کردار کے غازی ۔۔۔ اسحاق  محمدی

حوالدار قمبرعلی  مرحوم  (1931-2008)

اتفاق سے  میرے بچپن کے کچھ سال گلی حاجی  عیسی وارڈ  ممبر  میں  مرحوم  حوالدار  قمبرعلی  المعرف بہ  بابے فدا  (انکے بڑے بیٹے کانام) کے عین سامنے والے مکان میں گزرا ،  اس لئے  ان سے ایک حد تک  واقفیت  بچپن ہی سے ہے۔ پاکستان آرمی میں تھے،  میں انہیں اکثر و بیشتر فوجی وردی میں آتے جاتے دیکھا کرتا تھا۔  قدرے سخت طبیعت کے مالک تھے۔ جہاں تک مجھے یاد  پڑتا ہے   78ـ1977کے دوران جب  میں  یزدان خان ہائی سکول  کی  آٹھویں یا  نویں جماعت  میں تھا تب میں انہیں روز  چاہے سخت گرمی ہو یا سردی ہزارہ قبرستان سے اوپر پہاڑ کے دامن  میں کھدائی کرتے،  پتھر  کی دیوار  بناتے  اور  نرم  مٹی کو  ہموار کرتے  تعجب  اور تجسس سے  دیکھا  کرتا تھا۔  بعد  میں انھوں نے اس ہموار کردہ  زمین  میں  درخت  لگا ئے اور  چونکہ اس وقت  اس اونچائی تک پانی پہنچانا ممکن نہ تھا  لہذا  مرحوم  نے پہاڑ  میں  بارش  کے پانی کا رخ  ان  درختوں  کی طرف موڑنے کے لئے  بڑی  محنت سے  نالیاں  بھی بنائیں۔ 

بعد ازآں  جب  بالائی  ناصرآباد میں  آبادی کے لئے آبنوشی  کے منصوبے بنے  اور ساتھ ہی  ہزارہ قبرستان کے بیچ  سے  ایک  کچی سڑک  کا  ہیولا نمودار ہونا شروع ہوا،  تو  مرحوم  حوالدار نے سڑک کے دونوں  جانب  درخت  کاشت کرنے  کا آغاز کردیا  جو  گلی حوالدار غلام حسن  کے عین سامنے سے شروع ہوکر ہزارہ قبرستان کے گیٹ  تک  پھیلا ہوا ہے۔ آگے چل کر  انہوں نے اپنے اس کار خیر کو پورے قبرستان تک  وسعت دے دیا  اور زندگی کی آخری سانس تک  وہ  اسے  ایک عبادت  سمجھ کر نبھاتے رہے۔ ہزارہ قبرستان کی نوے فیصدی شجر کاری انہی کی شبانہ روز مشقتوں کی مرہون منت ہے۔وہ ان سینکڑوں بلکہ ہزاروں درختوں  کی دیکھ بال اور پروش اپنے بچوں کی طرح کرتے تھے۔  بھیڑ بکریوں اور جائرہ  (ایک جنگلی جانور) سے محفوظ رکھنے کیلئے ہر درخت کے تنے  کو ایک مخصوص بلندی تک کپڑا یا  پلاسٹک  سے کور کرتے  اور  وقت پر پانی دیتے رہتے۔ توت پکنے کے موسم میں جب  توت کھاتے  لوگوں سے کوئی شاخ ٹوٹ جاتی تو مرحوم  تڑپ اٹھتے ۔ طیش کی اس حالت  میں  جب بھی میرا  ان سے سامنا ہوتا، مجھے دیکھ کر  کہتے  کہ آئندہ توت ہرگز  نہیں لگاوں گا۔ لڑکے تو لڑکے بڑے لمشت  (ہٹے کٹے بڑے) لوگ بھی  حیوانوں کی طرح درختوں پر  چڑھتے ہیں اور  شاخیں توڑدیتے ہیں۔  اس پُرثمر انسان کی وفات  23جولائی 2008ء  میں ہوئی۔ آج  وہ اپنے  ان سینکڑوں  شاداب درختوں میں سے ایک درخت کے فرحت بخش سائے تلے  ابدی نیند سو رہے ہیں۔  اب  مرحوم حوالدار قمبرعلی کی پیروی  میں  دیگر کئی  گروپ اور لوگ  بھی شجرکاری کے کار خیر  میں آگے آ گئے ہیں  اور شجرکاری مہم ہزارہ قبرستان سے نکل کر گلزار باکلو  تک جا پہنچی ہے  جو قابل قدر اور قابل صد ستائش ہے لیکن اصل کریڈیٹ  انہی کو جاتا ہے۔

روح اش شاد!

حاجی جمعہ خان  مرحوم  (2004 ۔ 1940)

مرحوم حاجی جمعہ خان  المعروف  بابے کاظم  (بڑے بیٹے کا کانام)نے 1940  میں ایک ہزارہ گھرانے میں آنکھہ کھولی۔ غربت کے باعث  سکول نہ جا سکے اور ابتدائے عمر سے ہی محنت مزدوری کرنے لگے۔ آگے چل کر یہ تجربہ کام آیا اور ایک کامیاب  تاجر بن گئے۔ اپنے تینوں بیٹوں اور ایک بیٹی  کو تحصیل علم میں آخر تک مدد اور رہنمائی فراہم  کی۔ جب سب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے تو کاروبار ان کے حوالے کرکے خود شجرکاری  کے کار خیر اور صدقہ جاریہ میں مگن ہوگئے۔ مرحوم کے بیٹے یعقوب علی کے مطابق  گھر کی حد تک  پھول پودوں اور درختوں سے ان کو محبت  ہمیشہ سے تھی لیکن 1989کے بعد جب اس نے تجارت سے ازخود ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا تو اپنے اس شوق کو وہ  ہزارہ قبرستان کے پائین جانب، گلستان ٹاون اور کینٹ  میں شجرکاری کرکے ایک نئی جہت دی۔ ان کے مطابق مرحوم نے  اپنی وفات تک ان  مقامات   پرکل 643 درخت لگا کر دن رات ان کی آبیاری اور پرورش کی۔  مرحوم حاجی جمعہ خان بھی  مرحوم حوالدار قمبرعلی کی طرح درختوں کو اپنی اولاد کی طرح پالتے تھے۔ ان کے تنوں کے گرد کپڑا یا پلاسٹک لپٹتے اور صبح و شام  ان کی آبیاری اور شاخ تراشی کرتے رہتے تھے۔چونکہ میرا راستہ وہی پڑتا اس لئے  میر ا  ان سے  تقریباً  روز سامنا اور ہزارہ قبرستان روڑ یا گلستان ٹاون میں علیک سلیک  ہوتی ۔ جب کبھی بال بچے ساتھ نہ ہوتے تو،  رک کر  مرحوم سے گپ شپ بھی ہوتی۔ ان کے  مطابق:  وہ  اذان سے  قبل اٹھ کر وضو کرکے ان  درختوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں  اور نماز فجر وہی پر  ادا  کرنے کے بعد ایک ایک کرکے اپنے  درختوں کی خبر گیری کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک  گپ شپ کے دوران مرحوم حاجی جمعہ خان نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔

ایک وقت پانی کی کافی قلت ہوگئی اور درخت خشک ہونے لگے  تو میں  پانی کے ایک کنکشن کیلئے درخواست لے کر واسا کے آفس چلا گیا۔ متعلقہ آفیسر،میری درخواست پڑھ کر بولے”برادر ادھر انسانوں کیلئے پانی نہیں اور تجھے درختوں کی پڑی ہے”

  مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ اِدھراُ دھر سے پوچھا تو کسی نے  اسٹیشن کمانڈر کے پاس چلنے کی صلاح دی۔ اگلے روز حسب معمول نماز فجر کے بعد پیدل اسٹیشن کمانڈر آفس کی راہ لی (اس وقت کینٹ آج کل کی طرح علاقہ غیر نہیں بنا  تھا)۔ پوچھتے پوچھتے جب مطلوبہ دفتر پہنچا تو  اسٹیشن کمانڈر ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ میں نے اس کے  بابو (شایدپی اے)  کو  پوری تفصیل سے اپنی بات بتائی تو اس نے  وعدہ کیا کہ وہ میری  پرچی صاب تک پہنچا دے گا، باقی صاب کا کام ہے۔ اسی دوران اسٹیشن کمانڈر بھی پہنچ گیا۔ کچھ دیر بعد بابو نے صاب سے بات کی اور  پھر مجھے  صاب کے کمرہ میں جانے کا  کہا۔ میں نے کمرے میں داخل ہوکر سلام کیا، صاب نے سلام کا جواب دینے  کے  فوراً  بعد میرے آنے کا مقصد پوچھا، جواب میں، میں نے کہا جناب میں نے آپ کے کینٹ میں چھ ،  سات  سو درخت لگائے ہیں  لیکن  اب پانی کی کمی کی و جہ سے  وہ سوکھ  رہے ہیں، میں واسا کی طرف گیا تھا لیکن جواب نفی میں تھا لہٰذا  آج آپ کی خدمت میں آیا ہوں۔ اسٹیشن کمانڈر صاب نے حیرت سے پوچھا،کتنے درخت؟ میں نے کہا چھ، سات سو۔ کہا مجھے  دکھا سکتے ہو؟ میں نے  جواب دیا، بالکل جناب۔  مجھے کہا  بیٹھ جاؤاور پھر اپنے بابو سے کہا کہ گاڑی نکالو۔ اس کے بعد ہم اس کی گاڑی میں گلستان ٹاؤن پہنچے، میں نے گلستان ٹاون کے شروع سے لیکر ہزارہ قبرستان تک اور شیلے  کے اس پار اپنےلگائے سارے درخت ان کو دکھا ئے۔  پانی کے کنکشن کی جگہ بھی بتادی(یاد رہے کہ اس وقت  نکاسی کا پانی واپڈا  کی دیوار  کی  سائٹ  سے بہہ کر نیچے جارہا تھا)۔ اس پر کمانڈر صاب نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہو  رہا تھا کہ ایک بندہ اتنا بڑا کام کرسکتا ہے، میرے  ساٹھ ستر مالیوں سے  اچھی خاصی تنخواہیں لینے کے باوجود اس کا ایک فیصد بھی نہیں ہوسکا ہے۔ صد آفرین  ہے  آپ پر۔ اس کے بعد اپنے آدمی (پی اے) سے کہا اسی وقت بندے،  حاجی  صاحب  کے پاس بھیج دو اور جتنے انچ کا کنکشن  اس کو چاہیے لگوا دو۔ اس کے بعد مجھے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا” کوئی کام ہو یا مشکل ہو مجھے فون کردینا”

 اس مرد باعمل کی وفات 19دسمبر 2004ء کو ہوئی ۔ وہ بھی آج حوالدار قمبرعلی کی طرح ہزارہ قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

 روح اش شاد

آج مرحوم حوالدار قمبرعلی اور مرحوم حاجی جمعہ خان کے لگائے یہ ہزاروں سبز و شاداب درخت علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے علاوہ روز ہزاروں ٹن قیمتی آکسیجن کوئٹہ اور بطور خاص علاقے کے مکینوں اور باقی حیات کو مفت مہیا کر رہے ہیں۔ نئی اور آنے والی نسلوں کو ان کردار کے غازی،محسنوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *