ایک جائزہ: خالد حسینی کا ناول “اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز” … سجاد حسین

خالد حسینی کی “A Thousand Splendid Suns” جذباتی سطح پرمیرے لیے مشکل ترین کتابوں میں سے ایک تھی۔ مریم اور لیلا کے کرداروں میں جس ماہرانہ انداز سے خالد حسینی نے افغانستان کی دو نسلوں کا نمایندہ درد پیش کیا ہے، وہ کمال ہے۔
ہمارے لیے، اور ہم سے یہاں میری مراد اردو زبان میں زیر نظر جائزہ پڑھنے والے پاکستان کے وہ پشتون اور ہزارہ دوست ہیں جو خاندانی ریشوں، رشتہ داریوں، پشاور اور کوئٹہ میں مہاجرین کے ساتھ میل ملاپ اورافغانستان سے جغرافیائی قربت کے سبب افغانستان کی تاریخ اور جنگ سے متعلق انسانی المیوں کو سمجھنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ یہ واجب ہے کہ خالد حسینی جیسے ذہین مصنف کی مسحور کن داستان گوئی سے استفادہ کریں۔ “Kite Runner” کے بعد اگر خالد حسینی کی فن ِ ناول نگاری پر مجھے اگر کچھ گمان باقی تھا تو وہ اس ناول سے دور ہو چکا ہے۔ میرے لیے خالد حسینی بجا طور پر ذہین اور تاثیر رکھنے والے ان مصنفین میں سے ہیں جن کے ناول داستان برائے داستان یا ادب برائے ادب پر مشتمل نہیں بلکہ ایک زندہ قاری کے طور پر آپ کو بھرپور طریقے سے جھنجھوڑتے ہیں، آپ کو اپنے گریبان میں دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں اور آپ کو بہتر انسان، بہتر مرد اور بہتر عورت بننے کی دعوت دیتے ہیں۔
 
اس ناول کا پس منظر زوال پذیر افغانستان ہے جو بادشاہت سے نکل کر جدیدیت کے ساتھ مختصر اور ناکام افیئر چلانے کے بعد انتہا پسندی کے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ کہانی کے دو مرکزی خواتین کرداروں میں سے مریم 1959 کے ہرات میں جبکہ لیلا بیس سال بعد یعنی 1979 میں کابل میں پیدا ہوتی ہے۔
اس حوالے سے یہ کتاب ان تمام طلبا و طالبات کے لیے بھی ضروری ہے جو افغانستان کی جدید تاریخ سے واقفیت چاہتے ہیں۔ خصوصا” وہ ساتھی جو سیاست، پراکسی وار، جہاد اور انٹرنیشنل ریلیشنز اور ریال پالیٹکیس کے سحر سے نکل کر انسانی سطح پر افغانستان کو پڑھنا سمجھنا چاہتے ہیں۔
“میری بیٹی، افغانستان میں عورت ہونے کا یہ بہترین وقت ہے”
اس ناول کی ایک خوبی یہ ہے کہ کمیونسٹ گروہوں کی برائیوں کے ساتھ ساتھ چند ایک خوبیوں کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ “Kite Runner” میں میں نے اس عنصر کی کمی محسوس کی تھی، خصوصا” اس پر مبنی فلم میں جہاں روسیوں کو سخت ظالم دکھا کر امریکہ کو ہیرو کا درجہ دیا گیا تھا۔ میری نظر میں مغربی قارئین کی قبولیت سے کسی حد تک بے نیاز ہو کر خالد حسینی کا اس ناول میں کمیونسٹ حکومتوں کی طرف سے عورتوں کو آزادی دینے کا جشن منانا اس ناول کی جرات مندی کا ثبوت ہے۔
پندرہ سالہ مریم کی شادی جس چالیس سالہ رشید سے ہوتی ہے، مریم سے بیس سال چھوٹی لیلا کی بھی شادی اسی رشید سے ہوتی ہے جو اس وقت پچاس کے پیٹے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ اور یوں اس مقام پر افغانستان کے ہرات اور کابل کی دو مختلف نسلوں کی نمایندہ عورتوں کی کہانیاں آپس میں ضم ہو جاتی ہیں۔
خالد حسینی جس طرح کایئٹ رنر میں نسلی احساس ِبرتری اور نسلی منافرت کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہیں، کچھ یوں ہی اس ناول میں افغانستان کی عورت مخالف پدرسری نظام کو تاراج کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ ایک ہی زمان و مکان دونوں ناولوں کو تاریخی پس منظر فراہم کرتے ہیں، اس لیے نسلی برابری کی آواز کی گونج یہاں بھی سنائی دیتی ہے۔
رشید جو پدرسری نظام کا نمایندہ کردار ہے، ایک پشتون ہے جبکہ مریم اور لیلا دونوں تاجک لڑکیاں ہیں۔ ایک لمحے کے لیے میں نے رک کر تنقیدی جائزہ لیا کہ کہیں ان دونوں ناولوں میں پشتون ولن کردار کسی ادبی انتقام و تنقیص کا ذریعہ تو نہیں لیکن ساتھ ہی یاد آیا کہ دونوں کہانیوں کے ہیرو بھی تو پشتون مرد ہی ہیں اور یہ بات افغانستان کی سیاسی تاریخ سے کسی طور بے جوڑ نہیں جہاں اقتدار کی ڈرائیونگ سیٹ پر پچھلے ڈیڑھ سو برسوں سے ایک ہی شناخت کا طبقہ بیٹھا ہے۔ خالد حسینی جیسے ذہین مصنف سے بعید نہیں کہ رشید کی صورت میں عبدالرحمن سے ظاہر شاہ، سردار داود سے مختلف کمیونسٹ گروہوں تک، ملا عمر سے کرزئی اور اشرف غنی تک کا نمایندہ تراش لایا ہو۔ اقتدار پرستی، نسلی احساس برتری اور پدر سری کا نمایندہ رشید جس کی جوتی کی نوک پر تاجک، ہزارہ اور ازبک مریم اور لیلی کی مانند اس کی بیویاں ہیں۔
یہ ناول بالخصوص گھروں میں عورتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بلند ترین آواز ہے۔ اس حوالے سے میں نے اس سے زیادہ متاثر کن ناول نہیں پڑھا اب تک۔ عام ناول نگاروں سے جدا، خالد حسینی اپنے ناولوں میں تاریخی نکتہ نظر لے کر کہانی آگے بڑھاتے ہیں۔
عورتوں کی آزادی کے حوالے سے افغانستان کی اشرافیہ اکثر ناسٹلجیک رہتی ہے۔ ستر کی دہائی میں کابل کے ایک دو بالائی طبقات میں عورتوں نے اگر اسکرٹ پہن لیا اور احمد ظاہر نے کچھ گانے گائے تو بھی ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اس وقت کے افغانستان میں کوئی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں۔ بلاشبہ اس افغانستان میں وہ تمام تاریخی علتیں اور بیماریاں موجود تھیں جس نے بعد میں طالبان کے افغانستان کو جنم دیا۔ اس خانہ خرابی میں روس، ایران، پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ کو جس قدر الزام دیں، کچھ نہ کچھ تو درون ِ خانہ تھا جس نے یہ اہتمام کیا۔
خالد حسینی اس حوالے سے بڑے پکے لکھاری ہے۔ ان دو نمایندہ کرداروں میں سے جہاں لیلا کو خانہ جنگی، مجاہدین اور طالبان پامال کرتے ہیں وہیں مریم کے لیے اس کا پہلا ولن اس کا اپنا سرمایہ دار تاجک باپ ہے۔ اور تو اور رشید بھی کوئی مذہبی جنونی نہیں، بلکہ افغانستان کے اکثریتی مردوں کا نمایندہ ہے جس کو کبھی شراب کی عادت تھی، جو خود پورن میگزین سے دل بہلا کر عورتوں کو برقعہ پہنانے کے لیے سرگردان رہتا ہے، اور جس کے نامنصفانہ اور ظالمانہ کردارکو مجاہدین اور طالبان کے آنے سے صرف مزید تقویت ملتی ہے۔ یعنی طالبان اور مجاہدین کی آمد سے قبل بھی افغان معاشرے اور ثقافت میں عورتوں کے قابل تعریف حالات نہیں تھے۔
ان سب باتوں کے باوجود، خالد حسینی کے اس ناول کو میں نے ممکنہ پانچ میں سے چار سٹار ریٹ کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آخری باب باقی کتاب سے اچانک اور یکسر مختلف ہے۔ کتاب میں خالد حسینی انسانی کرب اور درد کی پرتوں کو جس کمال نزاکت سے ترتیب وار کھولتے ہیں، آخری باب میں وہ عجلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خصوصا” ان کی داستان گوئی ایک دم سے فعل ِ حال میں آجاتی ہے۔ لیلا یہ سوچتی ہے، زلمے یہ کرتا ہے، عزیزہ یوں جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ پورے کتاب میں حقیقت پسندی کی وجہ سے مصنف داد سمیٹتا ہے لیکن آخری باب میں لگتا ہے کہ تاریخ سے بے نیاز ہو کر مصنف آپٹیمزم کا شکار ہو رہا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے وہ جنگ کے ختم ہونے، انسانی المیوں کے تمام ہونے کا اعلان وقت سے کچھ پہلے ہی کر رہا ہے، خدا جانے یہ امید پسندی کوئی سیاسی مصلحت ہے یا مصنف کے دل و دماغ پر طاری کوئی وقتی کیفیت، لیکن میرے حساب سے ادب کے لیے یہ عنصر تھوڑی کمزوری کا باعث ہے۔
کتاب کا عنوان کابُل کی مدح میں صائب تبریزی کی لکھی ہوئی غزل سے لیا گیا ہے۔ “دُو صد خورشید” کا غیر لفظی ترجمہ “A Thousand Splendid Sun” کیا گیا ہے۔
 
خوشا عشرت سرای کابل و دامان کهسارش
که ناخن بر دل گل می زند مژگان ہر خارش
چه موزون است یارب طاق ابروی پل مستان
خدا از چشم شور زاہدان بادا نگهدارش
حساب مه جبینان لب بامش که می داند؟
دو صد خورشید رو افتاده در ہر پای دیوارش
صائب بیچارے نے تو اس غزل میں دعا کی تھی کہ خدا کابل کو زاہدوں کی فتنہ گر نظروں سے اپنے حفظ و امان میں رکھے، کسے خبر یہ دعا کیوں قبول نہیں ہوئی!!
سجاد حسین

سجاد حسین

سجاد حسین پاکستان سے تعلق رکھنے والے روٹری پیس فیلو اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا سے گلوبل سٹدیز کے گریجویٹ ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے لیے ایک سرگرم آواز ہیں اور گزشتہ دو صدیوں کی مذہبی تحریکوں کا مطالعہ کررہے ہیں۔ آپ انھیں @Changovski پر ٹویٹ کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *