مادری زبان اور تعصب ۔۔۔ علی رضا منگول

      

ویسے تو میں تین مختلف زبانوں  ،اردو،  فارسی اور انگریزی میں پڑھتا اور لیکچرز وغیرہ سنتا رہتا ہوں۔  مگر ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی میری مادری زبان نہیں ہے۔  کیونکہ میں ترکی آمیزش مغلی زبان  ”ہزارگی“  بولتا ہوں،  جس پر غلبہ فارسی کا ہے۔  ان تینوں زبانوں میں سے میری حقیقی مادری زبان کونسی ہے؟  ترکی،  مغلی یا پھر فارسی؟  مگر مجھے تو نہ ترکی پر عبور ہے،  نہ فارسی پر اور نا ہی مغلی پر۔  پھر میری مادری زبان کونسی ہے اور کیوں ہے؟  اس کا فیصلہ کیسے ہوگا؟

       حقیقت تو یہ ہے کہ میری قومیت جبری،  میری زبان جبری،  میرا مذہب جبری،  میرے چہرے کے نقوش جبری اور حتیٰ کہ جس خطے میں،  میں پیدا ہوا ہوں وہ بھی جبری ہے۔  پھر ان سب پر فخرکرنا اور اِترانا کیونکر؟  اگر میں موجودہ علاقہ،  زبان،  قومیت،  مذہب اور چہرے کی جبریت سے آزاد ہوتا۔  یعنی:  کسی اور علاقے،  زبان،  قومیت،  مذہب اور چہرے کی جبریت کا شکار ہوتا،  تو پھر کیا ہوتا؟  اسی طرح یہ سوال اُن سے بھی ہے جو ان جبری حوالوں پر تعصب کا شکار نظر آتے ہیں۔

       یہ بات تمام قوموں کے قوم پرستوں اور سیاسی کارکنوں کو شاید اچھا نہ لگے۔  کیونکہ میں تمام زبانوں کو اپنی مادری زبان مانتا ہوں،  خصوصاً وہ زبان جس میں زندگی کے زیادہ تجربات اور آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع اور امکانات میسر ہیں۔  مادر قربانی کا پیکر اور محبت کا استعارہ ہے،  ماں تلاطم موجوں میں زندگی کے لئے کنارہ ہے۔  اب کسی زبان میں اگر یہ سب ہوں تو اسے کیا نام دیا جائے؟  زبان جس میں دنیا کے علوم میں انسانی تجربات کا ذخیرہ ہو،  جس میں زندگی کے اسرار و رموز موجود ہوں اور جو زندگی کو بہتر اور آسان بنانے کا گُر سکھاتے ہوں،  اُن سے تعصب یا نفرت کیسی؟

       کیا کسی ایک زبان میں دنیا کے تمام انسانی تجربات کا نچوڑ ممکن ہے؟  کیا کسی ایک علاقے میں تمام وسائل زیست میسر ہیں؟  کیا کسی ایک چہرے میں خوبصورتی ہے اور وہ میرا ہی ہو؟  کیا میرا یا کسی اور کا جبری مذہب ہی سچا اور حقیقی ہے؟  اِسی طرح قوم یا قومیت میں،  کیا تمام اقوام کے لوگوں میں خوشحال اور لاچار لوگ موجود نہیں ہیں،  جیسا میری قوم یا قومیت کے لوگ ہیں؟  اگر یہ سوالات جواب طلب ہیں اور کسی کے پاس کوئی معقول انسانی جواب نہیں،  تو پھر ان تعصبات کی وجوہات کیا ہیں؟

       انسان ایک،  دنیا ایک اور اس کے وسائل سب کے لئے،  دنیا کی تباہی سب کے لئے نقصان،  دنیا میں انسانی تجربات کا فائدہ سب کے لئے،  دنیا میں بے بہا و بے شمار اور اضافی وسائل کی موجودگی جو ہر صورت انسان اور اس کی دائمی ترقی کے لئے کافی ہیں۔  پھر ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے وہ سوچنا چاہیے؛  نہ کہ ایک دوسرے سے تعصب اور نفرت میں سب کچھ برباد کرکے پھر ماتم کرنے بیٹھ جائیں۔

سرمایہ داری کے زوال میں قوموں اور زبانوں کا ارتقا بھی رک گیا ہے اور اس نظام کی ضعیفی میں اب نہ انسانوں کی بہتری ممکن رہی ہے اور نا ہی ان کے زبانوں کی۔  کیونکہ یہ نظام شخصی اور ذاتی منفعت کی بنیادوں پر استوار ہے اور جب تک یہ نظام موجود ہے منافع کی خاطر جنگیں،  قتل و غارتگری اور بربریت لازمی ہے۔  ہمیں اپنا تعصب اور نفرت کو جنگ،  بربادی،  تعصب اور نفرت کی جانب ہی موڑنا ہوگا،  جس میں پھر سے انسانی ارتقا اور کرہ ارض کی ضمانت مضمر ہے۔

علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.