یاد دہانی ۔۔۔ مصطفیٰ شاہد

یاد دہانی۔۔۔  مصطفیٰ شاہد اُس رات وہ چور دروازے کے پیچھے کھڑا تھا اُس نے دَرز سے دیکھا کمرے میں حقیقت ننگی کھڑی تھی اگلی صبح کپڑے پہن کر جب وہ دفتر کی طرف جانے لگا تو اس نے خود سے کہا: ”میں غلط بھی ہوسکتا ہوں“ شام کو اُس نے یہ بات فریم کرکے کمرے کی دیوار پر لٹکا دی!

والعصر ۔۔۔ مصطفیٰ شاہد

والعصر مصطفیٰ شاہد پھولی ہوئی سانسوں کی ڈوریں  جب اس کے پاؤں سے لپٹیں تو وہ باسٹھویں زینے پر بیٹھ گیا “کاش میں واپس جاسکتا” اس نے سوچا: “پانی کا رخ موڑ کے واپس آجاتا عمر کا بہتا پانی کیسے خاک ہوا  تن کے خار و خس کی سیرابی میں پانی خاک ہوا  اس سے بڑھ کر اور جہنم کیا ہوگا من کی کھیتی سوکھ گئی بہتا پانی خاک ہوا”