ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (نویں قسط)
“خواتین کی مزاحمت اور داستان چہل دختران”
تحریر: جاوید نادری
یہ ایک ایسی داستان ہے جو کاغذ پر سیاہی سے نہیں بلکہ ہزارہ جات کے سنگلاخ پہاڑوں پر خون سے لکھی گئی ہے۔ اس تحریر میں ان خواتین کی عظمت اور ‘چہل دختران’ کی اس لازوال قربانی کو سمیٹا گیا ہے جو تاریخ کے سینے پر ایک گہرا زخم بھی ہے مگر فخر اور وقار کا نشان بھی۔ تاریخ کے صفحات جب 1890ء کی دہائی کے باب پر کھلتے ہیں، تو وہاں سے عفت، عصمت اور تلواروں کی جھنکار ایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔ ارزگان، جو کبھی ہزارہ جات کا “قلب” اور خود مختاری کا استعارہ تھا، ایک ایسی قیامت کا گواہ بنا جس نے انسانیت کا کلیجہ چیر کر رکھ دیا۔ یہ داستان مردوں کی شجاعت کی نہیں، بلکہ ان ماؤں اور بیٹیوں کی ہے جنہوں نے ثابت کیا کہ عزت اور آزادی کی قیمت جان سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک ماں نے اپنے شہید بیٹے کی بندوق اٹھائی اور اس وقت تک لڑتی رہی جب تک اس کے ہاتھوں میں جان باقی رہی۔ اس کے اردگرد لاشیں تھیں، دھواں تھا، خون تھا، مگر اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔ شاید اس لیے کہ بعض عورتیں صرف اپنے بچوں کو جنم نہیں دیتیں، بلکہ پوری قوم کے حوصلے کو جنم دیتی ہیں۔
جب امیر عبدالرحمن کے لشکروں نے، جنہیں مذہبی جنون اور مالِ غنیمت کے لالچ سے لیس کیا گیا تھا، ارزگان کی وادیوں کو گھیرا، تو منظر بدل گیا۔ مرد محاذوں پر کٹ رہے تھے اور پیچھے گھروں میں بھوک، پیاس اور خوف کا راج تھا۔ لیکن یہ خوف بزدلی کا نہیں، بلکہ بے حرمتی کا تھا۔
سراج التواریخ میں فیض محمد کاتب اس ہولناکی کی منظر کشی یوں کرتے ہیں:
“ارزگان کی فضاؤں میں ماتم تھا، لیکن یہ ماتم اپنوں کے کھونے کا کم اور دشمن کے ناپاک قدموں کی چاپ کا زیادہ تھا۔ ہزارہ خواتین نے دیکھ لیا تھا کہ اب جنگ صرف زمین کی نہیں، بلکہ ان کی آبرو اور وقار کی ہے۔”
انہی دنوں ارزگان کے ایک بلند مقام پر چالیس لڑکیاں جمع تھیں۔ ان میں بعض ابھی جوانی کی دہلیز پر تھیں، بعض نے شاید ابھی زندگی کے خواب دیکھنا شروع کیے تھے۔ کسی نے شاید کبھی اپنے ہاتھوں پر مہندی سجانے کا خواب دیکھا ہوگا، کسی نے اپنے بچوں کے نام سوچے ہوں گے۔ مگر اس رات ان سب خوابوں کے درمیان صرف ایک سوال کھڑا تھا:
عزت کے ساتھ مرنا، یا ذلت کے ساتھ زندہ رہنا۔
نیچے دشمن کے سپاہی بڑھ رہے تھے۔ فتح کے نعرے قریب آتے جا رہے تھے۔ پہاڑی ہوا سرد تھی، لیکن ان لڑکیوں کی پیشانیوں پر خوف کا پسینہ نہیں تھا۔ ان کے درمیان ایک عجیب سکوت تھا۔ ایسا سکوت جو صرف ان لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اپنی تقدیر کا آخری فیصلہ خود کر لیتے ہیں۔
کہتے ہیں ان میں سے ایک لڑکی نے آخری لمحے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:
“ہمیں شاید کوئی یاد نہ رکھے… مگر ہم اپنے دشمن کو یہ یاد ضرور دے جائیں گے کہ ہزارہ بیٹیاں بکتی نہیں ہیں۔”
پھر وہ آگے بڑھی۔
اور اس کے بعد ایک ایک کر کے باقی لڑکیاں بھی وادی کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئیں۔
وہ گریں نہیں تھیں۔
وہ تاریخ کے سب سے بلند مقام پر جا بیٹھی تھیں۔
اس رات شاید ارزگان کے پہاڑ بھی کانپ اٹھے ہوں گے۔ ہوا بھی کچھ دیر کے لیے رک گئی ہوگی۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کا حوصلہ فطرت کو بھی خاموش کر دیتا ہے۔
برطانوی انٹیلیجنس کی ایک خفیہ رپورٹ (1892ء) اس جرات کا اعتراف ان الفاظ میں کرتی ہے:
“ہزارہ عورتیں دشمن کے ہاتھ لگنے پر باندی بننے کے بجائے بلند چوٹیوں کی طرف بھاگیں اور وہاں سے اجتماعی طور پر گہری کھائیوں میں چھلانگ لگا دی۔ ان کے نزدیک موت، ان منڈیوں میں بکنے سے ہزار گنا بہتر تھی جہاں عورت کی قیمت ایک جانور سے بھی کم لگا دی گئی تھی۔”
وہ چالیس بیٹیاں جب ایک ایک کر کے فضا میں بلند ہوئیں اور پھر گہری وادیوں کی نذر ہو گئیں، تو شاید ارزگان کے پہاڑ بھی لرز اٹھے ہوں گے۔
ہزارہ خواتین کی مزاحمت صرف ‘چہل دختران’ تک محدود نہ ہیں۔ وہ مورچوں میں بارود فراہم کرتی تھیں، زخمیوں کو کندھا دیتی تھیں اور جب بندوقیں خاموش ہو جاتیں، تو پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھاری پتھر دشمن کے لشکر پر گراتی تھیں۔
ان عورتوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف رسد کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس مزاحمت کی اصل روح ہیں۔”
1893ء میں جب ارزگان کا سقوط ہوا، تو وہ جاہ و جلال مٹی میں مل چکا تھا۔ ہزارہ سردار، سنگر نشین اور ان کے ساتھی زنجیروں میں جکڑے کابل لے جائے جا رہے تھے۔ ان کے پیچھے اجڑے ہوئے قافلے تھے، جن میں وہ خواتین بھی تھیں جنہوں نے سب کچھ کھو دیا تھا، مگر اپنی وہ چمک نہیں کھوئی تھی۔ ان قافلوں میں بوڑھی مائیں تھیں جو بار بار مڑ کر اپنے جلتے ہوئے گھروں کو دیکھتی تھیں۔ بچے تھے جو پوچھتے تھے: “ہم واپس کب آئیں گے؟”
مگر کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔
ایک بوڑھی عورت نے روانگی سے پہلے اپنے گھر کی دہلیز کو چوما، پھر مٹھی بھر مٹی اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔ شاید انسان آخری وقت میں اپنے وطن کی خوشبو ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔
برطانوی ریکارڈز م میں اس کا ذکر کچھ یوں ملتا ہے
“ان عورتوں کی آنکھوں میں شکست کا ملال نہیں، بلکہ ایک ایسا سکوت ہے جو فاتحین کو اپنی فتح پر شرمندہ کر دے۔ وہ ٹوٹے ہوئے قافلے جب کوئٹہ اور مشہد کی طرف ہجرت کر رہے تھے، تو ہر قدم پر اپنی مٹی کی خوشبو چھوڑ رہے تھے۔”
آج جب ہم ‘چہل دختران’ کا نام سنتے ہیں، تو دل کی دھڑکن رک سی جاتی ہے۔ وہ چالیس لڑکیاں صرف چالیس دوشیزائیں نہیں تھیں، وہ ایک قوم کی انا، عفت اور مزاحمت کا نچوڑ تھیں۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ جب جینے کی ہر راہ بند ہو جائے، تو وقار کے ساتھ مرنا بھی ایک فتح ہے۔ ارزگان کی مٹی میں آج بھی ان بیٹیوں کی خوشبو رچی بسی ہے۔ وہ پہاڑ، وہ وادیاں اور وہ کجران کے معرکے آج بھی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ:
“ہزارہ قوم نے زمینیں تو کھو دیں، لیکن اپنی تاریخ اور اپنی بیٹیوں کی غیرت کا سودا کبھی نہیں کیا۔”
جو آنکھ اس داستان کو پڑھ کر اشکبار نہیں ہوتی، اسے شاید یہ احساس ہی نہیں کہ آزادی اور عفت کی قیمت کتنی بھاری ہوتی ہے۔ ‘چہل دختران’ آج بھی زندہ ہیں، ارزگان کی ہر چوٹی پر، اور ہر اس دل میں جو ظلم کے خلاف دھڑکتا ہے۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ طاقت صرف تلوار، لشکر یا سلطنت کا نام ہے، انہیں ارزگان کی ان چالیس لڑکیوں کی داستان ضرور پڑھنی چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات تاریخ کی سب سے بڑی طاقت ایک نہتی لڑکی کا آخری فیصلہ ہوتا ہے۔
ببلو گرافی (فہرستِ مآخذ)
1. بنیادی تاریخی مآخذ (Primary Sources)
کاتب، فیض محمد۔ “سراج التواریخ” (جلد سوم): یہ کتاب اس دور کی سب سے مستند اور تفصیلی دستاویز ہے۔ فیض محمد کاتب نے امیر عبدالرحمن کے دور میں رہتے ہوئے بھی ہزارہ جات پر ہونے والے مظالم، قیدیوں کی تعداد اور خواتین کی جبری فروخت کے حقائق کو قلمبند کیا۔
امیر عبدالرحمن خان۔ “تاج التواریخ” (آپ بیتی): اگرچہ یہ امیر کا اپنا نقطہ نظر ہے، لیکن یہ ہزارہ جات کی جنگ کے اسباب، فتووں کے اجرا اور عسکری مہم جوئی کی سرکاری تصدیق کرتی ہے۔
2. بین الاقوامی اور برطانوی ریکارڈز (International & British Records)
British Parliamentary Papers (Central Asia Series): 1891ء سے 1894ء کے درمیان وائسرائے ہند کو بھیجی جانے والی ہفتہ وار خفیہ رپورٹیں اور ‘قندھار نیوز لیٹرز’ (Kandahar Newsletters)۔ ان میں ہزارہ خواتین کی مزاحمت اور ‘چہل دختران’ جیسے واقعات کے عسکری اثرات کا ذکر ملتا ہے۔
Foreign Department Secret-F Proceedings (National Archives of India): برطانوی انٹیلیجنس کی وہ فائلیں جن میں ارزگان کے سقوط اور اس کے بعد ہونے والی ہجرت کے اعداد و شمار درج ہیں۔
3. جدید تحقیقی کتابیں (Modern Academic Works)
موسوی، سید عسکر۔ “The Hazaras of Afghanistan”: اس کتاب میں ہزارہ قوم کی سیاسی اور سماجی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے اور 1890ء کی دہائی کے مظالم کو ایک “قومی نسل کشی” (Genocide) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
تیمور خانوف۔ “تاریخ ملی ہزارہ” (Russian to Urdu/Persian Translation): روسی مورخ کی یہ کتاب وسطی ایشیائی مآخذ کی روشنی میں ارزگان کی مزاحمت اور سرداروں کے کردار پر مفصل روشنی ڈالتی ہے۔
پولادی، حسن۔ “The Hazaras”: ہزارہ تاریخ کی ایک اہم کڑی، جس میں چہل دختران کی داستان اور اس کے ثقافتی اثرات کا تذکرہ موجود ہے۔
4. بشریاتی اور زبانی تاریخ (Anthropological & Oral History)
Dupree, Louis. “Afghanistan”: افغانستان کی تاریخ اور بشریات پر مستند کام، جس میں قبائلی ساخت اور امیر عبدالرحمن کی مرکزی ریاست بنانے کی کوششوں کے اثرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
مقامی روایات و اشعار: کوئٹہ اور مشہد میں مقیم ارزگان کے مہاجرین کے خاندانوں میں نسل در نسل منتقل ہونے والی ‘زبانی تاریخ’ اور ‘مرثیے’ جو چہل دختران کی یاد میں لکھے گئے۔
حوالہ جاتی نوٹ (Citation Note):
مضمون میں شامل برطانوی انٹیلیجنس کے اقتباسات عموماً “Baluchistan Agency Records” اور “Kabul Intelligence Diaries” سے ماخوذ ہیں، جو انڈیا آفس ریکارڈز (London) میں محفوظ ہیں۔ ان میں ہزارہ خواتین کے لیے “Amazons of the Highlands” (کوہستان کی جنگجو خواتین) جیسے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔