موجودہ پاکستانی نظام تعلیم اور ایرانی دینی مدارس کے نظام تعلیم کا اجمالی موازنہ ۔۔۔ اسحاق محمدی

 کہنے کی حد تک تو شیعہ دینی مدارس کی قدامت ایک ہزار سال کے قریب ہے،  لیکن جب میں نے اس کے تعلیمی نصاب(ایجوکیشنل کیریکولم)  اور امتحانی نظام پر مواد اکھٹا کرنے کی شروعات کیں تو یہ جان کر سخت متعجب ہوا کہ ماضی قریب تک نہ تو باقاعدہ کوئی یکساں نصاب موجود تھا اور نہ ہی تحریری امتحان لینے کا تصور!  یعنی جس کی مرضی کسی مدرسہ میں دس سال لگالے،  بیس سال لگالے یا پھر عمر بھر رہے، اسے  ”شہریہ“  (Stipend یا فکس تنخواہ)  ملتی رہتی تھی،  لہٰذا بہت ساروں کو زیادہ جلدی نہیں تھی۔ 

ایرانی اسلامی انقلاب 1979ء کے تین سال گذر جانے کے بعد تب کہیں جا کر آیت اللہ بروجردی نے 1982ء میں ایرانی مدارس میں یکساں نصاب تعلیم اور تحریری امتحانات کا آغاز کروایا۔  تاہم مجھے اس بارے میں معلومات نہیں ملیں کہ اگر کوئی  ”طالب“  کسی لیول کے امتحان میں فیل ہوجائے تو اس کا کیا بنتا ہے؟  آیا اسے مدرسے میں رہنے دیا جاتا ہے،  یا نہیں؛  اور اگر رہنے دیا جاتا ہے تو مزید کتنے ٹرمز تک؟  یا پھر حسب سابق عمربھر پکا طالبعلم بن کر  ”شہریہ“  کے مزے لوٹتا رہتا ہے؟

یاد رہے،  کہ 1980ء کے دوران جب میں،  شادروان عالم مصباح اور دیگر چند دوست مدرسے میں زیر تعلیم تھے،  تب کوئی دو درجن کے قریب 60، 70 سال کے بوڑھے طالب بھی ہمارے کلاس فیلو تھے۔  جب بھی ہم ان سے پوچھتے:  ”یا شیخنا اب کہاں تک تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ ہے؟“  تو ان کی طرف سے ہمیشہ ایک ہی جواب آتا:  ”اطلبوا العلم من ا لمہد إلی اللحد“  یعنی گہوارہ سے گور تک تعلیم حاصل کرتے رہو۔  حیرت انگیز طورپر بظاہریہ تمام بوڑھے طالبعلم نصابی پڑھائی میں بے حد نالائق؛  لیکن فن خطابت اور مباحثے میں سب استاد تھے۔  آگے چل کر پتہ چلا کہ یہ دونوں شعبے(یعنی خطابت و مباحثہ)  ان کی عملی تربیت کے واجبی حصے ہیں۔

چلیں،  اب اپنے اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔  جدید دنیا کی ترقی یافتہ اقوام علم و دانش کے معاملے میں کافی آگے بڑھ چکی ہیں۔  ان سے کسی دینی مدرسے یا کسی ترقی پذیر ملک کے نظام تعلیم کا موازنہ کرنا سورج کو چراغ  دکھانے کے مترادف ہے،  لہٰذا میں پاکستان جیسے پسماندہ ملک کے بدحال درسی نظام کا موازنہ ایران کے عصر حاضر کے،  بہ اصطلاح جدید دینی مدارس(حوزہ)  کے نظام سے کرتا ہوں تاکہ قارئین اور بطور خاص ان چند دوستوں کا ذہن کلیئر ہوجائے جو ہمیشہ مجھ سے اس ضمن میں سوال کرتے رہتے ہیں۔  اس بابت چند ضروری لنکس بھی دیئے گئے ہیں،  تاکہ کسی کو بلاجواز الزام تراشی کا بہانہ نہ مل سکے۔

پاکستان کے تدریسی موادو مدت اور درجاتی مراحل گیارہ سالوں تک:

ابتدائی/پرائمری سکولوں میں عرصہ چھ(6)  سال تک طالب علموں کو بنیادی اردو،  انگریزی،  ریاضی،  سائنس،  معاشرتی علوم اور اسلامیات پڑھائے جاتے ہیں اور ہائی سکولوں میں عرصہ پانچ(5)  سال تک اردو،  انگریزی،  ریاضی،  فزکس،  کیمسٹری،  بیالوجی؛  جبکہ آرٹس گروپ میں اسلامیات،  جنرل سائنس اور جنرل میتھ پڑھائے جاتے ہیں۔

ایرانی دینی مدارس کے تدریسی مواد و مدت اور درجاتی مراحل دس سالوں تک:

ایران میں ابتدائی/پرائمری مرحلے کو  ”مقدمات“  کہتے ہیں۔  اس مرحلے میں طالب علموں کو نصاب میں شامل بنیادی عربی،  فارسی،  گرائمر،  منطق،  فقہ و اصولِ فقہ سے آشنائی،  عرصہ چھ(6)  سال تک پڑھائے جاتے ہیں۔  اس کے بعد ہائی سکول لیول جسے ایران میں  ”سطح“  کہا جاتا ہے،  میں فقہ،  اصولِ فقہ،  قرآن،  تفسیر،  حدیث،  کلام اور فلسفہ کی تدریس قدرے تفصیل کے ساتھ عرصہ چار(4)  سال تک پڑھائے جاتے ہیں۔(یاد رہے،  کہ درج بالا مرحلوں کے دوران بحث و مباحثہ اور خطابت پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے)

درس خارج:

یہ مرحلہ چار سال اور مزید سالوں پر محیط ہوتا ہے،  جس میں زیادہ تر توجہ تخیل و قیاس کے ذریعے(خود بقول ان کے)  جدید مسائل کا شرعی حل نکالنے پر مرکوز ہوتا ہے،  جیسے فقہ قیاسی بھی کہا جاتا ہے۔  دراصل یہ مرحلہ رتبہ مجتہد کی طرف لے جاتا ہے۔  کئی عوامل کی بنا پر طلبا کی ایک نہایت محدود تعداد درس خارج میں شامل ہوتی ہے،  جس میں زیادہ تر ایرانی اور عرب ہوتے ہیں۔  کیونکہ افغانستان یا پاکستان جیسے ممالک کے طلبا شاید آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔  

”اب ذرا اپنی توجہ پاکستانی سکولوں اور ایرانی مدارس کے موجودہ نصاب کی طرف مبذول کرتے ہیں۔“

پاکستان:

اگرچہ پاکستان ان بد قسمت ممالک میں شامل ہے جہاں تعلیم پر کل قومی پیداوار کا تین فیصد(3%)  سے بھی کم خرچہ کیا جاتا ہے،  لیکن اس کے باوجود ہر چند سالوں بعد تعلیمی نصاب کو اپ ڈیٹ ضرور کیا جاتا ہے۔  ہر صوبے اور بورڈ میں ماہرین تعلیم اپنے حالات اور ماحول میں رہتے ہوئے طے شدہ اصول کے تحت نصاب میں تبدیلی لاتے رہتے ہیں۔

دینی مدارس:

جہاں تک شیعہ مدارس کے نصاب کا تعلق ہے،  وہ صدیوں سے جامد چلا آرہا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہاں حقیقی معنوں میں تحقیق و جستجو کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔  بنیاد فقہی کتب اپنی جگہ زبان جیسے متحرک مضمون میں بھی صدیوں پرانی کتب پڑھائی جارہی ہیں۔  مثلاً عربی گرائمر کی کتب الھدایتہ فی النحو ابوحیان اندلسی متوفی 1344ء(ساڑھے سات سو سال پرانی)  کی؛  جبکہ الفوائد الصمدیہ شیخ بہائی متوفی 1621ء(پانچ سو سال پرانی) کی تصنیف کردہ ہیں،  پڑھائی جاتی ہے۔  یہی حال دیگر مضامین کا بھی ہے۔  منطق میں کتاب حاشیہ ملا عبداللہ متوفی 1387ء کی؛  فقہ اور اصولِ فقہ میں شرح لمعہ شہید ثانی متوفی 1558ء کی اور رسائل اور مکاسب نامی کتابیں شیخ مرتضی انصاری متوفی 1864ء کی ہیں،  پڑھائی جاتی ہے۔  اسی قرون وسطائی نصاب تعلیم کی وجہ سے ان دینی مدارس کے درمیانی لیول(سطح)  تو کجا درس خارج کہلانے والے اعلیٰ لیول سے بھی صرف توضیح المسائل نامی رسالہ ہی صدیوں سے کاپی در کاپی در کاپی کی صورت میں محض ایک نئے نام سے برآمد ہوتا آرہا ہے۔  اسی لئے اس بارے میں معروف ایرانی مذہبی اسکالر اور ولایت فقہ کے ایک کٹر حامی ڈاکٹر حسن رحیم پور ازعدی کو سرکاری میڈیا پر مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ:  ”اس وقت صرف قم میں سات سے آٹھ سو صاحب رسالہ(توضیح المسائل) مجتہدین موجود ہیں،  جن میں سے ہر ایک کے پاس طہارات و نجاسات جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل پر کہنے کو ڈھیر ساری باتیں موجود ہیں،  لیکن اس جم غفیر میں کسی ایک کے پاس بھی ایک قابل عمل اسلامی اقتصادی نظام،  جدید بینکنگ سسٹم یا بین الاقوامی اسلامی تعلقات جیسے اہم ترین موضوعات پر کہنے کو ایک جملہ تک نہیں۔  آگے چل کر وہ معروف مذہبی اسکالر مرتضیٰ مطہری کے حوالے سے مزید کہتا ہے،  کہ:  ”حل طلب مسائل کا حل نکالنا ہی ایک مجتہد کی بنیادی ذمہ داری ہے،  حل شدہ مسائل کی ہزاروں مرتبہ تکرار کہاں کی عقلمندی ہے۔“  (یہ ویڈیو یوٹوب پر دستیاب ہے)۔  یہ نتیجہ اس پس منظر میں تکلیف دہ حد تک مایوس کن ہے،  کہ شیعہ دینی مدارس مالی لحاظ سے دنیا کی بڑی نامور یونیورسٹیز کے ہم پلہ ہیں جبکہ طالبعلموں کو شہریہ(Stipend)  بھی باقاعدگی سے ملتا رہتا ہے۔  یاد رہے،  کہ یونیورسٹیزمیں نہایت قلیل تعداد میں صرف انتہائی ذہین طلبا کو ہی اسکالرشپس ملتی ہیں،  باقی سیلف فائنانسنگ یا سٹوڈنٹس لون کے ذریعے اپنی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔

       

قارئین کرام!  درج بالا حقائق سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں،  کہ جدید ایرانی حوزوں (دینی مدارس)  میں تمام تر نوآوری(جدید سازی) کے باوجود حسب سابق سطح(میٹریکولیشن)  ہی دراصل مولوی بننے کا کلیدی اسٹیج ہوتا ہے جس کا کل دورانیہ صرف دس (10) سال ہوتا ہے۔  یعنی پاکستان جیسے پسماندہ ملک سے بھی ایک سال کم۔  ان میٹرک پاس مذہبی طالبعلموں کی بہت بڑی اکثریت عمامہ گذاری(دستاربندی)  کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز کسی مسجد میں پیش امام،  نکاح خوان یا روضہ خوان کی حیثیت سے؛  یا پھر ایرانی ہونے کی صورت میں اور مضبوط سفارش ہونے پر کسی (کماؤ)  سرکاری محکموں (جیسے کہ:  پیٹرولیم،  کسٹمز،  فارن آفس وغیرہ)  میں نوکری شروع کرتی ہے۔  اس ضمن میں المناک نکتہ یہ ہے کہ بلند بانگ زبانی کلامی دعوؤں کے برعکس یہ سند یافتہ مولوی حضرات،  مفاد عامہ کے محکموں (جیسے کہ:  ایجوکیشن،  پبلک ہیلتھ،  سپورٹس،  سماجی بہبود وغیرہ)  کا رخ کرنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے۔(اس بابت کئی مستند ویڈیوز یوٹوب پر موجود ہیں)  اب آپ خود اندازہ لگایئے،  کہ ہمارے ملک،  صوبہ اور شہر میں موجود یہ قم پلٹ مولوی صاحبان کتنے پانی میں ہیں اور ان کا علمی مقام کیا ہے؟  جہاں تک مولوی اور عالم دین کے فرق کا تعلق ہے،  اچھا ہوگا کہ آپ برصغیر کے معروف شیعہ عالم دین ڈاکٹرعلامہ کلب صادق کی یہ مختصر لیکن پرمغز ویڈیو خود ہی دیکھ لیں٭۔

حوالہ جات:

 https://fa.wikishia.net/view/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D 

https://hawzah.net/fa/Magazine/View/6436/6944/83779/%D8%A2%DB%8C%D8%A7

https://www.islamquest.net/fa/archive/question/fa2865

٭https://www.youtube.com/watch?v=HEAcV7ZvQAg

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *