شرط کا مرغا
تحریر: نسیم جاوید
کوئٹہ کی سرد، سرمئی صبح ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئی تھی کہ رحمت خان کے خستہ حال کوٹھے کے صحن میں مرغوں کی اذانیں گونجنے لگیں۔ اس کے والد فضل دین نےقندھار سے آ کر شہر کے مضافات میں یہی کچا مکان بنایا تھا۔ رحمت خان کے دن کا آغاز ہمیشہ مرغوں کی اذان سے ہوتا تھا۔ صحن میں ایک عجیب سی بو پھیلی رہتی تھی ۔ مرغوں کی بیٹ، گیلے دانے کی بساند، کونے میں پڑے ہوئے پنجرے اور چند ایک بکریاں۔ اس کی بیمار بیوی اکثر کھانستی رہتی تھی؛ اسے سینے کی جکڑن کی تکلیف تھی۔ ایک کمرے میں رحمت خان کے آٹھ بچے ایک دوسرے سے چمٹے، سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے سو رہے تھے — چھ بیٹے اور دو بیٹیاں۔ جن کے کپڑے بوسیدہ اور چہروں پر بھوک و پسماندگی کی وہ لکیریں واضح تھیں جو رحمت کی قسمت اور معاشی بدحالی کا پتہ دے رہی تھیں۔
رحمت کا اصل ٹھکانہ یہ گھر نہیں بلکہ قصبے کے بڑے “خان” کا عالی شان ڈیرہ تھا۔ وہاں کے اصیل مرغے اور چکور، خان کی آنکھ کے تارے تھے۔ رحمت کو مہینے میں آٹھ سو روپے ملتے تھے، جس سے گھر کا خرچ مشکل سے پورا ہوتا تھا۔ شام کو وہ گھر آتا اور اپنے مرغوں اور بکریوں کی دیکھ بھال کرتا۔ جب وہ خان کے ڈیرے میں ان کے دڑبوں کا رخ کرتا، تو اسے یوں لگتا جیسے وہ کسی شاہی محل میں آ گیا ہو۔ مرغوں کی گردنوں پر جب قوسِ قزح کے رنگ بکھرتے تھے تو اس کے دل میں مسرت اور شادمانی کی ایسی لہر اٹھتی تھی جیسے قدرت نے تمام حسن کو مرغا بنانے اور اس پر رنگ بھکیرنے میں ختم کر دیا ہو۔ وہ مرغوں کی چمکدار خوبصورتی، جاہ و جلال اور فخر و غرور کے ساتھ چلنے کے انداز پر فدا تھا۔ اس کی جیب میں میگزینوں اور اخبارات سے کاٹی گئی مرغوں کی تصویریں تھیں۔ جب کوئی نہیں ہوتا تو وہ نسوار ڈال کر چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے مرغوں کو دیکھتا اور ان سے باتیں کرتا۔
“صبح سویرے خان حقہ لے کر ڈیرے پر آتا اور کرسی پر بیٹھ کر رحمت کو کام کرتے دیکھتا، حقے کا کش لگاتے ہوئے حکم دیتا: ‘رحمت! ذرا پستہ بادام کا ملیدہ باریک پیسنا، اگلے ہفتے جمعہ کی نماز کے بعد قندھار کے چیمپیئن مرغے سے شرط لگی ہے۔ اس بار ہار گئے تو ناک کٹ جائے گی۔'”
رحمت نے سر جھکایا اور خاموشی سے پستہ بادام کو ہاون دستے میں پیسنے لگا۔ وہ گھنٹوں بیٹھ کر ان پرندوں کی ٹانگوں پر چربی کی مالش کرتا، ان کے ناخنوں کو ریتی سے تیز کرتا۔ اور جب معرکے کا دن آتا، تو ان کے پنجوں پر لوہے کی وہ باریک، زہریلی چھریاں (خار) باندھتا جو ایک ہی وار میں مخالف پرندے کی انتڑیاں باہر نکال دیتی تھیں۔ چھریاں باندھتے ہوئے رحمت کے ہاتھ کبھی نہ کانپتے۔ وہ پرندے کی تڑپتی ہوئی آنکھوں کو دیکھتا اور سوچتا، “پرندے کی بساط ہی کیا ہے، شرط تو انسان کی غیرت پر لگتی ہے۔”
اسی رات جب وہ گھر لوٹا، تو اس کا بارہ سالہ بیٹا جمال بھوک سے رو رہا تھا اور تپائی پر سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ تھا۔ تب رحمت نے ایک فیصلہ کیا۔ اگلے دن وہ جمال کا ہاتھ پکڑ کر شہر کے آخری کونے پر بنے ایک بڑے، اونچی دیواروں والے مدرسے لے گیا۔ “حضرت صاحب! یہ میرا بیٹا جمال ہے۔” رحمت نے مدرسے کے ناظم کے سامنے ہاتھ جوڑے۔ “میں غریب آدمی ہوں۔ اس کو یہاں داخل کرنے آیا ہوں، کچھ دین کا علم بھی سیکھے گا اور آخرت میں ہمارا بھی بھلا ہوگا۔” ناظم نے عینک کے اوپر سے جمال کے معصوم اور کچے چہرے کو دیکھا اور ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “چھوڑ جاؤ رحمت خان! خدا کے گھر میں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔”
وہ ایک لمحے کے لیے گھبرا سا گیا اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔ جب وہ گھر کی طرف جا رہا تھا تو اس کے چہرے پر اطمینان تھا ۔ “چلو ایک بچے کے پیٹ اور کپڑے کا بندوبست ہو گیا۔” وہ اپنے آپ سے کہہ رہا تھا۔ حالانکہ اس کی بیوی کئی دنوں سے کہہ رہی تھی کہ جمال کو کسی درزی، موچی یا مستری کی شاگردی میں لے جاؤ تاکہ یہ کچھ کام دھندا سیکھ کر کمانے کے قابل ہو جائے۔ لیکن اس نے بیوی کی بات کو بیکار جان کر جمال کو مدرسے میں داخل کرایا، جہاں تین وقت کھانا اور سال میں دو جوڑے کپڑے بھی ملتے ہیں۔ اس نے مخیر لوگوں کا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا۔
سال گزرتے گئے۔ جمال اب اکیس سال کا نوجوان لڑکا تھا، جس کی داڑھی اور مونچھیں نکل آئی تھیں۔ شہر میں خارجی اور داخلی جاسوسوں کی تعداد بڑھنے لگی اور کچھ بارود کی بو بھی پھیل گئی۔ افغانستان میں روسی فوج داخل ہو چکی تھی اور اس کے جواب میں امریکی ڈالروں کے زور پر ایک “مقدس جہاد” کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ مدرسے کا پرسکون ماحول اب ایک چھاؤنی میں بدل چکا تھا، جس میں وردی پوش افراد کا بھی آنا جانا شروع ہو گیا تھا، جہاں معصوم بچوں کو دنیا سے کاٹ کر صرف ایک ہی سبق یاد کرایا جاتا: “تمہاری جان تمہاری نہیں، خدا کی امانت ہے، اور کافروں کو مٹانا تمہارا فرض ہے۔”
اسی دوران، کراچی سے کوئٹہ کے راستے قندھار جانے والی تجارتی شاہراہ پر کروڑوں روپے کے مال کی ترسیل ہو رہی تھی۔ حاجی شمس اللہ صاحب، جو علاقے کے سب سے بڑے اور ایماندار تاجر تھے، اپنے کاروبار کو قندھار تک پھیلائے ہوئے تھے۔ لیکن ان کا ایک قریبی بزنس پارٹنر، جس کے دل پر حسد کی پٹی بندھی تھی، حاجی صاحب کو راستے سے ہٹا کر پورے کاروبار پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ ایک رات چپکے سے مدرسے کے ناظم کے پاس پہنچا اور بیس لاکھ روپے کی گڈیاں میز پر رکھ دیں۔ “حاجی شمس اللہ کو جانتے ہو؟ یہ اس کی تصویر ہے۔ اس کا وجود میرے راستے کی دیوار ہے۔” پارٹنر نے غراتے ہوئے کہا۔ “مجھے ایک ایسا مرغا چاہیے جو خود بھی اڑ جائے اور حاجی کو بھی مٹی کا ڈھیر بنا دے۔”
ناظم نے نوٹوں کی چمک دیکھی، اس کی رال ٹپک پڑی۔ اس کے ذہن کے پردے پر فوراً رحمت خان کا مفلوک الحال چہرہ ابھرا۔ اگلے دن ناظم نے رحمت کو اپنے نجی، ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بلایا۔ “رحمت خان، بیٹھو،” ناظم نے چائے کا کپ آگے بڑھاتے ہوئے دھیمی، لومڑی جیسی آواز میں کہا۔ “تم تو مرغے لڑانے کے ماہر ہو۔ مجھے یہ بتاؤ، اگر کسی مرغے پر پانچ لاکھ روپے کی شرط لگی ہو، تو تم اسے میدان میں اتارو گے؟” رحمت کی آنکھیں پانچ لاکھ کا نام سن کر پھٹ گئیں۔ “پانچ لاکھ؟ حضرت صاحب! پانچ لاکھ تو میرے سات پشتوں نے بھی نہیں دیکھے۔ میں تو ایسے مرغے کو موت کے منہ میں بھی اتار دوں۔” ناظم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کی، “تو سمجھو تمہارا ایک مرغا تیار ہو چکا ہے۔ معرکہ بڑا ہے، جان کا خطرہ بھی ہے، شاید وہ میدان سے کبھی واپس نہ آئے۔ لیکن یہ پانچ لاکھ روپے نقد تمہارے ہوں گے۔ بولو، سودا منظور ہے؟”
رحمت خان کی عقل پر غربت کا ایسا تالا پڑا تھا کہ وہ “مرغے” کے استعارے کو سمجھتے ہوئے بھی انجان بن گیا اور صرف پانچ لاکھ کے نوٹوں کی گڈیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کے دماغ میں اپنے باقی سات بچوں کے پیٹ بھرنے اور خوشحالی کی تصویریں ابھریں۔ اس نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا، “منظور ہے حضرت صاحب! بالکل منظور ہے۔” اسے معلوم ہی نہ تھا کہ ناظم بیس لاکھ میں سے پندرہ لاکھ اپنی جیب میں رکھ کر اس کے اپنے بیٹے جمال کی جان کا صرف پانچ لاکھ ہی دے رہا ہے۔
دوسری طرف، جمال کو کئی دنوں سے ایک الگ، اندھیرے کمرے میں رکھا جا رہا تھا، جہاں دیواروں پر خوبصورت باغات کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اس کے کھانے اور قہوے میں روزانہ نشہ آور ادویات ملائی جاتیں، جس سے اس کے ذہن میں ایک دھند سی چھا گئی تھی۔ اب اسے اس دنیا کے دکھوں سے دور ایک جنت نظر آ رہی تھی، اور اس کے استاد اور مدرسے کے دوست بھی وہیں آنے کا وعدہ کر رہے تھے۔ ایک استاد اس پر مقرر کیا گیا تھا جو ہر روز اسے سبق پڑھاتا اور جنت کے سبز باغ دکھاتا رہتا تھا، جس سے اس کے ارادوں کو تقویت ملتی تھی۔
“جمال بیٹے! حاجی شمس اللہ صرف نام کا حاجی ہے، ایسے لوگوں کو کعبہ بھی قبول نہیں کرتا۔ وہ ایک پکا کافر ہے، وہ مقدس دین کے راستے کا پتھر ہے۔ اگر تم نے اسے راستے سے ہٹا دیا، تو سیدھے جنت کے باغوں میں جاؤ گے، جہاں نہ بھوک ہوگی نہ دکھ۔” اس کے کان میں مسلسل یہ زہر بھرا جاتا تھا۔
اس وقت تک حاجی شمس اللہ کی ریکی کی گئی اور اطلاع ملی کہ جمعہ کے دن حاجی شمس اللہ اپنے دفتر میں آتا ہے، اور جب نمازِ جمعہ کا وقت ہوتا ہے تو وہ دفتر بند کر کے نماز پڑھنے نکلتا ہے۔
وہ جمعہ کا تپتا ہوا دن تھا، نمازِ جمعہ سے ایک گھنٹہ قبل۔ جمال کو ایک ڈارک شیشوں والی گاڑی میں لایا گیا۔ اکثر دکانیں بند تھیں، مگر حاجی کا دفتر دور سے کھلا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس کی کمر کے ساتھ بارود سے بھری وزنی جیکٹ بندھی ہوئی تھی اور اس کا ریموٹ استاد کے پاس تھا۔ گاڑی حاجی صاحب کے مرکزی دفتر سے تھوڑی دور رکی۔ استاد نے اس کے ہاتھ میں ریموٹ دیا، جس کی وہ کئی بار ریہرسل بھی کر چکے تھے، پھر اس نے دور سے ایک عمارت کی طرف اشارہ کیا۔ “جاؤ جمال! جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔” اس نے آخری مرتبہ حاجی شمس اللہ کی تصویر دکھاتے ہوئے مزید کہا، “یہ کافر اس وقت وہاں موجود ہے، اس کے قریب جا کر ریموٹ دبانا ہے۔” اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
نشے اور فریب کے زیرِ اثر، جمال کے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ اس کا ذہن بالکل سن تھا۔ وہ بارود کے بوجھ کو اٹھائے، سست قدموں سے چلتا ہوا حاجی شمس اللہ کے پرہجوم دفتر کے اندر داخل ہوا۔ اندر ایئرکنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ کلرک فائلیں دیکھ رہے تھے اور ایک چھوٹا لڑکا چائے کی ٹرے لیے گھوم رہا تھا۔ سامنے ہی حاجی صاحب اپنے مینیجر کو مال کا حساب سمجھا رہے تھے۔ اس نے حاجی صاحب کو دیکھا اور اس کی طرف بڑھنے لگا۔ کسی نے کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ روز ایسے لوگ مدد مانگنے آ جاتے تھے اور حاجی صاحب انہیں کچھ پیسے دے کر فارغ کر دیتے تھے۔
جمال سیدھا اس کی طرف چلا گیا اور قریب پہنچ کر اس نے ایک بار آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب، خالی مسکراہٹ ابھری اور اس نے ریموٹ کا لال بٹن دبا دیا۔
ایک ہولناک، کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا جس نے پوری عمارت کو سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ہر طرف خون، گوشت کے لوتھڑے اور آگ کے شعلے بلند ہو گئے۔ حاجی شمس اللہ، ان کے کلرک، چائے والا معصوم لڑکا اور خود جمال ، سب کے سب راکھ کے ڈھیر میں بدل گئے۔ مدرسے کی گاڑی واپس جا رہی تھی۔ استاد اور ڈرائیور عمارت سے تھوڑی دور پہنچے تھے کہ پیچھے سے زور دار دھماکے کی آواز آئی، اور استاد کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔
اگلے دن اخبار کے فرنٹ پیج پر چار کالمی سرخی تھی:
“کوئٹہ میں تاجر کے دفتر پر خودکش حملہ، حاجی شمس اللہ سمیت دس افراد ہلاک۔ کیس نامعلوم خودکش حملہ آور کے خلاف درج۔”
شہر سے دور، خان کے ڈیرے پر دھوپ تیز ہو چکی تھی۔ رحمت خان اپنی قمیص کی جیب میں کڑکتے ہوئے نوٹوں کو ہاتھ لگا کر دلاسا پا رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ خود بھی اچھے اور اصیل مرغے خرید کر میدان میں اتار سکے گا۔ بیوی بیمار ہے، اور دوسری شادی کے بعد بھی مکان کی مرمت اور اچھی زندگی گزارنے کا سرمایہ اس کے پاس ہے۔ وہ جمال کو یاد کرنے سے بھی کترا رہا تھا، اس لیے وہ بڑی مہارت سے خان کے ایک نئے اصیل مرغے کے پنجے پر لوہے کی زہریلی چھری باندھنے میں مشغول ہو گیا۔ جبکہ اس کا اپنا پالا ہوا مرغا مٹی میں مل کر ہمیشہ کے لیے “نامعلوم” ہو چکا تھا۔
- شرط کا مرغا (افسانہ)۔۔۔ نسیم جاوید - Aug 12, 2026
- بابائے فن و فلسفہ ۔۔۔ نسیم جاوید - Aug 5, 2026
- بے صدا سسکیاں۔۔۔ نسیم جاوید - Jul 17, 2026

Zindabad