شکوے سے شُکر کا سفر ۔۔۔ زہرا علی/ دوسری اور آخری قسط

افسانہ

شکوے سے شُکر کا سفر

 تحریر: زہرا علی 

دوسری اور آخری قسط

وقت گزرتا رہا لیکن ہمارے گھر کا ماحول نہ بدلا۔ میں بڑی ہوکر دادی کی آنکھوں میں اور زیادہ کھٹکنے لگی تھی۔  دادی نے اُس گھر میں میرا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اُن کی چبھتی نگاہوں اور زیر لب بد دعاؤں کے ڈر سے میں سارا دن خود کو کمرے میں  بند کر کے پڑی رہتی۔ اگر کھبی غلطی سے ہم دونوں کا آمنا سامنا ہوبھی جاتا تو اُن کی نظروں میں اپنے لیے شدید نفرت محسوس کرکے مجھے اپنے وجود سے ہی گھن آنے لگتی۔ لیکن اپنے آپ سے زیادہ مجھے امیّ کی فکر رہتی۔  اُن کو یہ بات سمجھاتے سمجھاتے میں تھک سی گئی تھی کہ اپنے لیے آواز اٹھائے۔  منہ سے کچھ تو نکالے۔ اگر اور کچھ نہیں کر سکتی تو دبے لفظوں میں ہی ابا کی غیرت کو جگاۓ کہ وہ آپ کا محافظ بنے نا کہ آپ کو مارتے پیٹتے رہیں۔ لیکن وہ تو پتھر کی ہوگئی تھی ، اُسےاب جیسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا چاہے اس کے ساتھ جو جیسا چاہے سلوک کرے، اُلٹا مجھے بھی صبر و حوصلے کی تلقین کرتی رہتی۔

اُس دن تو میرے صبر کا پیمانہ ہی لبریز ہوگیا جب صبح کی اذان کے بعد نماز پڑھ کر امیّ نے دادی ماں کے کمرے کےگندے فرش (قالین) دھونے کے لیے نکالے ۔ امی نے مجھ سے پوچھا بھی تھا کہ کیا میں اُن کی مدد کر سکتی ہوں۔ دل میں رنجشوں کا انبار لیے میں نے صاف انکار کردیا کہ میں دادی کی کسی بھی چیز کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی۔ امی کو بھی سمجھایا کہ وہ بھی دادی کے فرش کو گندا ہی رہنے دیں، کوئی ضرورت نہیں دھونے کی۔ لیکن وہ نہیں مانی اور جذبہ ٔ خدمت سے سرشار لگ پڑی اکیلے ہی اُسے دھونے۔ فرش دُھل گیا تو نجانے انہیں کیسے گمان ہوا کہ وہ اکیلے ہی گیلے اور وزنی فرش اٹھا کر گھر کی چھت پر سکھانے کے لیے ڈال سکتی ہے۔  سخت غصّہ آیا تھا مجھے اُن کی اس حرکت پر اور اپنے آپ پربھی کہ میں نے امی کی مدد سے انکار کیوں کیا۔ بس پھر کیا تھا امی نے وہ گیلی اور وزنی فرش اپنے کمزور کاندھوں پر رکھا اور چھت کی سمت جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ شاید آخری کچھ سیڑھیوں پر پہنچی ہو گی کہ اپنا توازن قائم نہ رکھ پائی اور سیڑھیوں سے لڑھکتی ہوئی نیچے گر گئی۔ امی کی آہ و زاری سُن کر سب کمروں سے باہر آگئے۔  اتفاقاً اس دن دونوں پھوپھیاں بھی ہمارے گھر پر ہی تھیں۔ میں امی  کی مدد کو دوڑی لیکن باقی سب کھڑی امی کو زمین پر درد سے کراہتے ہوۓ دیکھتی رہیں۔

زور سے گرنے کے سبب امی کو بہت چوٹیں آئی تھیں۔ درد کے سبب وہ رو رہی تھی اور کراہ رہی تھی لیکن پاس ہی کھڑی دادی اور دونوں پھوپھیاں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں اور یہ  کہہ کر امی کا مذاق اڑا رہی تھیں کہ بیوقوف عورت تمہیں کس نے کہا تھا اتنی مہارت دکھانے کو۔  اب ہم اتنے بھی ظالم نہیں کہ اتنے بھاری فرش تمھیں اکیلے ہی اٹھانے دیتیں۔ ہمیں آواز دی ہوتی تو ہم مدد کو آ ہی جاتے اور نجانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ امی کی آنکھوں میں میں نے اس دن پہلی مرتبہ آنسو دیکھے لیکن وہ آنسو ان کی جسمانی تکلیف سے نہیں بلکہ بے عزتی کے احساس اور دل دکھنے پر بہہ رہے تھے۔  امی کے آنسوؤں سے میرا کلیجہ پھٹنے لگا۔ میں انہیں کاندھا دے کر کمرے تک لے آئی۔بستر پر لٹا کر انہیں کوئی درد کی دوا دینے کا سوچا لیکن غم اور غصّے سے میرا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میرا غصّہ کم ہو جاتا اور اسکا پچھتاوا مجھے عمر بھر رہتا، میں نے امی کو اسی حالت میں چھوڑ کر اور ان کے کمرے کے دروازے کو باہر سے کنڈی لگا کر انہیں کمرے میں بند کر دیا ورنہ شاید باہر نکل کر وہ میرے ارادوں پر پانی پھیر دیتی۔

دادی اور پھوپھیاں وہیں کھڑی بدستور امیّ کا مذاق اڑا  کر بتیسیاں نکالے جا رہی تھیں جبکہ ابا کو میں نے زندگی میں شاید پہلی مرتبہ خلاف معمول اپنی ماں اور بہنوں کے بر عکس چُپ چاپ ایک کونے میں خاموش کھڑا پایا۔ ارد گرد نظر گھمائی تو ایک کونے میں پڑی پھو پھیوں کے بچوں کے کھیلنے کے لیے لکڑی سے بنا وہ چھوٹا ساکرکٹ کا بلّا نظر آیا۔  بے ساختہ ایک جنونی حالت میں اس کی طرف لپک کر میں نے اُسے ہاتھ میں اٹھا یا اور اُن چار وں بے حس زندہ لاشوں کو سبق سکھانے کا سوچا۔  لیکن ایسا کرنے کے بجاۓ وہ بلّا ابّا کے ہاتھ میں پکڑا کرمیں دیوانہ وار روتی رہی اور چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ اگر بے غیرتی اور بے شرمی کا کوئی آخری قطرہ اُن میں باقی بچا ہو تو مار مار کر آج اپنی بیوی کی جان لے لیں تا کہ اُن کی نام نہاد مردانگی پر امر ہونے کا ٹھپہ لگ جاۓ۔ ابا کی نظروں میں جو کچھ تھا وہ میں اُس وقت نہیں سمجھ پائی تھی۔دادی اور پھو پھیوں سے میں کیا لڑتی اور کیوں؟  وہاں تو خود امی کے مجازی خدا ہی اُن کی حفاظت نہیں کر پا رہے تھے۔ ابا تو بدستور اُسی حالت میں کھڑے رہے لیکن وہ تینوں عورتیں اب بھی انہیں ورغلا رہی تھیں تا کہ مار مار کر میرا بھرکس نکال دے لیکن ابا نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اُن کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ میں سیڑھیوں پر بیٹھی روتی رہی۔  باقیوں نے اپنی راہ لی اور ابا بھی وہیں کہیں زمین پر بیٹھ گئے۔ رو رو کر تھک چکی تو میں نے مڑ کر دیکھا۔  تب زمین پر بیٹھے پہلی مرتبہ شرمندہ ہوتے ہوئے اپنے چھوٹے سے ننھے منے ابّا پر مجھے بہت ترس آیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ میرا رہا سہا غصّہ ختم ہوتا میں ابا کو کسی بھی قسم کی رعایت نہ دینے کا سوچتےہوۓ اُن کی طرف لپکی اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے بیرونی دروازے کی سمت بڑھتی ہوئی اس مرتبہ اُن کی خوب عزت افزائی کی “بے غیرتی کی حد ہوتی ہے ابا، شرم آنی چاہیے تمہیں اس طرح کھڑے کھڑے تماشہ دیکھتے ہوۓ۔ وہ عورت جس کا جسم زخموں سے چُور چُور ہے ، اور جس کی عزت نفس کی دھجیا ں ہر روز اس گھر میں اڑتی ہے وہ تمہاری اپنی عورت ہے۔ اگر اُس کی حفا ظت نہیں کر سکتے تو شرم سے ڈوب مرو اور نکل جاوْ اس گھر سے، اور تب واپس آنا جب تم ایک آدمی سے مرد بن چکے ہوں گے”۔

بیرونی دروازہ کھولتے ہوۓ اپنی پوری قوت سے اُن کو باہر دھکیلا اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ اپنی اس حرکت پر میں خود بھی حیران تھی۔ میں نے اپنے آنسو پونچھے اور امی کے پاس چلی گئی۔  اس نےبستر میں اپنا منہ چھپارکھا تھا۔  میں نے ان کے چہرے  سے کمبل ہٹایا تو اُنہوں نے بے اختیار مجھے گلے سے لگایا اور اب کی بار ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ آنسو رکھے تومیں نے اُن کے زخموں پر مرہم لگایا۔  چائے ناشتہ کروا کر اُن کو دوا دی اور آرام کرنے کا کہا۔ اُس رات ابا گھر نہیں آۓ۔  نجانےانہوں نے کہاں رات گزاری۔ امی بار بار ان کا پوچھتی رہی اور رات بھر بےچینی میں کاٹی۔ میں اپنے رویےّ پر نادم اللہ تعالی سے دعائیں مانگتی رہی کہ ابا خیریت سے ہوں۔ اب کے گھر واپس آۓ تو وہ پرانے ابا ناہوں۔ اگلی صبح دروازے پر دستک ہوئی تو  دروازہ کھولنے پر سامنے ابّا کو دیکھ کر میں نے اُن سے اپنے کل کے رویے پر معافی مانگنا چاہی لیکن امیّ کی تکلیف نے میری زبان پر قفل لگا دیئے تھے۔ ابّا سیدھا دادی کے کمرے میں گئے اور گھنٹوں اُس کمرے سے نہیں نکلے۔ میں باہر صحن میں بیٹھی اُن کے جھگڑنے  کی آوازیں سُنتی رہی۔  کل اُن کی آنکھوں میں جو درد رکے ہوۓ تھے آج وہ کھل کر باہر نکل رہے تھے۔  اُنہیں امی کی کل والی حالت پر واقعی دکھ ہوا تھا ۔ جس آدمی نے پوری زندگی امی کے لیے آواز نہیں اٹھائی تھی  وہ آج امی کے حق میں کھڑا  ان کے شوہر کی حیثیت سے ان کے لیے حق کی لڑائی لڑ رہا تھا اور میری آنکھوں سے خوشی کے نا تھمنے والے آنسو بہہ رہے تھے۔

اُس واقعے کے بعد ابا کا رویہ تو ا می کے ساتھ بہت بہتر رہنے لگا تھا۔  لیکن رفتہ رفتہ حیران کن طور پر امی کے ساتھ دادی کے برتاؤمیں بھی لچک آنے لگا ۔ مار پیٹ تو کیا وہ اب امی اور مجھ سے  گالم گلوچ بھی نہیں کیا کرتی تھی ۔ اپنی پوری زندگی میں پہلی بار مجھے ہمارا گھر بہت پُر سکون اور اچھا لگنے لگا تھا۔ میں اللہ میاں سے دعائیں کرتی رہتی کہ اس سکون کو کسی کی نظر نا لگے۔ میں اپنی ضدی طبیعت کے باعث دادی سے دوستی پر بالکل بھی تیار نہیں تھی لیکن امیّ کی دادی سے خوب دوستی ہو گئی تھی۔  اب وہ گھنٹوں اکھٹے بیٹھ کر شام کی چاۓ کے مزے لے لے کر گپّے ہانکتیں اورمیں امی کے اسی سکون اور خوشی میں ہی سب سے زیادہ خوش تھی۔ ہماری خوشیوں کے دن اپنے جوبن پر تھے کہ ایک دن اچانک ہشاش بشاش دادی پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ بیٹھے بٹھاۓ مستقل بستر سے جا لگی۔  ہلنا جُلنا تو دور کی بات وہ اب ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا تی تھی۔ امی دادی کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی اور مجھے بھی سب کچھ بھلا کر دادی کی خدمت کرنے کا کہتی تھی۔ امیّ کی لاکھ منت سماجت پر ایک دن میں دادی کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے گئی تو پہلی مرتبہ اُن کو بہت ضعیف اور کمزور پایا۔  ان کی آنکھوں میں ٹہرے اورنابہنے والے آنسوؤں میں مجھےبہت ساری پشیمانی نظر آئی۔  وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتی رہی اور میرے اور امی کے ساتھ اپنے رویے پر معافی مانگتی رہی۔ میں نے اُن کے کمزور ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر آنکھوں سے لگایا اور بار بار چومتی رہی اور سالوں سے اپنی دادی کی کھوئی ہوئی محبت سمیٹتی رہی ۔ میں اللہ تعالی سے دعائیں کرتی رہتی کہ دادی جلد سے جلد صحت یاب ہو ۔ ہمارے دلوں سے شکوے شکایتیں ختم ہو ر ہی تھیں اور ہم ایک مل جل کر پیار سے رہنے والا چھوٹا سا خاندان بن رہے تھے۔

دو برس فلج کے مرض میں مبتلا دادی پر اور بھی بہت سی بیماریوں کا حملہ ہوا تو وہ جانبر نا ہو سکی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ گھر میں امیّ اور ابا کی خوشیوں اور سکھ بھری زندگی دیکھ دیکھ کر میں ہر دم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی رہتی۔ دادی کی وفات کے سال بھر بعد میری بھی شادی ہو گئی تو میں اپنے میاں کے ساتھ دبئی آگئی۔ شادی شدہ زندگی اور شوہر کے نام سے خوفزدہ رہنے والی مجھے شوہر کے روپ میں ایک نایاب ہیرا اور بہت ہی عزت اور پیار دینے والا سسرال مل گیا تھا۔ میرے ڈر اور خدشات کے برعکس ہمارے گھرجڑواں بیٹیوں نے جنم لیا تو سب کی خوشی دیدنی تھی، اللہ کی عطا کردہ اس دوہری رحمت پر چھوٹے بڑے سبھی خوشی سے نہال تھے،اس کے بعد اللہ نے اولاد نرینہ سے بھی نوازا تو ہمارا چھوٹا سا خاندان بھی مکمل ہو گیا۔ الحمد للہ امی اور ابا کے ساتھ ساتھ ہم سب اپنی زندگیوں سے بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ عزت اور محبت کی اس زندگی کے لیے اب جب بھی اللہ کے سامنے ہاتھ اُٹھتے ہیں تو منہ سے شکوے اور شکایتیں نہیں بلکہ شکرانے کے الفاظ نکلتے ہیں۔

اس کہانی کی پہلی قسط یہاں پڑھیں

زہرا علی

زہرا علی خاتون خانہ ہیں۔ بنیادی طور پر کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ گزشتہ گیارہ سالوں سے ناروے میں مقیم ہیں۔ پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور مستقبل میں نفسیات میں ماسٹرز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
زہرا علی

زہرا علی

زہرا علی خاتون خانہ ہیں۔ بنیادی طور پر کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ گزشتہ گیارہ سالوں سے ناروے میں مقیم ہیں۔ پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور مستقبل میں نفسیات میں ماسٹرز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔