غزل خاور میں ہارتا رہا ہوں ہر کھیل زندگی کا پہرا رہا ہے ہر پل خوشیوں پہ بے بسی کا سرگوشی کررہاہے کانوں میں اب تآسف خود کا ہوا ہے اور نہ بن پایا تو کسی کا مہلت قلیل ہے اور جلدی کے کام درپیش پر سامنا ہے مجھکو قسمت کی بے رخی کا بدلا ہے وقت بدلے ہیں یار لوگ سارے میں ساتھ دے سکا نہ دھوکے کی اس گھڑی کا انمول وقت کا ہر اک پل ہے سمجھو ورنہ پچھتاوا میری طرح انجام ہے سبھی کا دل میں…
Author: محمد حسین خاور
محمد حسین پولیٹیکل سائنس کے طالب علم رہے ہیں۔ انہیں شاعری سے شغف ہے اور خاور تخلص کرتے ہیں۔ انہیں کتب بینی، حالات حاضرہ اور ابلاغ عامہ سے بھی دلچسپی ہے۔