شبِ وحشت میں دل خاموش تھا اور شہر سُونے بڑا بے چین رکھا ہم کو شوقِ گفتگو نے دوبارہ آئنہ تکنے کی ہمت کر نہ پائے نہ جانے ایسا کیا پوچھا تھا عکسِ روبرو نے نہیں پایا کوئی تجھ سا تو گھر میں چپکے بیٹھے کیا ہے بسکہ تنہا ہم کو تیری آرزو نے نظر میں پھر گیا دل کا خزاں دیدہ چمن زار ستم ڈھایا عجب سیرِ بہارِ رنگ و بو نے بتاؤں کیا کہ باقی رات ہم نے کیسے کاٹی پکارا تھا عجب ڈھب سے درونِ خواب تو…
Author: محمد منذر رضا
اسلام آباد میں مقیم محمد منذر رضا NUST یونیورسٹی کے طالبِ علم اور نیشنل یوتھ اسمبلی کے رکن ہیں۔