حکومت اور حزب اختلاف، ایک ہی سکے کے دو رخ ۔۔۔ علی رضا منگول

.
پی ڈی ایم تحریک عوامی مفادات کی بجائے سیاست دانوں کے دم گھٹنے کا نتیجہ ہے اور اس کا عوام کے بنیادی اور حقیقی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جلسوں میں شریک روایتی قائدین عوام کے بنیادی مسائل پر کوئی موقف اختیار کرنے کے برعکس اپنی پارٹی پالیسی بیان کرنے پر تمام توانائی صرف کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ برسر اقتدار ٹولے کو بُرابھلا کہنے کے ساتھ ساتھ انہیں لانے والی منقسم انتظامیہ میں سے کسی ایک کے ساتھ اتحادی بھی ہیں۔ سیاست پر عوام کی بے اعتمادی اور بیزاری سیاسی پارٹیوں کی کمزوری کا باعث بنی ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ ان پارٹیوں کے پاس عوام کے لئے کوئی پروگرام کا نہ ہونا ہے۔ جلسوں میں عوام کی شرکت روایتی ہے اور کچھ اس اُمید پر بھی شامل ہیں کہ شاید ہمارے کسی مسئلے کے حل سے متعلق بھی کوئی خبر ملے۔
 
موجودہ عالمی لبرل معاشی پالیسیوں کی بدولت عوام کی کثیر تعداد بڑی تیزی سے خط غربت سے نیچے چلی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف اداروں کی پرائیوٹائزیشن جس سے بنیادی ضروریات کے حامل اداروں (خصوصاً صحت اور تعلیم) سے عوام کو حاصل نام نہاد سہولیات بھی چھن جائیں گی۔ عوام کے ایسے بہت سے حقیقی مسائل ہیں جن پر انہیں متحرک کیا جاسکتا ہے۔ مگر عوام کے متحرک ہونے پر ان کے اختیارات کے چھن جانے کا خوف انہیں ایسا کرنے سے روکتا ہے، کیونکہ پھر: ”نہ رہے گی بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری۔“
 
موجودہ اپوزیشن اور حکمران اتحادی جماعتوں کی کھچڑی حکومت کی طرح اصل عوامی مسائل کو پس پشت ڈال کر عوام کی توجہ دیگر غیرضروری معاملات کی جانب مبذول کر رہی ہے۔ جس سے عوام میں مزید مایوسی بڑھے گی اور نتیجتاً کسی بڑی تبدیلی کے بغیر پھر غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ شراکت اقتدار کا کھیل کھیلا جائے گا۔ موجودہ اپوزیشن جماعتیں جو در حقیقت پھر حکمران طبقے سے تعلق رکھتی ہیں مقداری تبدیلیوں اور عوامی مشکلات میں مقداری کمی کی باتوں کے علاوہ کوئی ٹھوس پروگرام اور لائحہ عمل سے عاری ہیں۔
 
مایوسی انسان کو دو متضاد انتہاؤں کی جانب دھکیل دیتی ہے جن سے وہ یا تو مکمل طور پر بے حس ہوکر تمام کوششوں سے روگردانی اختیار کرلیتا ہے یا پھر انتقام کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ البتہ فطرت کی فطرت ہے کہ وہ خرابیوں اور دگرگونیوں کو دوبارہ درستی سے ہمکنار کرکے ہی دم لیتی ہے۔ اس لئے مایوسیوں میں گھرے لوگ آنے والے دنوں میں فطرت کے قوانین کے تحت حالات کو کارآمد اور مفید بنانے کے لئے کوششیں ضرور کریں گے، جو اس پورے نظام کی بساط لپیٹ سکتی ہے۔
مسلسل جدوجہد کرنا نہایت مشکل کام ہے، جس سے جان چھڑانے اور حالات کو جوں کا توں رکھنے کی خاطر مسائل کم کرنے کے لئے مقداری اور محدود مدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جس سے سماج میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی اور صرف ایک مقداری اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ نظام کو جب تک بدلا نہیں جاتا، اُس وقت تک یہ رویہ کسی بھی طرح کسی مثبت پیشرفت کا باعث نہیں بن سکتا۔ مقداری آسانیاں مہیا کرنا اورسوشل ورک کے تحت کسی کی مدد کرنا حاکم طبقے کے مفاد میں استعمال ہوتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ نظام کو بدلنے کا ہے، کیونکہ اس نظام میں سب عمل بالادست طبقے کے مفاد کے لئے ہیں۔ اصل میں عوام کی ضروریات پوری کرنا حکومتوں کا کام ہوتا ہے، جو موجودہ زمانے میں تمام پارٹیوں یا حکومت کے دائرہ اختیار سے بیرون ہے۔
 
سرمایہ داری میں مقداری بہتری اور دلآویز تبدیلیوں کے ذریعے عوام کے غصے کو کم کرکے بغاوت سے روکا جاتا ہے مگر نظام جوں کا توں رہ جاتا ہے۔ نام نہاد جمہوری سوچ رکھنے والے اور جمہوریت کا راگ الاپنے والے تمام کے تمام اس نظام کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اسی طرح برسراقتدار اور حزب اختلاف جماعتوں کی لڑائیاں عوام کے خلاف اور لوٹ کے مال میں حصہ داریوں کی جنگ ہے، جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ عوام کو جاہل کہنے اور سمجھنے والے اُس دم ششدر رہ جائیں گے جب مقدار معیار میں بدل جائے گی۔ کیونکہ تبدیلی اور پھر کایا پلٹ تبدیلی فطرت کے اُصول ہیں جنہیں ٹالا یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔
 
موجودہ پی ڈی ایم کی تحریک سے پسے ہوئے عوام کو کسی قسم کی توقع ہرگز نہیں رکھنی چاہیے اور ناہی اسے کسی بڑی اور موثر تبدیلی کی کوشش کہی جاسکتی ہے۔ بلکہ یہ سب ایک ڈرامہ بازی ہے۔ مگر جلد یا بدیر ایک حقیقی تبدیلی اور عوامی جدوجہد سے پورا نظام ڈھیر ہو سکتا ہے۔ فطری اُصولوں کے تقاضوں کے مطابق ایک تسلسل کے ساتھ بتدریج تبدیلی کے بعد یکایک اور اچانک شدید تبدیلیوں کے ادوار بہرصورت اس تسلسل کو توڑ کر ناقابل یقین بڑی تبدیلی کی صورت میں سب کو حیران کرسکتیے ہیں۔

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *