اونچا مقام ۔۔۔ عارف چنگیزی

اقتدار کی خاطر لڑائیاں تو جنگلوں میں بھی ہوا کرتی ہیں۔ اسی طرح کی ایک لڑائی میں شیر ہار گیا اور ہاتھی جیت گیا۔ یوں ہاتھی جنگل کا بادشاہ بن گیا اور شیر نے اس کی اطاعت قبول کرلی۔ چند روز بعد شکست خوردہ شیر چٹان پر بیٹھا بال سکھا رہا تھا تو وہاں سے ہاتھی کا گزر ہوا۔ شیر نے ایک ہی نظر میں چٹان کی اونچائی بھانپ لی۔ جب اسے پورا یقین ہوگیا کہ ہاتھی اس تک نہیں پہنچ سکتا، تو وہ کھڑا ہوا اور پورا منہ کھولے  اس نے غرا کر ہاتھی کو للکارا: ”اوئے موٹے! جاؤ میں تمہیں بادشاہ نہیں مانتا۔“ ہاتھی شیر کی للکار سن کر لمحہ بھر رکا، چٹان کی اونچائی کا جائزہ لیا اور پھر مسکرا کر جواب دیا: ”برخوردار! یہ تم نہیں بلکہ پچاس فٹ اونچی چٹان بول رہی ہے۔“

درج بالا مثال سے بات صاف ہو جاتی ہے، کہ جیسے تیسے کسی اونچی چٹان پر چڑھ کر کھڑا ہونا کامیابی نہیں ہے، بلکہ اونچے مقام پر پہنچنا کامیابی ہے۔ اس طرح کی کامیابی کامیابی نہیں، بلکہ عارضی خام خیالی ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی ہوتی ہی وہی ہے جودیرپا اور زندگی بھر کے لئے ہو۔ اسی طرح بعض لوگ اونچی چٹان کی چوٹی کو ہی اونچا مقام سمجھتے ہیں اور انہیں کسی چٹان کی چوٹی اور اونچے مقام میں تمیز نہیں ہوتی۔ اس طرح کے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، کہ اونچی چٹان کی چوٹی سے کسی بھی وقت منہ کے بل گرا جا سکتا ہے، مگر اونچے مقام سے اسے کوئی بھی نہیں گرا سکتا۔ کیونکہ بلند مقام حاصل کرنے کے لئے ایک انسان کو سخت محنت و لگن اور جان فشاں جستجو و جدوجہد کرنی پڑتی ہے، جبکہ اونچی چٹان کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے اسے ان چیزوں کی ضرورت کبھی پیش نہیں آتی۔ معاشرے کے بعض افراد جھوٹ، فریب، مکاری اور دھوکے بازی سے حاصل ہونے والی کامیابی کو اونچا مقام تصور کرتے ہیں، جبکہ یہ ان کی بھول ہے۔ کیونکہ اس طرح کی کامیابی کی حیثیت اونچی چٹان کی چوٹی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یقینا ایسے شخص کی مکاریوں اور دغابازیوں کا بھید معاشرے پر ایک نہ ایک دن ضرور کھل جائے گا اور وہ اس چٹان کی چوٹی سے ایسے منہ کے بل گرے گا، جیسے چائے کی پیالی سے مکھی نکال کر پھینکی جاتی ہے۔

معاشرے کے بعض طالع آزما افراد اونچا مقام حاصل کرنے کے لئے شبانہ روز محنت کی بجائے دوسروں کے پاؤں پڑنے کا حربہ استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ ایک حد تک شاید کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ اس معیوب روش پر ایسے افراد کو عموماً بے عزتی برداشت کرنا پڑتی ہے اور لوگوں کے طعنے اور گالیاں بھی سننا پڑتی ہے۔ مگر اس طرح کے طوطا چشم افراد یہ سب کچھ خوشی خوشی سہنے کے لئے بھی تیار ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی قابلیت کی بجائے شارٹ کٹ رستے سے کسی مقام پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس اس بات پر ہے، کہ ایسا فرد جس نے اپنی چاپلوسیوں سے کسی مقام کے حصول میں لوگوں سے اپنے لئے بے عزتیاں بٹوریں اور گالیاں بھی کھائیں، جب شارٹ کٹ رستے سے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے، تو اپنی بے عزتیوں اور کھائی ہوئی گالیوں کا بدلہ لینے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے وہ معاشرے کے ان بے بس اور کمزور لوگوں کا انتخاب کرتا ہے، جو اس کے پاس کسی کام کے سلسلے میں حاضر ہوتے ہیں۔

بعض لوگوں کو اونچا مقام وراثت میں ملتا ہے، حالانکہ ان کی حیثیت و قابلیت اس منصب کے  قابل  نہیں ہوتی۔ مثلاً: اکثر شخصیات اپنے باپ کی چھوڑی ہوئی کمپنی کا چیئرمین بن جاتی ہیں، تو کوئی اپنے باپ کے پیسوں سے بنائی گئی پرائیوٹ اسکول کا پرنسپل بن جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی ڈگری اور قابلیت اسے خواب میں بھی چیئرمین اور پرنسپل بن جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے، کہ اس نشست پر بیٹھ کر ایسے افراد اپنے سے زیادہ قابل اور ڈگری یافتہ کی توہین کرکے اسے اپنی کمپنی یا اپنے اسکول سے یہ کہہ کر برخاست؛ یا پھر انتخاب کرنے سے انکار کرتے ہیں، کہ فلاں شخص کی قابلیت کا معیار اس کی کمپنی یا اسکول پر پورا نہیں اترتا۔

دعا ہے، کہ سوسائٹی کے ایسے افراد کو ”مقام اور چٹان کی“ اونچائی میں امتیاز کی توفیق حاصل ہو۔

عارف چنگیزی

عارف چنگیزی

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل عارف چنگیزی گزشتہ کئی سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *