Latest posts by اظہار (see all)
- ریڈرز زون لٹریری فیسٹیول۔ - Jan 22, 2023
- گفتگو قنجغے نادر علی ہزارہ، چیئرمین تنظیم نسل نو ہزارہ مغل - Jun 24, 2021
- بینظیر بھٹو ہسپتال میں موجود سہولیات اور مشکلات سے متعلق ہسپتال کی انتظامیہ اور سٹاف سے ایک گفتگو۔ - Dec 10, 2020
پورے ملک میں قتل و غارت کا ایک ننگا کھیل جاری ہے ۔ بلوچستان میں قتل و غارت کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہے کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کا کوئی گھر ایسا نہیں جس کا کوئی نہ کوئی فرد خودکش بم دھماکے یا ٹارگٹ کلنگ کی نذر نہ ہواہو۔ صرف ہزارہ برادری ہی نہیں سیٹلرز ،بلوچ اور پشتونوں کا بھی قتل عام کیا گیا۔ یہ سب انہی وقت پالیسیوں کا خمیازہ ہے پاکستان میں آباد ہر قوم نے بھگتا ہے۔ ہم نے وقتی مفادات کیلئے اپنے گھر میں ایسی آگ لگادی جس کا ایندھن اپنے ہی گھر کے لاکھوں افراد بن گئے۔ہم نے چند عارضی مفادات کی عوض دوسرے کے فائدے کیلئے کبھی لسانیت کبھی فرقہ واریت اور کبھی علاقائیت کے نام پر نفرت کو پروان چڑھایا، باقاعدہ پالیسیاں ترتیب دیں مہرے بنائے اور پھر ان کی سرپرستی بھی کی ۔ ہم نے ایک ایسی نسل تیار کی ہے جس میں کہیں نہ کہیں ضرور انتہا پسندی کاعنصر موجود ہے۔