عورت اور ہمارا معاشرہ ۔۔۔ نواز خان سنجرانی

عورتوں کے ہر قسم کے تشدد سہنے کی ابتدا ماں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ تشدد جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر ہوتا ہے۔ ایک لڑکی کو بچپن سے ہی یہی کہا جاتا ہے کہ تمہارا رتبہ تمہارے بھائی سے کم ہے۔ دنیا کی اچھی سے اچھی آسائشیں خاندان کی طرف سے لڑکوں کو مہیا ہوتی ہیں اور عورت کو یہ کہہ کر چپ کروایا جاتا ہے کہ: ”تم عورت ہو اپنے اندر برداشت پیدا کرو، کل کو کسی اور گھر میں بہو بن کر جاؤگی۔ وہ گھر؛ جہاں لڑکا…

پیار کسے کہتے ہیں؟ ۔۔۔ نواز خان سنجرانی

پیار ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے مطلب مفہوم کی طرح خود بھی بہت خوبصورت ہے یہ ایک مقدس ترین احساس کا نام ہے۔  میں اپنے سن شعور سے لے کر آج تک اس بارے میں سوچتاسمجھتا رہا۔  ہمیں ایک اسوہ کمال عطاء کیا گیا اور ہمارے لیے لازم ٹھہرا کہ ہم اپنے تمام افکار و نظریات ان کی ذات پاک سے حاصل کریں۔  مگر ہم نے اس مرکز سے انحراف کیا اور اپنی زندگی کی اقدارغیروں سے سیکھنا شروع کردیں۔  دنیا کی اس گلوبل ولیج ٹیکنالوجی نے ہمارا تشخص…

مسافر … نواز خان سنجرانی

جب ہم اپنے ماں باپ کی زندگی میں آئے تو سب نے بڑی خوشیاں منائیں ۔ کسی نے تحفے دئیے تو کسی نے مٹھائیاں بانٹیں۔ ہماری زندگی کا ایک ایک دن گنا جارہاتھا ۔ پھر زندگی کے دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے اور ہم نے بولنا اور چلنا بھی شروع کردیا ۔ تھوڑے بڑے ہوگئے تو سکول جانے لگے۔ قد بڑھتے بڑھتے امی اور ابو کے قد کےبرابر ہوگیا۔ ہم جوان ہوئے تو ہماری شادی ہوگئی ۔ پھرہم ماں باپ بن گئے اور ہمارے والدین دادا…

عہد ساز شخصیت، میر آف چاغی میر مدد خان سنجرانی

حاجی میر مدد خان سنجرانی ضلع چاغی کے افغان سرحدی علاقہ صالحہ کاریز میں 12 اگست1956ء کو خان آف چاغی خان صاحب، خان یعقوب خان کے بھتیجے میر شاہ نواز خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ سخاوت اور مہمان نوازی، غریب اور مسکینوں کی مدد کرنا میر صاحب کو وراثت میں اپنے والی میر شاہ نواز خان اور دادا خان صاحب یعقوب خان سے ملا ہے۔ سنجرانی قبیلے میں میر صاحب کا تعلق خان فیملی سے ہے۔ انہوں نے چھ سال کی عمر میں دالبندین آکر ابتدائی تعلیم حاصل کی، اور…