لائبریری اور غیرنصابی کتابیں ۔۔۔ عارف چنگیزی

٭
معاشرے میں غیر نصابی کتابیں نہ پڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اسکولوں (سرکاری اور غیرسرکاری) میں لائبریری کا وجود ہی نہیں اوراگر لائبریری موجود بھی ہے تو وہاں طالبعلموں کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کہیں طالبعلم کتابوں کی ترتیب خراب نہ کر دیں یا لائبریری کو گندا اور استادوں کے چائے پینے کا وقت ضائع نہ کر دیں یا اساتذہ کے تفریحی بحث و مباحثہ میں خلل نہ ڈالیں۔ جب بچے اسکول کی لائبریری جانے کی کوشش کرتے ہیں تو استاد لائبریرین انہیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور ساتھ میں وہ یہ تاویل پیش کرتے ہیں، کہ اس وقت آپ لوگوں کے لئے لائبریری بند ہے، چھٹی کے وقت آجائیں۔ جب بچے چھٹی کے وقت لائبریری کا رخ کرتے ہیں تو لائبریرین صاحب طالبعلموں کی آمد سے قبل ہی لائبریری کو تالا لگاکر گھر کو جاچکا ہوتا ہے۔
سرکاری اسکولوں میں ہفتے میں دو بار صحتمند جسمانی نشوونما کے لئے ڈرل کے پیریڈز ہوتے ہیں۔ مگر فکری اور ذہنی بالیدگی کے لئے ہفتے میں ایک بھی پیریڈ لائبریری کے لئے مختص نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے وہاں شغف مطالعہ کی حوصلہ افزائی کے لئے طالبعلموں کو پڑھنے کے لئے کوئی کتاب دی جاتی ہے۔ ایسا کوئی پروگرام بھی ان کے ہاں نہیں ہوتا جس کے انعقاد سے طلبا و طالبات میں شوق مطالعہ بیدار ہو۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اساتذہ بھی طالبعلموں کے لئے لائبریری سے کوئی اچھی کتاب نکال کر کلاس میں نہیں سناتے اور نہ ہی طالب علموں کو سکول لائبریری کے وجود سے متعلق آگہی دیتے ہیں۔ اکثر سکولوں کے طالبعلموں کو دسویں جماعت تک یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اسکول میں لائبریری بھی موجود ہے اور اگر لائبریری کی موجودگی کا علم ہو بھی، تو انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ لائبریری کس طرح ہوتی ہے ان میں کس قسم کی کتابیں رکھی ہوتی ہیں۔ بہت سے سرکاری اسکولوں میں ایسے اشخاص کو لائبریرین منتخب کیا جاتا ہے، جسے خود کتابوں کے متعلق علم نہیں ہوتا، کہ ناول کیا ہے؛ کون سی کتاب تاریخ کے بارے میں ہے؛ اور کون سی کتاب آئیڈیالوجی کو ڈیل کرتی ہے، انہیں یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ کونسے مصنف ناول لکھتے ہیں اور تاریخ پر لکھنے والے مصنف کون کون ہیں۔ اب ایسے لائبریرین طالبعلموں کی کیا خاک رہنمائی کریں گے؟ ایسے لائبریرین کتابوں کو جہاں دل چاہے رکھتے ہیں۔ لائبریری کی الماریوں میں مختلف کتابوں کے لئے الگ الگ شلف تو موجود ہوتے ہیں مگر جس شلف میں جس کتاب ہونی چاہیے وہ کسی اور شلف سے برآمد ہوتی ہے۔ ممنوعہ علاقے کی تصویر پیش کرتی ہوئی اکثر سکولوں کی لائبریریوں کے لائبریرینز اچاٹ پن اور بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہاں پہلے ہی سے بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لائبریرین صاحبان اسے اساتذہ کا جم گھٹ بنا کر ٹائم پاس کرنے کے لئے سارا سارا دن خوش گپیوں میں گذارتے ہیں۔
جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ اسکولوں اور کالجوں میں طلبا اور طالبات کو لائبریریز میں جانے کی اجازت نہیں، وہاں کے اساتذہ انہیں کوئی غیرنصابی کتاب پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں اور نہ ہی ان میں کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ ناامیدی سے بھری یہی وہ وجوہ ہیں کہ آج ہمارے طلبا و طالبات اس کے برعکس پبلک لائبریریوں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے طالبعلم وہاں غیرنصابی کتابوں کے مطالعے کے لئے نہیں، بلکہ نصابی کتابوں کو پڑھنے لئے جاتے ہیں جو فقط امتحانات کی تیاری کے دنوں کی حد تک محدود ہوتے ہیں اور جب امتحانات ختم ہو جاتے ہیں تو وہی پبلک لائبریریاں (سرکاری اور غیر سرکاری) پھر سے سنسان ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ ہمارے طالب علم سمجھتے ہیں کہ یہ پبلک لائبریریاں صرف امتحانات کی تیاری کے لئے ہی بنی ہیں۔
بہت سارے غیر سرکاری اسکولز تعلیمی فیسوں کے ذریعے سرپرستوں سے لائبریری اور سپورٹس کی مد میں خطیر رقم بھی بٹورتے ہیں۔ جبکہ بدقسمتی سے طلبا نہ تو موجود خودساختہ ممنوعہ علاقہ(لائبریری) سے مستفید ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے تنگ و تاریک احاطے میں کھیل کا میدان میسر ہے۔
بچوں میں غیر نصابی کتابیں نہ پڑھنے کے رجحان کے ذمہ دار ایک طرح سے والدین بھی ہیں کیونکہ بچپن ہی سے ان کی دلچسپی بڑھانے کے لئے وہ ابتدائی کہانیوں کی کتابیں گھر نہیں لاتے۔ انہیں کوئی کتاب پڑھ کر نہیں سناتے یا ان سے نہیں پڑھواتے۔ البتہ سردیوں کی تعطیلات میں انہیں کسی لائبریری میں بھیجنے کے بجائے کمپیوٹر سینٹر، لینگويج سینٹر یا مدرسوں میں بھیجتے تو ضرور ہیں مگر ذوق مطالعہ میں اضافہ کے لئے کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کرتے تاکہ وہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ مثلا انگلش لینگويج سیکھنے کے ساتھ ساتھ اگر ان کے لئے مختلف کنورسیشن یا انگلش کہانیوں کی کتاب گھر لے آئیں تو وہ بہت جلد لینگويج بھی سیکھیں گے اور ان میں پڑھنے کا رجحان بھی پیدا ہو گا۔ اسی طرح اگر بچوں کو مدرسوں میں بھیجنے کے ساتھ ساتھ مختلف اسلامی کہانیاں اور اسلامی تاریخ کی کتابیں انہیں میسر کی جائیں تو بچے بہت جلد واقعات سے باخبر ہوجائیں گے۔ ان کے علم میں بھی اضافہ ہوگا اور ان میں کتاب پڑھنے کا مادہ بھی پیدا ہوجائے گا۔
معاشرہ بھی طالبعلموں میں غیرنصابی کتابوں سے دوری کا بہت حد تک ذمہ دار ہے کیونکہ معاشرے میں بھی ایسی کوئی سرگرمی(سیمینارز کے انعقاد جیسی) اب باقی نہیں رہی جس سے طلبا میں مطالعے کا رجحان پنپ جائے اور ان میں طالبعلموں کو کتب بینی کے فوائد بتائے جائیں۔ فیوچر پلاننگ کے لئے پروگرام کا انعقاد تو روز ہوتا رہتا ہے مگر معاشرے میں کتب بینی کے رواج کو عام کرنے کے لئے ورکشاپس یا سیمینارز منعقد نہیں ہوتے۔
عارف چنگیزی

عارف چنگیزی

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل عارف چنگیزی گزشتہ کئی سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

One thought on “لائبریری اور غیرنصابی کتابیں ۔۔۔ عارف چنگیزی

  • 18/05/2021 at 5:27 am
    Permalink

    آپ نے لائبریریوں اور کتب بینی کے جملہ مسائل کو اچھے طریقے سے بیان کیا ہے۔ امید ہے متعلقہ ذمہ داران اس بات کا نوٹس لینگے۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *