چاہیے، کیونکہ مسائل و مشکلات سرمایہ داری میں ہرخطہ اور ہر ملک میں نہ صرف موجود ہے، بلکہ آج یہ گھمبیر شکل اختیار کرچکی ہے۔

علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.