سرائے نمک ۔۔۔ اسحاق محمدی

سرائے نمک!

تحریر: اسحاق محمدی

میں نے 1976ء میں جب یزدان خان ہائی سکول میں داخلہ لیا تو اس وقت سکول کی چار دیواری زیادہ اونچی نہیں تھی، اس لیے حاجی آباد کے طلبہ کڈے غلام کی طرف سے اور مہرآباد کے طلبہ کوچہ ملا رضا کی جانب سے دیوار پھلانگ کر سکول آتے تھے۔ کڈے غلام میں اس وقت کوئی آبادی نہیں تھی۔ اس کے مشرق کی طرف، جہاں کسی زمانے میں ایک ایرانی سکول قائم تھا، ایک بڑا گڑھا موجود تھا۔ بزرگ لوگ بتایا کرتے تھے کہ وہاں پانی نکالنے کا ایک آرڈ لگا ہوتا تھا جسے اردو میں دولاب اور انگریزی میں واٹر وہیل (Water Wheel) کہا جاتا ہے۔ اسی آرڈ کے ذریعے قریبی باغ کو سیراب کیا جاتا تھا۔

اگلے چند برسوں کے دوران وہاں یزدان خان روڈ کی طرف کمرشل عمارتیں اور اندرونی حصے میں رہائشی مکانات بننے لگے۔ ان کمرشل عمارتوں میں سب سے نمایاں نمک پیسنے کا ایک کارخانہ تھا۔

اسی دوران 1978ء میں ثور انقلاب کے مخالفین کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہوا، جنہیں آمر جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے کھلے دل سے قبول کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے پناہ دی۔ افغانستانی ہزارہ افراد کی ہجرت بھی اسی دور میں شروع ہوئی۔ ابتدا میں مہاجرین میں زیادہ تر خوانین اور ملا شامل تھے، جو مہرآباد کے بڑے بڑے گھروں میں رہائش پذیر ہوئے۔ لیکن جب عام ہزارہ مہاجرین کی بڑی تعداد آنے لگی  تو انہوں نے کڈے غلام میں بنی بڑی بڑی چار دیواریوں والے احاطوں کو سرائے میں تبدیل کرکے ان میں رہائش اختیار کر لی۔

سب سے پہلے انہی ہزارہ مہاجرین نے نمک کے کارخانے کی نسبت سے اس علاقے کو “سرائے نمک” کہنا شروع کیا، اور یہی نام آج تک رائج ہے۔

ابتدائی برسوں میں زیادہ تر مرد حضرات آتے، ایک ہفتہ یا چند روز قیام کرتے اور پھر ایران کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔ تاہم 1984ء میں ہزارہ جات میں ایران نواز اسلامی مسلح گروہوں کے درمیان خوفناک جنگ اور برادرکشی نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی، تو مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کی آمد بھی شروع ہو گئی۔ یہ امیر عبدالرحمان کی ہزارہ نسل کشی کی پالیسی کے نتیجے میں ہونے والی پہلی عظیم ہجرت کے بعد دوسری بڑی مہاجرت تھی۔ یہ مہاجرین بھی چند راتیں سرائے نمک کے مسافر خانوں میں گزارنے کے بعد ایران کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔

1980ء کی دہائی کے اواخر میں ایران میں چند سال محنت مزدوری کرنے والے ہزارہ مہاجرین کی اپنے آبائی علاقوں، یعنی ہزارہ جات، واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ یوں سرائے نمک ہزارہ مہاجرین کی آمد و رفت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ مسافر خانوں کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ دیگر کاروبار بھی فروغ پانے لگے، جن میں حجام، درزی، صرافی اور ریسٹورنٹس وغیرہ شامل تھے۔

بلا مبالغہ، سرائے نمک اسی اور نوّے کی دہائیوں میں پورے علاقے کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن چکا تھا۔ اگرچہ یہاں مختلف نوعیت کے کاروبار موجود تھے، لیکن ہزارہ مہاجرین کی مسلسل آمد و رفت کی وجہ سے مسافر خانے سب سے بڑا کاروبار شمار ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ اسی رش اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث بعد میں مین علمدار روڈ اور غلزئی روڈ پر بھی متعدد مسافر خانے قائم ہو گئے تھے۔

بڑی تعداد میں ہزارہ مہاجرین کی آمد و رفت سے پاکستانی ہزارہ آبادی کو کرایوں اور دیگر ذرائع سے کچھ نہ کچھ معاشی فائدہ ضرور پہنچا، لیکن نسبتاً زیادہ فائدہ افغانستانی ہزارہ برادری کو ہوا، کیونکہ ان کاروباروں میں زیادہ تر افغانستانی ہزارہ شامل تھے۔ تاہم سب سے بڑا فائدہ خود مہاجرین کو یہ حاصل ہوا کہ ایک طرف انہیں ایک اجنبی ملک میں نسبتاً محفوظ اور پُرامن ماحول میسر آیا، جبکہ دوسری طرف پاکستانی ہزارہ برادری سے انہیں ایک نئی سماجی اور تعلیمی تحریک ملی۔

وہ دیکھتے تھے کہ ان ہی کی نسل سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہزارہ بچوں اور بچیوں کی بڑی تعداد صبح نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس، خوشی اور اعتماد کے ساتھ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر کی طرف روانہ ہوتی ہے اور دوپہر کو واپس لوٹتی ہے۔ اس زمانے میں ہزارہ جات کے لیے یہ منظر تقریباً ناقابلِ تصور تھا، کیونکہ افغان حکمرانوں کے طویل ادوارِ حکومت کے دوران تعلیم سمیت اکثر سرکاری اداروں کے دروازے عملاً ان پر بند رہے تھے۔

ہزارہ جات میں جو چند مڈل لیول کے بوائز سکول قائم تھے، انہیں بھی ایران نواز ملا حضرات نے “طاغوت کے مراکز” قرار دے کر بند کروادیا تھا۔ اس موضوع پر حالیہ برسوں میں “بانوی مکتب ساز” کے نام سے معروف ڈاکٹر سیما ثمر اور استاد عبدالخالق آزاد نے کافی لکھا اور کہا ہے۔

30 نومبر 2025ء کو اپنی ایک پوسٹ بعنوان “روشنگری” میں استاد عبدالخالق آزاد نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ڈاکٹر سیما ثمر کی شہداء آرگنائزیشن کی مالی معاونت سے ضلع جاغوری میں پہلے دو بوائز سکول قائم کرنے کے لیے انہیں کس طرح جاغوری کے دو بڑے ملا حضرات، شیخ امان فصیحی اور شیخ صمد فیاضی، کو بھاری رشوت دے کر راضی کرنا پڑا تھا۔

جہاں تک گرلز سکولوں کا تعلق ہے، نوّے کی دہائی تک یہ ایران نواز ملا حضرات ان کے قیام پر ہرگز آمادہ نہیں تھے اور اسے موجودہ داعشی طالبان کی طرح کفر قرار دیتے تھے۔ 2001ء میں امریکہ کے ہاتھوں طالبان کی شکست کے بعد ہزارہ عوام کو شدت سے احساس ہوا کہ ان کی نصف آبادی کو تعلیم کے حق سے محروم رکھ کر ان کے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی کی گئی تھی۔ چنانچہ اس محرومی کے ازالے کے لیے خود عوام میدان میں آئے اور ہزارہ جات میں گرلز سکولوں کا جال بچھا دیا، جس کے نتیجے میں ہزارہ اور ہزارہ جات کی تیز رفتار ترقی ممکن ہوئی۔ تاہم داعشی طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد یہ پیش رفت ایک بار پھر رک گئی۔

یہاں اس امر کا ذکر بھی شاید بے جا نہ ہوگا کہ آج تک کسی مؤثر ہزارہ شیخ یا آیت اللہ نے ہزارہ جات میں اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں، مثلاً سکولوں، ہیلتھ سینٹروں، سڑکوں یا بندوں کی تعمیر کے لیے مذہبی ٹیکسوں، جیسے خمس، زکوٰۃ اور فطرات، کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نتیجتاً یہ بھاری رقوم آج بھی ہزارہ عوام کی اجتماعی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے اسی مفت خور طبقے کی جیبوں میں جا رہی ہیں، جو یقیناً افسوسناک اور شرمناک امر ہے۔

فی زمانہ سرائے نمک میں کمرشل پلازوں کے کاروبار کی دھوم ہے۔

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment