پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری (پی ایچ ڈی)
تحریر: اسحاق محمدی
پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری اپنے وقت کے معروف ہزارہ دینی عالم شیخ برات علی کے بڑے صاحبزادے تھے، جو پیشے کے لحاظ سے ایک کامیاب بزنس مین تھے۔ پروفیسر صاحب کے برادر نسبتی انجینئر محمد ابراہیم کے مطابق ان کی پیدائش غالباً 1948ء میں ہوئی تھی۔ انہوں نے میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول سے اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کیا اور سائنس کالج کوئٹہ میں داخلہ لیا۔ ایف ایس سی پری انجینئرنگ بھی فرسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کا رخ کیا۔ حسب معمول خوب محنت کی اور مکینیکل انجینئرنگ امتیازی نمبروں کے ساتھ مکمل کی۔ اسی شاندار کارکردگی کی بدولت انہیں برطانیہ میں پی ایچ ڈی کرنے کی اسکالرشپ ملی۔
پی ایچ ڈی کے بعد چونکہ ڈاکٹر گیاوری کے دل میں اپنے ملک اور خاص طور پر صوبہ بلوچستان کی خدمت کا جذبہ تھا، اس لیے تمام بیرونی آفرز کو ٹھکرا کر انجینئرنگ کالج خضدار میں وائس پرنسپل کے طور پر نوکری جوائن کرلی۔ اُس وقت ایک سفارشی ریٹائرڈ کرنل مرزا انوار الحق پرنسپل کی کرسی پر براجمان تھے، جنہیں سوائے تنخواہ اور مراعات کے کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ کرنل صاحب کی بار بار غیر قانونی ایکسٹینشن سے تنگ آکر ڈاکٹر گیاوری نے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان میں اپیل دائر کی کہ ایک غیر متعلقہ اور انجینئرنگ کی الف ب سے لاعلم شخص کی تعیناتی نہ صرف اس درسگاہ کی عزت و مقام کے خلاف ہے بلکہ اسٹاف اور طلبہ کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔
وفاقی حکومت کا موقف یہ تھا کہ “پرنسپل شپ” ایک انتظامی عہدہ ہے، لہٰذا اس کے لیے کسی بڑی ڈگری یعنی پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں۔ ریٹائرڈ کرنل کی سفارش مضبوط تھی، اس لیے کیس سالوں تک چلتا رہا اور کرنل صاحب بار بار ایکسٹینشن لیتے رہے۔ بالآخر جب کرنل صاحب کی صحت جواب دے گئی تو وفاقی حکومت کے پاس پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری کو پرنسپل مقرر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔
پرنسپل مقرر ہوتے ہی ڈاکٹر گیاوری نے ایک طرف درس و تدریس میں بہتری اور انتظامی امور کو درست کرنے پر توجہ دی، جبکہ دوسری طرف کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ اس ضمن میں پہلا قدم مزید زمین حاصل کرنا تھا، جس کے لیے انہوں نے صوبائی حکومت اور بورڈ آف ریونیو سے رجوع کیا۔ لمبی جدوجہد کے بعد مطلوبہ زمین حاصل کرلی گئی۔ اس دوران وہ تعلیمی معیار میں بھی نمایاں بہتری لاچکے تھے۔ ڈاکٹر گیاوری کی شبانہ روز کوششوں سے 1994ء میں انجینئرنگ کالج خضدار کو یونیورسٹی کا درجہ مل گیا۔
تاہم صوبائی حکومت نے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر اور تجربہ کار پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری کی بجائے ایک غیر پیشہ ور شخص، آغا قادر بلوچ کو وائس چانسلر بنانے کی سفارش کردی، جو گیس کمپنی میں ملازم تھے۔ جب صوبائی اسمبلی میں سوال اٹھا تو اُس وقت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کا وہی موقف پیش کیا کہ “وائس چانسلرشپ” ایک انتظامی عہدہ ہے، جس کے لیے کسی بڑی ڈگری کی ضرورت نہیں۔
ڈاکٹر گیاوری نے ایک بار پھر اس کھلی ناانصافی کے خلاف اپیل کی، لیکن اس بار صوبائی حکومت اس فیصلے کے پیچھے تھی۔ نتیجتاً ان پر کرپشن سمیت کئی جعلی مقدمات بنا دیے گئے۔ مجبوراً ڈاکٹر گیاوری کو اسلام آباد میں پناہ لینا پڑی۔ بعد ازآں وہ اسپیشل ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ بن گئے، لیکن ان بے بنیاد مقدمات کی وجہ سے وہ اپنے صوبہ بلوچستان تو کیا، اپنے گھر بھی نہیں جاسکتے تھے۔
مئی 1997ء میں پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری اسلام آباد میں ایک تعلیمی سیمینار سے خطاب کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ ہزارہ قوم اور بلوچستان ایک توانا عالم، شفیق استاد اور بہترین منتظم سے محروم ہوگئے۔ انجینئر احمد علی نوربن کے مطابق ڈاکٹر گیاوری کی موت کی اصل وجہ صوبائی حکومت کے وہ بے بنیاد مقدمات تھے، جن کی وجہ سے ان کی پاک دامنی پر سوال اٹھے اور وہ اپنے پیاروں سے ملنے اور گھر جانے تک سے محروم رہے۔
میری ان سے صرف ایک بار ملاقات ہوئی تھی۔ دراصل ان کے دیرینہ دوست انجینئر احمد علی نوربن چاہتے تھے کہ اس ضمن میں ڈاکٹر گیاوری کی مدد کی جائے۔ بڑی کوششوں سے نوابزادہ چنگیز مری سے ملاقات کا وقت ملا، لیکن مقررہ وقت پر ہم پہنچے تو بتایا گیا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ بعد میں کئی کوششوں کے باوجود ملاقات نہ ہوسکی۔ واپسی پر ہم ڈاکٹر گیاوری کے گھر گئے۔ کافی دیر تک باتیں ہوئیں۔ تعلیم کے معاملے میں وہ بڑے دل گرفتہ تھے۔ انہیں اس بات کا شدید ملال تھا کہ بلوچستان کے حکمران ڈگری، اہلیت اور میرٹ کے بجائے “ذات، نسل اور گروہی تعلق” دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، جس سے تعلیم جیسا بنیادی شعبہ بری طرح زبوں حالی کا شکار ہے۔
روحش شاد
نوٹ: زیادہ معلومات مرحوم ڈاکٹر گیاوری کے برادر نسبتی انجینئر محمد ابراہیم (حاجی ابراہیم)، محمد علی ہزارہ اور انجینئر ذاکر حسین سے حاصل ہوئیں، ان کا بے حد شکریہ۔
- ہزارہ ہیروز ۔۔۔ اسحاق محمدی - Aug 27, 2026
- سردار خیرمحمد ہزارہ ۔۔۔اسحاق محمدی - Aug 20, 2026
- مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں ہزارہ جینوسائیڈ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Aug 14, 2026
