عوام کو، عوام کی خاطر مزاحمت کرنی ہوگی … علی رضا منگول

 
عثمان کاکڑ کے لئے درد رکھنے والے تمام غمگساروں اور ان کے پارٹی کارکنوں سے اپیل ہے کہ یہ سوسائٹی ہم سب کا مشترکہ گھر اور ملکیت ہے۔ اس سوسائٹی کو ٹوٹنے سے، بکھرنے سے، اور درہمی سے بچانے کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مگربدقسمتی سے یا اپنی نالائقی کی بدولت اب تک ہم ایسا نہ کرسکے۔ آج بلوچستان کا ہر باشعور پیرو جوان عثمان لالا کی بے وقت جدائی پر نوحہ کناں ہے۔ اے کاش اپنے معاشرے کی بہتری کے لئے بھی یہ سارے لوگ یک آواز ہوکر میدان عمل میں اُترتے۔
 
پچھلے دنوں بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان نام نہاد صوبائی بجٹ پر نعرے بازیاں اور ہنگامہ آرائیاں عوامی مفادات کی بنیاد پر نہیں؛ بلکہ وہ تماشا دو مدمقابل گروہوں کی آپس کی چپقلش کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود سوائے کوئٹہ کے پورے بلوچ بیلٹ اور پوری پشتون بیلٹ میں ایک بھی ڈویژن میں ایک ایسی یونیورسٹی اور اسپتال کا وجود ناپید ہے، جہاں پشتون اور بلوچ عوام کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم اور بہتر سہولیات صحت میسر ہوں۔ اسمبلیوں میں برسراقتدار اور اپوزیشن کی یہ نورا کشتی اور جھوٹ موٹ کی لڑائی آج تک عوام کے اصل مسائل سے لاتعلقی کا اظہاراور نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
 
ستم بالائے ستم؛ قابل صد افسوس اور غور طلب بات یہ ہے، کہ پورے بلوچستان میں ایک بھی اسپتال ایسا کیوں نہیں ہے کہ ہم اپنے مریضوں اور پیاروں کی زندگی بچانے کے لئے انتہائی عجلت اور ایمرجنسی میں دوسرے شہروں اور صوبوں کے اسپتالوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہیں؟ ہمارے صوبے میں آج بھی ایسا بندوبست کیوں نہیں ہے، کہ ہم یہیں اپنے گھر اپنے صوبے میں ان کی زندگیاں بچانے کا سامان کرسکیں؟ قوم پرستی اور مذہب دوستی کے یہ دعویدار ہر سال بجٹ کا خطیر حصہ خرچ نا کرسکنے کی وجہ سے واپس کردیتے ہیں، مگر اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کا انجکشن تک دستیاب نہیں۔
 
یہ ایک المیہ ہے کہ گزشتہ 7 دہائیوں میں اس قدر فنڈز کی دستیابی میں بھی ہم نے ایسا بندوبست کیوں نہیں کیا؟ قصوروار کون ہے؟ کیا عوام کی طرف سے کوئی کوتاہی برتی گئی ہے؟ کیا سیاست دان بے توجہی کے مرتکب ہوئے ہیں؟ کیا انتظامیہ/بیوروکریسی کی غفلت کی بدولت ایسا کچھ ہوا ہے؟ کیا اجتماعی مفلوج سوچ و کردار کی وجہ سے یہ حالات ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں؟ یا جہالت و تعصب، خودغرضی و کرپشن اور نااہلی نے ہمیں اپنے گھر/صوبے میں ایک واحد ایسا اسپتال بنانے سے روکے رکھا ہے جس کی وجہ سے آج ہم اپنے صوبے کی ماؤں، بہنوں، بھائیوں، بزرگوں، بچوں اور پیاروں کی زندگیوں کو بچانے کے لئے دیگر صوبوں کے اسپتالوں کے محتاج ہیں؟
 
کتنے ہمارے پیارے آج بھی قابل علاج بیماریوں کے علاج کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے لاعلاج پڑے ہیں۔ کب تک پارٹی پارٹی، قوم قوم، مذہب، علاقہ، زبان اور رنگ نسل یا اپنی ذات کو سامنے رکھ کر فیصلے ہوتے رہیں گے اور عوام جو ہم سب کا ہی حصہ ہیں، اپنی بنیادی ضروریات سے محروم رہیں گے؟ اب تو ”ایم ٹی آئی ایکٹ“ کے تحت صحت کو بھی نیلام اور پرائیویٹائز کیا جارہا ہے۔ کیا اس کا ذمہ دار تمام پارلیمنٹیرین اور تمام سیاسی پارٹیاں نہیں، جو اسمبلیوں میں بیٹھ کر عوامی ٹیکسوں سے عیاشیوں میں مصروف ہیں؟
 
کیا اسپتالوں میں بھی تقریباً مفت علاج کا خاتمہ عنقریب ہونے جا رہا ہے؟ کیا سیاست اسی کو کہتے ہیں؟ آئندہ آنے والے حالات میں تمام پارٹیاں (قومی و مذہبی) دونوں عوام سے تعلیم اور صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کا حق بھی چھیننے جارہی ہیں۔ گوکہ 7 دہائیوں میں انہوں نے عوام کی محرومیوں میں کمی کرنے کی بجائے اضافہ ہی کیا ہے۔
علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *