کوئٹہ میں پانی کا بحران ۔۔۔ اکبر علی

کوئٹہ میں پانی کا بحران

تحریر: اکبرعلی

پانی کی کمی اس وقت تقریباً پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ خصوصا افریقہ اور ایشیا کے باشندوں کو پانی کی قلت کا سب سے زیادہ سامنا ہے اور بدقسمتی سے انھی براعظموں کے عوام ہی پانی کا سب سے زیادہ ضیاع کرتے ہیں۔ 
پانی کی قلت کے مسئلے پر اس وقت پوری مہذب دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مغربی ممالک کی حکومتیں پانی کے قدرتی ذخائر کو بچانے کیلئے سب سے زیادہ کوششیں کررہی ہیں اور اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ آئندہ عالمی جنگیں، پانی ہی کے تنازعات پر ہوں گی۔ 
پاکستان کے مختلف بڑے شہر بھی ایک عرصے سے پانی کی کمی کے شکار ہیں۔ کوئٹہ میں تو پانی کا مسئلہ ایک بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ میری خواہش ہوگی کہ لمبی تمہید باندھے بغیر کوئٹہ اور بالخصوص علمدار روڈ اور ملحقہ علاقوں سے متعلق بات کروں۔ 
فیس بک پر ہم روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے ہیں کہ علاقے کے مکین پانی کی کمی کی شکایت پوسٹ کرتے ہیں اور اربابانِ اختیار کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ 
اسی طرح تقریباً روزانہ ہی کی بنیادوں پر ہم دیکھتے ہیں کہ علاقے خصوصاً حلقہ چودہ، پندرہ اور سولہ کے سابقہ کونسلر صاحبان،  علاقے میں موجود ٹیوب ویلز کی مرمت کرارہے ہوتے ہیں۔ یہ باتیں علاقے کے مکینوں سے ہرگز پوشیدہ نہیں۔ 
یہاں ایک ایسے نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا جس پر ہم عام طور پر توجہ نہیں دیتے۔ 
کوئٹہ میں ضروریات زندگی کے استعمال کیلئے ہمارا تمام تر انحصار زیر زمین پانی کے ذخائر پر ہوتا ہے جو کہ اصولی طور پر بہت غلط ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر انفراسٹرکچر نہ ہونے کے سبب دوسرے ذرائع ہمارے اختیار میں بھی نہیں۔ 
ہم سب جانتے ہیں کہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے اور ٹیوب ویلز کیلئے پانی تک پہنچنا اور اوپر کھینچ کر لوگوں کے گھروں تک پہنچانا بہت حد تک ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ اس بات کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ رضا وکیل صاحب، مرزا صاحب اور بوستان علی کشتمند صاحب کی کوششیں ہر لحاظ سے قابل قدر ہیں لیکن اگر زمین کی نیچے پانی ہی نہ ہو تو ہر گھر میں بھی اگر ٹیوب ویل لگائے جائیں تو پانی کا ملنا محال ہوگا۔ 
اس سلسلے میں چند تجاویز پیش کرنا چاہوں گا۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو مذاق یا بے وقوفی والی بات لگے لیکن سننے پڑھنے اور غور کرنے میں آپ کا زیادہ حرج نہیں ہوگا۔ 
کوہ مُردار سے ملحق علاقے کے مکین اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ پہاڑ زیادہ تر پتھریلے اور خشک ہیں۔ اوّل تو زیادہ بارشیں نہیں ہوتیں اور اگر ذرا سی بھی بارش ہو تو ان بارشوں کا سارا پانی زمیں میں جذب ہونے کی بجائے، سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرکے گلی محلوں اور بالآخر شہر اور بازار کا نقشہ بدل نہایت ابتر کر دیتا ہے۔ 
کوہ زیارت کے دونوں اطراف “درّہ” سے ہم واقف ہیں کہ بارشوں کا پانی سیلاب کی صورت بہہ کر علاقے میں اور پھر پورے شہر کی گلیوں اور نالیوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ اس پانی کو محفوظ کرنے کیلئے حکومت سے توقع رکھنا عبث ہے۔ 
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے رضاکارانہ طور پر قبرستان سے “ڈیم” تک جانے والی پگڈنڈیاں کس جانفشانی سے  بنائیں ہیں۔ “ڈیم” کے اطراف کو لوگوں نے کس خوبصورتی سے مکمل رضاکارانہ طور پر اپنے ہی خرچے سے پکنک پوائنٹ میں تبدیل کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لق و دق دشت کے بیچوں بیچ، درختوں کے جُھنڈ اور پھولوں کے باغات بنانے میں مکمل طور پر ہمارے رضاکار جوانوں اور بالخصوص بزرگوں کا ہی کردار رہا ہے جنھیں حکومت کی پُشت پناہی بالکل بھی حاصل نہیں۔ 
میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی طرح ہم “درّے” کا بھی ایک جائزہ لیں تو ہر چالیس پچاس میٹر کے فاصلے ہر، بہت سارے چھوٹے چھوٹے ڈیم یا Reservoir بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کام پر اقتصادی لحاظ سے بہت کم خرچہ آئے گا۔ کیونکہ افرادی قوت تو رضاکار فراہم کریں گے، تعمیر میں استعمال ہونیوالے پتھر وہی پر موجود ہیں، صرف سیمنٹ کا خرچہ آئے گا جس کیلئے مجھے یقین ہے کہ علاقے کے منتخب پارلیمانی نمائندے سے کمک حاصل کرنا ممکن ہے۔ دونوں اطراف کے پہاڑ، دیوار کا کام دیں گے اور صرف ایک طرف سیمنٹ اور پتھر استعمال کرکے پانی کا راستہ روکا جاسکے گا۔ 
یہ ڈیمز جگہ کی مناسبت سے مختلف چھوٹے اور بڑے سائز میں بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کے بہت سارے فائدے ہیں۔ 
سب سے بڑا اور اہم فائدہ یہ ہوگا کہ یہ ڈیمز زیر زمین پانی کے ذخائر کو بڑھانے کا سبب بنیں گے۔ پہاڑوں پر پانی کی موجودگی جانوروں اور پرندوں کیلئے بہت اہم ہوگی۔ علاقے اور شہر میں سیلاب نہیں آئیں گے اور ماحول کی بہتری اور بحالی میں مدد ملے گی۔ درخت اور سبزہ اگیں گے تو لامحالہ بارشیں بھی زیادہ ہوں گی جس کا فائدہ انسانوں ہی کو ہوگا۔
یہ کام بہت اہم ہے۔ میں ذاتی طور پر کوہ پیما نہیں یا دوستوں کی اصطلاح میں “کوئی” نہیں ہوں۔ جو دوست پہاڑ پر جاتے رہتے ہیں وہ زیادہ جانتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی رائے ضرور دیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھیں کہ کیا یہ کام ممکنات میں سے ہے؟ میرا مطلب یہ ہے کہ علاقے میں موجود وسائل ہی ہمارا سب کچھ ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ حکومت سے اس سلسلے میں امید رکھنا فضول ہے۔ 
جس طرز پر ہمارے مخلص رضاکاروں نے قبرستان، اور اطراف میں کام کیے ہیں وہ قابل ہزار ستائش ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اسی طرح “زیارت پہاڑ” کے اطرافی درّے میں بھی اس پروجیکٹ پر کام کیا جائے۔۔۔؟

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے معاون مدیر اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اکبر علی

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے معاون مدیر اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔