جنازے دفناتے دفناتے ہماری جوانیاں اور خواب سبھی دفن ہوگئے ۔۔۔ ابراہیمو ہزارہ

گھر بار چھوڑ کر یہاں آنا اتنا آسان نہیں تھا اُس وقت جس کرب سے ہم گزر رہے تھے وہ میں بیان بھی نہیں کرسکتا۔ اپنی پوری زندگی ہم نے تکلیفوں اور مصیبتوں میں گزار دی۔ اب یہی دعا ہے کہ ہماری نئی نسل کوئٹہ میں اپنی جوانی سکون سے گزارے اور وہ ہماری طرح دربدر نا ہو بلکہ اپنے ہر وہ خواب پورے کرے جس کی وہ تمنا رکھتی ہے۔  ہمارے والد صاحب اکثر ہمیں اپنے پاس بٹھا کر پرانے وقتوں کی یاد تازہ کیا کرتے تھے۔ مگر قدرت…