پاکستانی ہزارہ اور ثقافتی سرگرمیاں ۔۔۔ اسحاق محمدی   

                           

 1892ء کے اواخر میں امیرجابر عبدالرحمان کے ہاتھوں شکست اور اپنی زرخیز زمینوں سے محروم ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں ہزارہ ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔  ان میں سے ایک بڑی تعداد  نے اس وقت کے برٹش بلوچستان کے شہر کوئٹہ کا جب کہ ایک  چھوٹے گروپ نے پاڑہ چنار کا رخ کیا۔ میری اس تحریر کا فوکس کوئٹہ کی ہزارہ آبادی میں ثقافتی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ بدقسمتی سے اس ضمن میں کوئی سند موجود نہیں، لیکن برٹش بلوچستان میں آباد دوسری ہزارہ نسل کے چند بزرگوں سے گفتگو کے تناظر میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے عزیز و اقارب سے جدائی، ملک بدری اور ایک نئی سرزمین میں تنگدستی کی  زندگی نے انھیں کافی متاثر کیا تھا۔ اس کے باوجود شادی بیاء، شاوشینی کی تقاریب میں مرد حضرات دمبورہ اور خواتین دریا زنی (دف) کی محافل سے محظوظ ہوتی تھیں۔  1904ء میں  ہزارہ پائینر کی تشکیل کے بعد جب ان کی اقتصادی حالت میں بہتری آئی تو ثقافتی سرگرمیوں  بھی اضافہ ہونے لگا۔ ان بزرگوں کے مطابق ہزارہ لین   کوئٹہ کینٹ میں واقع پائینر کے ہیڈ کوارٹرمیں دمبورے کی خوبصورت محفلیں تسلسل سے جمتی تھیں۔ البتہ پاکستان بننے کے بعد نئی تعلیم یافتہ نسل میں قدرے بدلاو آیا۔ ان کی نظر میں دمبورہ اور دریا (ہاتھ سے بجانے والا ڈھول نما آلہ) پسماندہ اور دیہاتی کلچر کا مظہر لگا لہذا انھوں نے ان سے شعوری طور پر دور رہنے کو ترجیح دی۔ دوری کی یہ کیفیت ہزارہ خواتین میں زیادہ نمایاں رہی چنانچہ ہزارہ کشیدہ کاری ملبوسات، زیورات وغیرہ پرلے درجے کی دیہاتی اور غیرمہذب ہونے کی نشانیاں قرار پائیں۔ لیکن 70 کی دہائی کے دوران معروضی حالات میں تیزی سے بدلاو آنے لگا جس میں دیگر شعبوں کے ساتھ ثقافت  اور بطور خاص ہزارہ ثقافت میں بدلاو بھی  شامل ہے۔

آئیے اسی پس منظر میں پاکستانی ہزارہ قوم کی ثقافتی ترقی میں بعض اداروں کے کردار کا جایزہ لیتے ہیں:

الف- ریڈیو پاکستان  

  شاید 1973ء میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ نے ہر بدھوار کو 15 منٹ دورانیے کا ہزارہ گی موسیقی نشر کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا جس میں زیادہ تراس وقت کے چند مقامی ہزارہ لوک گلوکار جیسے محمدعلی، حسن علی وغیرہ کے دمبورہ کے ساتھ گانے نشر کئے جاتے تھے۔ مجھے یہ پروگرام یوں یاد ہے کہ اس زمانے میں ہم گلی ملا ملائی کی جس حویلی میں بطور ہمسایہ رہائش پذیر تھے وہاں حسن علی المعروف حسن غزل گوئی کا سسرال بھی تھا۔ ایک بدھوار کو صبح سویرے حسن علی خوشی خوشی ایک بڑا ریڈیو سیٹ لیکر آیا اور اسے ایک چینل پر لگاکر اپنی منگیتر سے کہا ٹھیک فلاں وقت صرف اس بٹن کو اسطرف گھما دو تو ریڈیو بولنے لگے گا اور تم سب میرا گانا سن سکو گے۔ اس خبر سے پوری حویلی کے مکین بشمول مالک مکان بہت خوش ہوئے۔ خود حسن علی تو خوشی سے جھوم رہا تھا۔ ہم سب نے ملکر حسن علی کا وہ گانا کافی شوق سے سنا۔ یہ پروگرام کتنا عرصہ چلا مجھے یاد نہیں کیونکہ ہمارے گھر کیا پوری حویلی میں ریڈیو نہیں تھا۔ آگے چل کر جب افغانستان نے پاکستان کے خلاف “پشتونستان کارڈ” کھیلنے کی شدت میں اضافہ کردیا تو جواب میں ذہین و فطین ذوالفقارعلی بھٹو نے “ہزارستان کارڈ” کھیلنے کی پالیسی بنائی جس میں مرکزی کردار مرحوم برگیڈئیر خادم حسین خان کا تھا۔ انہی کی کوششوں سے ریڈیو پاکستان کوئٹہ نے 1974ء میں 30 منٹ دورانیے پر مشتمل برنامہ ہزارہ گی کا آغاز کیا جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا ہزارہ گی زبان میں پہلا باقاعدہ پروگرام تھا۔ میں خود اس پروگرام سے قریباً بیس سال تک وابستہ رہا اس لیے مجھے اس سے جڑے اکثر پس پردہ اور پیش پردہ کرداروں سے براہ راست گفتگو کرنے کے مواقع ملے۔ لہذا میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کررہا ہوں۔

برنامہ ہزارہ گی اس تیزی سے مقبولیت کے منازل طے کرتا گیا کہ منتظمین کو اس کا دورانیہ پہلے ایک گھنٹہ اور بعد از آں ڈیڑھ گھنٹے تک بڑھانا پڑا اور وہ بھی دیگر زبانوں میں نشر ہونے پروگرامز کے اوقات کو کم یا ختم کرکے۔ بی بی سی فارسی کے بعد برنامہ ہزارہ گی وہ واحد پروگرام تھا جس کے سننے پر افغانستان میں سردار داود خان اور ثورانقلاب کے حامی حکومتوں کے دوران باقاعدہ پابندی عائد تھی۔ یہ پروگرام میڈیم ویو پر نشر ہوتا تھا (یہ پروگرام اب تک جاری ہے مگر کم دورانیے کے ساتھ)۔  سردیوں کے دوران بالائی بلوچستان، زاہدان،مشہد اور ہزارہ جات سمیت پورے افغانستان میں صاف سنائی دیتا ہے۔ اس وقت اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ہر ہفتہ سینکڑوں کے حساب سے خطوط موصول ہوتے تھے۔ خطوط کے لحاظ سے برنامہ ہزارہ گی پاکستان بھر میں سالوں سر فہرست  رہا۔ خطوط کی بہتات کے باعث ان کو نشر کرنے میں کئی مہینے لگ جاتے تھے جس پر بعض سامعین لفافے میں نقدی ڈال کر براہ راست جناب برات منگول کے گھر دینے کی کوشش کرتے۔ ان کی طرف سے سختی سے انکار کے بعد یہ سلسلہ ریڈیو اسٹیشن کے پتے پر اسی طرح نقد پیسے رکھ کر بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کی روک تھام کے لئے روز خصوصی اعلان کرنا پڑتا تھا۔ حقیقتاً اس پروگرام نے ہزارہ گی گفتار اور موسیقی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

معروف ہزارہ گلوکار سرورسرخوش، داود سرخوش، میرچمن سلطانی، حمید سخی زادہ کے علاوہ مقامی گلوکار محمدعلی، حسن علی، قربان زارییہ، رجب حیدری، غضنفرعلی، رضا حامدی وغیرہ کا براہ راست تعلق اس برنامہ سے رہا۔ ان کے علاوہ دیگر معروف ہزارہ شخصیات جیسے افغانستان کی پہلی خاتون نائب صدر محترمہ ڈاکٹرسیماثمر (شعبہ صحت)، ورلڈ ہزارہ کونسل کے چیرمئین جناب اکرم گیزابی (شعبہ حالات حاضرہ)، چیرمئین ایچ ڈی پی شہید حسین یوسفی، وائس چیرمئین محمد رضا وکیل موجودہ چیرمئین تنظیم نسل نو ہزارہ مغل نادرعلی ہزارہ، ، زمان دہقانزادہ، معروف ہزارہ مورخین محمد عیسیٰ غرجستانی، حاجی سلیمان خان، معروف شعراء محمدعلی اختیار، یعقوب علی انیس، سید جواد موسوی، عالم مصباح، موجودہ ایم پی اے قادر نائل اور درجنوں دیگر افراد بھی برنامہ ہزارہ گی سے کسی نہ کسی طور وابستہ رہے۔ جناب برات منگول شروع سے اب تک اس پروگرام کے انچارج چلے آرہے ہیں۔

ب- تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کوئٹہ 

مجھے 80 ء کی دہائی سے قبل تنظیم کی ثقافتی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔ البتہ اس کے بعد کے ادوار کی بابت کافی معلومات حاصل ہیں۔ تنظیم کی طرف سے پہلا بڑا ثقافتی پروگرام معروف ہزارہ گلوکار سرورسرخوش کے ساتھ تھا جس میں انھوں نے تمام انقلابی ترانے گائے جو آج تک روز اول کی طرح مقبول ہیں۔ اسکے بعد مختلف تقاریب کے درمیان ایک وقفہ کے طورپر دمبورہ آئٹم کی روایت پڑی، یہ روایت آج تک قائم ہے۔ 90ء کی دہائی کے دوران یزدان خان ہائی اسکول گراونڈ میں موسیقی کی ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی۔ اس میں بھی زیادہ تر انقلابی ترانے پیش کئے گئے، البتہ اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ افغانستان کے دو معروف ہزارہ لوک گلوکار استاد صفدرتوکلی اور امان یوسفی نے بھی اس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ لیکن میرے خیال میں اس ہزارہ گی ثقافتی شو کی بابت قدرے تفصیل سے بات کرنا بہت ضروری ہے جو نوعیت کے اعتبار سے پہلا ہزارہ گی ثقافتی شو تھا۔

در اصل تنظیم کے اس وقت کے چیرمئین غلام علی حیدری صاحب نے سانحہ 6 جولائی کے دوران تنظیم کا گیٹ بند کروا کرایران نواز قوتوں کو یہ سنہرا موقع فراہم کیا تھا کہ وہ اس قومی تنظیم کی ساکھ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائے۔ ایسا ہوا بھی اور ایک وقت وہ بھی آیا جب اکثر سنئیر ممبران، تنظیم کے سامنے سے گذرنے سے کترانے لگے۔ تنظیم کو ان برے حالات سے نکالنے میں کافی وقت لگا جس میں ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا کلیدی کردار رہا۔ حاجی رحمت اللہ روڈ سے درہ آجئی و تالاب خشک تک گھنٹوں پر محیط درجنوں آغلی میٹنگزمیں مخالفین کی بولتی بند کرنے والا کوئی اور نہیں عالم مصباح تھا۔ انہی کوششوں کے ضمن میں تنظیم نسل نو ہزارہ مغل نے 1987ء کے دوران  موجودہ چیئرمین نادرعلی ہزارہ کی تجویز پرایک قورولتائی (گرینڈ جرگہ) منعقد کیا تاکہ تنظیم کی اس وقت کی لورلائی، حیدرآباد اور سانگھڑ برانچِز سے وفود بلا کر ان سے مشاورت کرکے تنظیم کی ساکھ کو بہتر بنایا جاسکے ۔ قورولتائی میں تنظیمی امور پر صلاح مشورہ سیشن پھر جلسہ عام اور پھر اگلے روز ثقافتی پروگرام پر اتفاق ہوا۔ ثقافتی پروگرام کے بارے میں اکثر اراکین حسب روایت محفل موسیقی منعقد کرنے کے حامی تھے۔ میں نے ہزارہ ثقافتی شو رکھنے کی تجویز دی تاکہ پروگرام میں لوگوں کو کچھ نیا دیکھنے کو ملے اور ساتھ ہی ہزارہ گی ثقافت کے مختلف ابعاد سے شناسائی بھی ہو۔ دوستوں نے یہ تجویز منظور کرلی۔ حسب روایت مختلف امور کی انجام دہی کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

ثقافت کا شعبہ میرے حوالے کیا گیا۔ میں نے عالم مصباح، زمان دہقانزادہ و دیگر چند دوستوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی۔ پھر اس ٹیم اور چند بزرگ اشخاص کی مدد سے ہزارہ گی ملبوسات، زیورات، روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے پردے، ٹوپیاں، کانچ (مورہ) سے بنی چیزیں، گِلیم، نمد، برگ، چوخال، کیِرو وغیرہ کی ایک لمبی لسٹ بنائی۔ لیکن جب ڈھونڈنے نکل پڑا تو پتہ چلا کہ سوائے چند استعمال شدہ زنانہ ملبوسات، زیورات و گِلیم باقی کچھ بھی دستیاب نہیں۔ میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔ خیر اسی پریشانی میں نے ایک شام اسکا تذکرہ تنظیم کے دفتر میں دوستوں سے کیا۔ اس پرموسیٰ حیدر جویا نے کہا کہ آج میری ملاقات علی رضا منگول سے ہوئی ہے جس کی پوسٹنگ مہاجرکیمپ پنجپائی میں ہے چلو ان سے بات کرتے ہیں۔ میری منگول صاحب سے سلام دعا کی حد تک جان پہچان تھی۔ میں فوراً موسیٰ جویا کو بائک پر لے کر علی رضا منگول کی تلاش میں ان کے متوقع بنڈار والی جگہوں کی طرف نکل گیا اور جلد ہی منگول صاحب ہمیں مل گئے۔ میں نے تفصیل سے اس ثقافتی شو کے بارے میں انھیں بتایا اور لوازمات کے حصول کے لئے مدد کی درخواست کی جسے انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اگلے روز پنجپائی مہاجرکیمپ ساتھ چلنے کو کہا۔ اگلے روز میں اور موسیٰ جویا، منگول صاحب کے ساتھ ویگن کے ذریعے مہاجر کیمپ پہنچے اورظہر کے وقت ہزارہ مہاجرین سے ملے۔ حسن اتفاق سے وہاں ہمیں چند جاننے والے بھی مل گئے۔ نان و چائے کے بعد آنے کا مدعا بیان کیا تو سبھی دوستوں نے کہا فکرکرنے کی ضرور نہیں اگلے روز تک سب کچھ مل جائے گا۔ واقعی اگلے روز قوما کئی بھری بوریاں لیکر آگئے اورہم بھری جھولی کے ساتھ  خوشی خوشی کوئٹہ آگئے۔

کوئٹہ پہنچنے پر ایک اور خوشخبری ملی کہ لیاقت شریفی بھی چھٹیوں پرلاہور سے آئے ہوئے ہیں۔ مندہ نشی کے بہانے فوراً ان کے گھر گئے اور بغیر لگے لپٹے ان سے اس ثقافتی شو کی نگرانی و انتظام سنبھالنے کا تقاضا کیا۔ وہ اس شرط پر یہ ذمہ داری لینے پر راضی ہوئے کہ کوئی بھی ان کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ تاہم میں نے از راہ احتیاط تنظیم کے چند اہم عہدیداروں سے اس بابت بات کی تو انھوں نے بھی مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ جس کے بعد باقی جملہ انتظامی امور لیاقت شریفی کے سپرد ہوئے۔ سب سامان بوریوں یا گٹھڑیوں میں خدیجہ محمودی ہال کے پیچھے واقع آخری کمرہ میں رکھا گیا تھا۔ سب سے پہلے لیاقت شریفی نے لسٹ کے حساب سے سامان مالکان کے نام کے ٹیگز بنائے۔ اس کے بعد   ٹیم اراکین نے ہر گٹھڑی اور بوری سے سامان نکال کر ان پراحتیاط سے وہ مخصوص ٹیگ لگوائے تاکہ مختلف لوگوں کے سامان کی شناخت میں آسانی رہے۔ اس کے بعد سامان کی مختلف کیٹگریز میں تقسیم بندی کی گئی۔ یہ ایک لمبا اور تھکا دینے والا کام تھا۔ نمائش والی رات کام سب سے کھٹن اس لئے تھا کہ ہر آئٹم کے لئے قلم سے کیپشن لکھنے اور پھر نمائش کے لئے ہال کے اندر ترتیب دینے کی ضرورت تھی۔ شادروان قیس یوسفی مین خطاط تھے جبکہ ان کی معاونت عالم مصباح اور زمان دہقانزادہ کر رہے تھے۔ یہ طویل ٹاسک رات کافی دیر گئے مکمل ہوسکا جس کے بعد ہال کو تالا لگا کر چابی انتظامی کمیٹی کے حوالے کردی گئی۔

اگرچہ نوعیت کے لحاظ سے یہ پہلی ہزارہ گی ثقافتی نمائش تھی لیکن ٹیم ارکان کی انتھک محنت اور لیاقت شریفی کی پروفیشنل قابلیت کی بدولت یہ ایک نہایت کامیاب نمائش ثابت ہوئی۔ بلا تردید پاکستانی ہزارہ قوم کی تاریخ میں پہلی بار اتنی ڈھیر ساری ثقافتی اشیاء، وہ بھی ہزارہ جات کے مختلف خطوں سمیت کوئٹہ سے بھی ایک چھت تلے اسطرح منظم انداز میں نمائش میں دیکھنے کومل رہی تھیں۔ دن بھر شائقین کا تانتا بندھا رہا۔ نمائش کی کامیابی کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ خواتین کے بے حد اصرار پر نمائش میں ایک اور دن کا اضافہ کر کے اسے خواتین کے لئے مخصوص کردیا گیا جسے خواتین کی ایک بڑی تعداد نے دیکھا اور پسند بھی کیا۔ نمائش کے اختتام پر سامان کی جمع آوری اور ٹیگ کے لحاظ سے سارٹ آوٹ کرنے اور ان کو بحفاظت مالکان تک پہنچانے کی بھاری ذمہ داری ایک بار پھر میری تھی جو دوستوں کی معاونت سے بخیر و خوبی انجام پائی۔

(جاری ہے)     

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *