
عشق پیچاں
تحریر: جاوید نادری
دونوں نے جیسے ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھا، یوں محسوس ہوا جیسے صدیاں گزرنے کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں۔
دونوں اچانک ایک دوسرے کی بانہوں میں سما گئے۔ ایک دوسرے کے ہونٹوں کو بوسہ دیا، پھر آہستہ آہستہ گالوں اور گردن پر بوسہ دیتے رہے۔ چند لمحوں تک وہ اسی طرح ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ دونوں کی عمریں اب چالیس کی حد پار کر چکی تھیں، مگر اس لمحے انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دوبارہ اپنی جوانی میں لوٹ گئے ہوں۔
پھر عباس نے مرضیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
“کیا تمہیں پتا ہے کہ میں تم سے۔۔۔”
مرضیہ نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کہا:
“ہاں، جانتی ہوں۔”
عباس نے حیرت سے پوچھا:
“پھر؟”
مرضیہ نے دھیمی آواز میں کہا:
“میں کیا کرتی؟ میں خوبصورت نہیں ہوں۔۔۔ اس لیے ڈر لگتا تھا کہ تم کہیں مجھے رد نہ کر دو۔”
عباس نے فوراً کہا:
“ارے! کس بدبخت نے کہا ہے کہ عشق کے لیے خوبصورتی کی ضرورت ہوتی ہے؟ خوبصورتی تو شاید لڑکپن کی محبت یا نوجوانی کے پیار کے لیے ضروری ہو، لیکن ہم نے تو عشق کیا تھا نا!”
یہ کہتے ہی دونوں دوبارہ ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
کچھ دیر تک وہ ایک دوسرے کی قربت میں ایسی کیفیت سے گزرے جس میں دنیا کی کوئی خبر نہ تھی۔ وقت جیسے اپنی رفتار بھول گیا تھا۔ جانے کتنا عرصہ بیت گیا۔ وہ لمحوں سے آگے نکل چکے تھے۔
لیکن پھر اچانک جیسے کسی نامعلوم، غیر مرئی قوت نے انہیں ایک دوسرے سے پرے دھکیل دیا۔
دونوں نے اس قوت کو شدت سے محسوس کیا۔
وہ ایک ہی بیڈ کے کنارے، ذرا سے فاصلے پر بیٹھے ایک دوسرے کی آنکھوں میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔
مرضیہ نے دھیمی آواز میں کہا:
“یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔”
عباس نے سر اٹھا کر کہا:
“مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ لیکن کیا کریں؟ عشق میں کسی کا بس نہیں چلتا۔ عشق میں ارادہ کام نہیں آتا، اور مرادیں پوری نہیں ہوتیں۔۔۔ بس جو ہونا ہوتا ہے، ہو جاتا ہے۔”
عباس دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ اسے ان آنکھوں میں ایک ایسا نیلگوں فلک دکھائی دے رہا تھا جس کے پرے جاودانگی کے سوا کچھ نہ تھا۔
مرضیہ نے نظریں جھکا لیں اور پوچھا:
“کیا ہم کبھی ہمیشہ کے لیے۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ہو سکیں گے؟”
عباس نے کہا:
“کیوں نہیں؟ یہ دنیا ربط، تعلق اور تعاملات کے ملاپ کا نام ہے۔ یہی قدرت کا اصول ہے۔ ہم ایک نہ ایک دن ضرور، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ہو جائیں گے۔”
مرضیہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر بولی:
“لیکن کیا ہم اگر جوانی میں ہی ایک دوسرے کے ہو جاتے تو آج ہمارا عشق اس قدر شدت اختیار کر چکا ہوتا؟ میرا مطلب ہے، اگر ہمارا ملاپ۔۔۔”
وہ اچانک خاموش ہو گئی۔
دونوں نے دوبارہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنا شروع کر دیا۔
یوں لگ رہا تھا جیسے فاصلے مٹ گئے ہوں اور وقت کا وجود ہمیشہ کے لیے نابود ہو گیا ہو۔
وہ دونوں نوجوانی ہی سے جانتے تھے کہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ یہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ہونے والا عشق تھا۔ ہمارے معاشرے میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ دونوں اس محبت سے واقف تھے، لیکن نہ جانے کیا بات تھی، کون سی رکاوٹ تھی جو عبور نہ ہو سکی۔ دونوں کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکے اور نہ ہی اپنے دل کی بات کہہ سکے۔
اب، جب سالوں بعد ایک دوست کے وسیلے سے دونوں کی ملاقات ہوئی تو دبی ہوئی محبت نے پھر کروٹ لی۔ اور پھر دونوں ایک دوسرے سے یوں لپٹے کہ دنیا کی ساری حدیں اور سماجی قیود چند لمحوں کے لیے پیچھے رہ گئیں۔
کمرے کے بیچ کچھ دیر خاموشی ناچتی، گنگناتی اور دونوں کو اپنی آغوش میں لیے ٹٹولتی رہی۔ پھر جیسے انہیں اسی کیفیت میں چھوڑ کر خود وہاں سے نکل گئی، کیونکہ انہیں دنیا و ماورا کی کوئی خبر نہ تھی۔
وہ بس ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ اور دیکھتے جا رہے تھے۔
آخر مرضیہ نے خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا:
“تم تو لڑکے تھے، تم نے پہل کیوں نہیں کی؟”
عباس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“تمہیں پتا نہیں تھا کہ میں شرمیلا سا لڑکا تھا؟ تمہیں تو معلوم ہونا چاہیے تھا۔”
مرضیہ نے کہا:
“اور میں بھی کیا کرتی؟ میں بھی تو لڑکی تھی۔ اور لڑکی ایک حد تک ہی آگے بڑھ سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ اس کی اجازت تب بھی نہیں دیتا تھا، اب بھی نہیں دیتا۔ لیکن میں اپنی آنکھوں سے ہمیشہ اپنی محبت کا اظہار کرتی رہی۔”
عباس نے ایک گہری سانس لی اور مرضیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“خیر، جانے بھی دو۔ اب ان باتوں میں کیا رکھا ہے؟”
مرضیہ نے دھیرے سے کہا:
“واقعی، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ باتوں میں کچھ بھی نہیں رکھا ہوتا۔ بس ایک فضا ایسی قائم ہو جاتی ہے جس میں سب کچھ ہو جاتا ہے۔ آج جو ہوا، ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی ملاقات تھی۔”
اب مرضیہ نے عباس کی آنکھوں میں دیکھنے کے بجائے فرش پر نظریں جما دیں۔
اس نے پوچھا:
“اب ہم کیا کریں گے؟”
عباس کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
“ہم اپنے اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔ تمہاری بھی ایک الگ دنیا ہے، میری بھی ایک الگ دنیا ہے۔ اگر ہم اپنی دنیاؤں کو ملا دیں تو ہماری ساتھ ساتھ چلتی ہوئی دنیائیں آپس میں ٹکرا جائیں گی۔”
وہ کچھ دیر رکا، پھر دھیمی آواز میں بولا:
“دل تو بہت کرتا ہے کہ ہمیشہ کے لیے تمہارا بن کر رہوں، مگر اب۔۔۔”
وہ کہتے کہتے اچانک خاموش ہو گیا۔
اس نے دوبارہ مرضیہ کی طرف دیکھا۔
وہ ایک معمولی سی صورت والی عورت تھی۔ اس کی بیوی اس سے کہیں زیادہ خوبصورت تھی، مگر نہ جانے مرضیہ میں ایسی کیا کشش تھی جو اسے آج تک اپنی بیوی میں نظر نہیں آئی تھی۔
شاید محبت ہمیشہ اس شخص سے نہیں ہوتی جسے دنیا خوبصورت کہتی ہے۔ کبھی کبھی انسان کسی ایک شخص کے چہرے میں وہ حسن دیکھ لیتا ہے جو پوری دنیا کو دکھائی نہیں دیتا۔ پھر وہ حسن چہرے کا نہیں رہتا؛ وہ یاد کا، تعلق کا اور برسوں سے دل میں محفوظ کسی نامعلوم احساس کا حسن بن جاتا ہے۔
وہ دونوں دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آنے کی طرف مائل ہی ہوئے تھے کہ اچانک پھر وہی نامعلوم، غیر مرئی قوت آڑے آ گئی اور جیسے دونوں کو ایک دوسرے سے پرے دھکیل دیا۔
وہ دونوں بے بس سے دکھائی دے رہے تھے۔
کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر عباس نے آگے بڑھ کر مرضیہ کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہا:
“ہمارا عشق امر ہے۔۔۔ اور امر ہی رہے گا۔”
تب تک مرضیہ اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
اس نے آخری بار عباس کی طرف انہی نظروں سے دیکھا، جن نظروں سے وہ نوجوانی میں اسے دیکھا کرتی تھی۔
ان نظروں میں نہ کوئی شکوہ تھا، نہ کوئی سوال۔ بس ایک پوری زندگی تھی جو کبھی کہی نہیں گئی تھی۔
پھر اس نے دروازہ کھولا۔
دروازے کے پاس عشق پیچاں کا گملا رکھا تھا۔ مرضیہ نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا۔ بیل دیوار کے سہارے اوپر چڑھ رہی تھی، جیسے کسی خاموش جستجو میں ہو؛ جیسے اسے معلوم ہی نہ ہو کہ جس دیوار سے لپٹ کر وہ زندہ ہے، شاید وہی اس کی راہ کی آخری حد بھی ہے۔
مرضیہ نے بیل کو دیکھا اور نہ جانے کیوں اسے اپنا عشق یاد آ گیا۔
ایک ایسا عشق جو برسوں پہلے ایک ننھی سی بیل کی طرح دل میں پھوٹا تھا، خاموشی سے بڑھتا رہا، دیواروں سے لپٹتا رہا، موسم بدلتے رہے، لوگ بدلتے رہے، مگر وہ بیل اندر کہیں زندہ رہی۔
پھر وہ دھیرے سے دروازے سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہو گیا۔
کمرے میں عباس، خاموشی، عشق پیچاں اور ایک ایسا عشق باقی رہ گیا جو شاید کبھی مکمل نہ ہو سکا۔۔۔ مگر ختم بھی نہیں ہوا۔
عباس کچھ دیر تک بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
پھر اس کی نظر عشق پیچاں کی بیل پر جا ٹھہری۔
اسے اچانک محسوس ہوا کہ شاید محبت کا المیہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ منزل نہیں مانگتی۔ بعض اوقات اسے صرف زندہ رہنے کے لیے ایک یاد، ایک نظر، ایک لمس اور ایک نامکمل ملاقات ہی کافی ہوتی ہے۔
اور شاید کچھ محبتیں پوری ہونے کے لیے نہیں ہوتیں؛ وہ انسان کے اندر اپنی نامکمل حالت میں ہی ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
- عشق پیچاں (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 31, 2026
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 16, 2026
- ایک دوست کی ناگہانی موت ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 12, 2026