ایک نئی ثقافت کی تشکیل کا آغاز ۔۔۔ علی رضا منگول

دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہوجاؤ!
بہت سے لوگ اس جملے میں چھپی سائنسی حقیقت کے ادراک سے ابھی نابلد اور بے نیاز ہیں۔ مگر اس سچائی کی طاقت اور شکتی اب آشکار ہونے کو ہے۔ بدلتی دنیا میں سائنس اور ٹیکنیک کی بے پناہ ترقی نے پرانی ثقافت کے بطن سے جس نئی ثقافت کے جنم کی شروعات کی ہیں اس کی بدولت انسان آج دیگر انسانوں سے قریب سے قریب تر ہورہا ہے۔ جہاں سرمایہ داری کے استحصال نے عالمی صورت اختیار کی ہے وہیں اس نے انسانوں میں نظریاتی، سماجی اور ثقافتی ہم آہنگی کو یقینی بنا دیا ہے۔
کہیں بھی نہ نظر آنے والی برقی و مقناطیسی لہروں نے کئی صدیاں نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں سال پیچھے کے گزشتہ انسانوں سے نہ فقط ہمارا رشتہ استوار کیا ہے بلکہ تمام سابقہ حالات، تجربات کا نچوڑ بھی ہمارے سامنے ڈھیر کردیا ہے۔ آج ہمیں یہ احساس ہورہا ہے کہ انسان اس کائنات کی ایک اکائی ہوتے ہوئے اپنی ذات میں ایک کُل بھی ہے اور اس کُل کی اکھٹ اورجڑت ناگزیر ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ ادوار میں ریاستوں کی تشکیل و ارتقاء کی بدولت تمام ذرائع پیداوار ایک مخصوص طبقے اور ریاست کے قبضے اور کنٹرول میں تھیں۔ سرمایہ داری کی تیز رفتار ترقی کی صلاحیت نے انسانی تاریخ میں انتہائی قلیل عرصہ میں زائد پیداوار کے حصول کو حقیقت بنادیا۔ اس کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانوں کو نہ صرف ایک دوسرے کے قریب کردیا بلکہ سرحدوں کی اہمیت کو بھی کم کردیا ہے۔
مواصلات کی ترقی کے باعث آج دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی واقعہ کو پوری دنیا بہ یک وقت تماشا کررہی ہوتی ہے۔ اسی طرح حکومتوں اور ریاستوں کی مواصلات اور دیگر رابطوں پر قدغن اور اجارہ داری کو بھی تقریباً نیستی میں بدل دیا ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا نے پریس اور برقی مواصلات پر ریاستی کنٹرول کو بڑی حد تک ہوا میں تحلیل کرکے رکھ دیا ہے۔ سرمایہ داری کی بدولت جہاں ہمیں مختلف شعبوں میں ترقی اور آسودگی نصیب ہوئی ہے وہاں ساتھ ہی آج بڑی اجارہ داریوں نے پوری دنیا کو صارف بنا کر شدید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ آج غربت، بے روزگاری، مہنگائی، لاعلاجی، بدامنی اور کشت و خوں اس سائنسی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کا منہ چڑھا رہی ہے۔ریاستیں مذاہب اور جہالت کے ساتھ ایکا کرتے ہوئے ایک واحد حربے ”خوف“ کو بطور اوزار استعمال کررہی ہیں۔ جس کے تحت وہ مختلف طریقوں سے خوف اور دہشت کو لوگوں کی نفسیات پر مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس حربے کے استعمال سے وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں مگر جدلیات کے مطابق ہرشے بالآخر اپنی ضد میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
جدلیات کے اس قانون کے مطابق سرمایہ داری بھی اپنی ترقی پسندانہ دور سے گزر کر اس کی ضد یعنی پستی اور تباہی کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔اسی طرح کمزور عناصر طاقتور اور طاقتور کمزوری کا شکار ہورہے ہیں اور سماج میں مختلف پرتوں کی ایک دوسرے سے دوری اب جڑت کی جانب رواں دواں ہے۔اس کی مثالیں پوری دنیا سے دی جاسکتی ہیں کہ لوگوں میں اب مشترک لڑائی لڑنے کا شعور سراُٹھا رہا ہے۔ اس کی بہت عمدہ اور خوبصورت مثالیں ہمارے اردگرد پاکستان اور بلوچستان میں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بانک کریمہ بلوچ کے خون ناحق نے بلوچستان کے دور دراز علاقوں اور کونے کونے کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور پھر مچ میں نہتے کان کنوں کے وحشیانہ اور سفاکانہ قتل نے مزید بلوچستان کے تمام محنت کشوں اور مظلوم عوام کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔
ایک بات طے ہے کہ مستقبل قریب میں ایک عوامی اُٹھان اور یکجہتی کی لہر ضرور اُبھرے گی جو اِن تمام حالات کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔
اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو
وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے
جب تاج اُچھالے جائیں گے۔
علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *