کوئٹہ، آئندہ بیس سالوں میں ہم کہاں ہوں گے؟ ۔۔۔ اکبر علی

کوئٹہ، آئندہ بیس سالوں میں ہم کہاں ہوں گے؟

اکبر علی

کوئٹہ نے اپنی معلوم شہری تاریخ میں بدترین بد امنی کا بدترین دَور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دیکھا ہے۔

نئے میلینیم اور نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر کے قلب اور بازار کی گلیوں میں جس طرح ہزارہ عوام کا خون بہایا گیا، وہ اس قوم کے بچے بچے کو اذیت اور کرب کی آگ میں تو جلاتا ہی رہے گا لیکن ریاست کی بےشرمی اور بےغیرتی کے ابواب بھی تاریخ میں کندہ ہی رہیں گے۔

اکیسویں صدی میں، دنیا کے ایک گوشے میں جہاں روز بڑی بڑی کانفرنسز اس بابت ہورہی ہیں کہ کہیں پالتو جانوروں کے حقوق کی پامالی تو نہیں ہورہی،بطخوں اور مرغابیوں کی سالانہ نقل مکانی کے وسائل آمادہ ہیں یا نہیں، حشرات الارض کی زندگیوں کو دوام دینے کیلئے ماحول سازگار ہے یا نہیں، اور اگر نہیں تو ریاست ، حکومت اور عوام کو کون سے ایسے اقدامات کرنے چاہیے جن کے نتیجے میں جانور ، پرندے اور حشرات اپنی قدرتی زندگیاں  گزار سکیں۔ مجھے ذاتی طور پر یاد ہے کہ سنہ دوہزار نو یا دس میں،انگلستان کے شہر لیسٹر کے ریڈیو ، ٹیلی وژن اور اخبارات میں جانوروں کے تحفظ کی تنظیمیں کئی دنوں تک  اس بات کیلئے واویلا کرتی رہیں کہ بازوں (Falcon) کا ایک جوڑا جو ہر سال کی طرح اس سال بھی ہزاروں میل کا سفر طے کرکے بہار اور گرما کا موسم لیسٹر میں گزارنے آیا تھا، اس جوڑے کا نَر چار دنوں سے کہیں گُم ہوگیا ہے اور اپنے گھونسلے میں واپس نہیں آیا۔ لہذا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس “باز” کو ڈھونڈا جائے اور اس کی بحفاظت واپسی کو ممکن بنایا جائے۔

اب آتے ہیں دنیا کے اس گوشے کی جانب جہاں بطخ، جانور اور کیڑے مکوڑے نہیں بلکہ انسانوں کا روزانہ کی بنیاد پر قتل ہوتا رہا  لیکن ریاست تو ٹَس سے مَس  ہرگز نہیں ہوئی البتہ بازار میں وہ دکاندار بھی دکانداری اور اِملاک کی خریدو فروخت میں مصروف رہا جس کے ہمسایہ دکاندار کو اس کے جوان بیٹے سمیت دن دہاڑے، گاہکوں کی موجودگی میں گولیوں سے چھلنی کر دیاگیا۔ ہماری کروڑوں کی جائیدادوں کو جس طرح کوڑیوں کے مول خریدا گیا، وہ تو ہم بھولنے سے رہے، کس نے خریدا اور کون اب مالک ہیں، یہ بھی فراموش کرنے والی باتیں نہیں۔

کُشت و خُون اور دردناک قتل عام کی وجوہات بین الاقوامی تعلقات عامہ میں سردی گرمی ہوں یا مذہبی افیون کا جنون یا پھر دونوں ہی وجوہات بمعہ مزید، یہ واقعات ایک ایسے ملک میں رونما ہوئے  جس نے اقوام متحدہ کے قوانین پر دستخط کر رکھا ہے اور اس پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ جہاں جمہوریت ہے، پارلیمان ہے، فوج ہے، پولیس ہے، مقننہ ہے، عدلیہ ہے، رسائل اور ذرائع ابلاغ ہیں، صحافت ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر طور سے ایک جدید ریاست ہے۔

آج میرا اس مضمون کے لکھنے کا مقصد واقعات کی تفصیل میں جانا ہرگزنہیں۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اور آج، جب ہمارے معاشرے کا  توازن جو کہ مکمل بگڑ چکا ہے، پر ایک نظر ڈالی جائے۔

یوں تو بظاہر کوئٹہ کی پانچ لاکھ ہزارہ آبادی میں “صرف” دوہزار افراد قتل ہوئے ہیں، اور “صرف” پانچ ہزار افراد، جسمانی طور پر معذور ہوئے ہیں، اسی طرح یتیموں اور بیواؤں کی تعداد بھی “محض” چند ہزار ہی ہے۔ تاہم، ان سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ معاشرے کا طبعی توازن بگڑ گیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اس طرح کہوں گا کہ وہ نسل جو ان دہائیوں میں میدان عمل میں تھی اور وہ نسل جو اس دوران  پیدا ہوئی اور پل کر جوان ہوئی، فکری طور پر پریشان ہے۔ یا پھر بجا طور پر یوں کہوں گا کہ فکری طور پر “ناسالِم” ہے۔

 دَورِحاضر کی فقید المثال شکست و ریخت کے نتیجےمیں ایک چھوٹی سی کمیونٹی کی “فکری ناسالمیت” طبعی ہے اور سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ تقریباً ہر فرد نفسیاتی مسائل کا کسی نہ کسی حد تک شکار ہوچکا ہے۔

اب اہم بات یہ ہے کہ معاشرے کو کس طرح واپس اس ڈگر پر لایا جائے جسے نارمل کہا جاسکے۔ اس سلسلے میں ایسے کون سے اقدامات ہیں جو اگر آج کئے جائیں تو آئندہ بیس سالوں میں ثمر آور ہوں گے؟

  • میری دانست میں سب سے پہلے نئی نسل میں “خود باوری” اور “خود اعتمادی” کو فروغ دینا ہوگا اور ہر ممکنہ حد تک “مظلوم نمائی” کے مفکورے سے نکلنا ہوگا۔
  • معاشرے میں موجود تعلیمی اداروں اور سیاسی و سماجی تنظیموں کو روزمرہ کے معمولات سے ہٹ کر کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔
  • افراد کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے کیلئے ایک روزہ، دو روزہ ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے جس میں ماہرین امور نفسیات کی خدمات لی جائیں۔
  • ہر ممکنہ حد تک فکری افراط و تفریط سے نئی نسل کو بچایا جائے۔ مذہب کا غیر ضروری پھیلاؤ تشویشناک ہے جس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔
  • نوجوان نسل کی فکری بالیدگی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، اس سلسلے میں سیاسی جماعتیں ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیں جن کی بنیاد پر نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی پیدا ہو۔
  • نوجوان، سیاسی طور پر آگاہ ہوں گے تو بین الاقوامی سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں اپنے مسائل کو سمجھنے میں بھی ہوشیار ہو جائیں گے۔
  • شعر و ادب اور اسی قسم کی ادبی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔
  • مذہب کی غلط تفسیر سے بچا جائے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ محرم اور دیگر ایام میں مذہب کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے، یہ سب سیاسی ایجنڈے ہیں جن پر منظم انداز میں عمل کیا جارہا ہے۔ کچھ حد تک ایڈونچر ازم بھی ہے،جس کی آگاہی ہونی چاہئیے۔

ایک بات یاد رہے کہ دنیا میں تبدیلی کی رفتار، ماضی کی نسبت ہزاروں گنا تیز ہے۔ پس اس تناسب سے سائنسی، سیاسی اور سماجی تبدیلیاں بھی ناگزیر ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ ہم بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں۔ جدید دنیا میں جو بھی تبدیلی آئے گی وہ ہم پر بھی اثر انداز ہوگی۔

پس کیا ہی بہتر ہو کہ ہم فکری طور پر اس سطح پر کھڑے ہوں کہ تبدیلی سے اپنے لئےمثبت نتیجہ نکال لائیں۔ بصورت دیگر اگر ہم تیار نہیں ہوں گے تو یہ جدید تبدیلیاں ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گی۔

 

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے معاون مدیر اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اکبر علی

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے معاون مدیر اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔