زندگی کی اٹل حقیقت فنا ہے ۔۔۔ میر افضل خان طوری

*
انسان اس دنیا میں اتنا مصروف ہو چکا ہے کہ شاید اس کے پاس اپنی موت کی خبر لینے کے لئے بھی وقت نہیں ہے۔ اس دار فانی میں ہر بہار کو خزان کا سامنا رہتا ہے اور گلشن کے ہر بھول کو کسی نہ کسی لمحے بکھرنا ہوتا ہے۔ شجر پر لگا آخری پتہ بھی اس امید میں رہتا ہے کہ بہار آئے اور میں پھر سے زندہ ہو جاؤں۔ مگر فنا اسے اپنی حقیقت سے روشناس کرو دیتی ہے۔ فنا ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی صورت بھی انکار نہ ممکن ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز کی آخری منزل فنا کی منزل ہے۔
انسان کے لئے اس سے بڑی عبرت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا انجام آخر کار موت ہے۔ ہر انسان کو ایک دن اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ انسان اپنی فنا کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہر نیا دن انسان کو موت سے قریت تر کر رہا ہے۔ انسان کے نصیب میں موت لکھی جا چکی ہے مگر انسان کے پاس یہ خبر سننے کیلئے وقت نہیں ہے۔ وہ اپنے ضروری کاموں، خواہشوں اور عیاشیوں میں اس طرح مصروف ہو چکا ہے کہ اپنے انجام کو بھولتا جا رہا ہے۔ موت کی وادی اس کی نظروں سے اوجھل ہو رہی ہے۔
“ایک آدمی کا جنازہ جا رہا تھا۔ ایک نوجوان نے کسی بزرگ سے پوچھا کہ بابا جی یہ کس کا جنازہ ہے؟ بابا جی نے جواب دیا کہ یہ تیرا جنازہ ہے۔ نوجوان غصہ ہو گیا اور بزرگ سے کہا کہ بابا جی میں نے تو سیدھا سادہ سوال پوچھا تھا اور آپ نے اس کا الٹا جواب دے دیا۔ تو بابا جی نے فرمایا بیٹا کہ اگر میرا جواب آپ کو ناگوار گزرا ہو تو یہ میرا جنازہ ہے”
 
دراصل جنازہ کسی کا بھی ہو بندے کو اپنے جنازے کی یاد دلاتا ہے۔
 
اگر انسان کو اپنی موت یاد ہو تو وہ اپنی کسی اہم کام یا ذمہ داری کو ادھورا نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے ہر لمحے کی قدر کرتا ہے۔ آج کا کوئی بڑا کام کل پر نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے ہر ایک دن کو اپنا آخری دن سمجھ کر گزارتا ہے۔ اگر کسی کو کوئی رنج اور تکلیف دی ہے تو اس سے فوری طور پر معافی طلب کرنا اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت ساری زندگی اس پچھتاوے میں گزارتی ہے کہ اس نے اپنے کسی قریبی عزیز سے معافی نہیں مانگی اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کسی عزیز، رشتہ دار سے بہت محبت کرتا تھا مگر اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا۔ کسی کو آرام اور سکون دینا چاہتا تھا مگر اس کو سکون نہیں دیا۔ کسی کی مدد کرنا چاہتا تھا مگر اس کی مدد نہیں کرسکا۔ کسی کا سہارا بننا چاہتا تھا مگر اس کا سہارا بننے سے پہلے وہ رخصت ہوا۔ کسی بیمار کی تیمار داری کرنا چاہتا تھا مگر موقع گنوا دیا۔ کسی کو اچھا مشورہ دینا چاہتا تھا مگر نہ دے سکا۔ اس کے الفاظ کسی کے درد کی دوا بن سکتے تھے مگر وہ زبان سے ادا نہ ہوسکے۔
 
موت بڑی بے رحم چیز ہوتی ہے۔ اس کو کسی کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ جب آجاتی ہے تو بہت سے ارمانوں کا گلہ گھونٹ دیتی ہے۔ اس لئے اب وقت ہے کہ زندگی کی اہمیت کا احساس کیا جائے۔ زندگی کے ہر لمحے کو اس طرح جیا جائے کہ دل کو سکون اور اطمنان میسر ہو۔ کسی کو تکلیف اور اذیت دینے میں کسی کی بھلائی نہیں ہوئی۔ بہترین انسان ہی تو بہترین مسلمان ہوسکتا ہے۔ انسان وہی اچھا ہوتا ہے کہ اس کی موت پر لوگ ان کو ان کی اچھائیوں کے ساتھ یاد کریں۔
 
میر افضل خان طوری

میر افضل خان طوری

میر افضل خان طوری پیشے کے لحاظ سے سول انجنیئر ہیں۔ ان کا تعلق پاراچنار سے ہے۔ ان دنوں روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *