
مانوس اجنبی (افسانہ)
تحریر: جاوید نادری
آغا رضا اپنی اسکوٹر کو کک لگانے میں مصروف تھا۔ اس نے کئی مرتبہ کک لگائی، مگر اسکوٹر اسٹارٹ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ جھنجھلا کر ایک بار پھر کک لگانے والا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔
“السلام علیکم!”
آغا رضا نے گردن گھما کر دیکھا۔ ایک مانوس سا اجنبی اس کے پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
“وعلیکم السلام!” رضا نے جواب تو دے دیا، مگر اس کی نظریں اب بھی اس شخص کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔
“یہ کون ہے؟ کہیں دیکھا ہوا لگتا ہے… مگر کہاں؟”
چند لمحے اسی کشمکش میں گزر گئے۔
اس نے ذہن پر زور دیا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ اس شخص سے برسوں پہلے ملا ہے، لیکن کب اور کہاں، یہ یاد نہیں آ رہا تھا۔
تذبذب کے چند لمحوں کے بعد رضا نے کہا:
“معذرت چاہتا ہوں بھائی! ایک تو یہ اسکوٹر اسٹارٹ نہیں ہو رہی، اوپر سے آپ نے اچانک سلام ٹھوک دیا تو میرے ذہن سے آپ کا نام ہی نکل گیا۔”
وہ شخص مسکرایا۔
“میں نادر ہوں۔ غالباً آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ کوئی پندرہ سال پہلے ہم دونوں ایک ہی ٹرین کے ڈبے میں لاہور گئے تھے۔ وہاں ہم نے چند دن ساتھ بھی گزارے تھے۔”
رضا نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔
“لاہور؟”
“جی، لاہور۔”
“اور…؟”
نادر نے مسکراتے ہوئے کہا:
“آپ کو تو یاد ہوگا، ایک دن میری جیب کٹ گئی تھی۔ میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں بچا تھا۔ آپ نے بینک سے تین ہزار روپے نکال کر مجھے دیے تھے۔”
رضا اچانک چونکا۔
“اچھااا! ہاں!”
اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
“نادر! نادر! نادر! اب یاد آیا۔ آپ شریف کے دوست ہیں نا؟”
“جی بالکل!”
“شریف بھی تو ہمارے ساتھ تھا۔”
“جی، وہ بھی ساتھ تھا۔”
رضا کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
“اب بالکل یاد آ گیا۔ ارے نادر بھائی! کیا حال ہے؟ بہت دنوں بعد نظر آئے ہو۔ کہاں غائب تھے اتنے سال؟”
نادر نے جواب دیا:
“بس بھائی، زندگی کسی نہ کسی کام میں الجھا دیتی ہے۔”
اسی دوران اس کی نظر اسکوٹر پر پڑی۔
“اچھا، آپ ذرا ایک طرف ہٹیں۔ میں اسے دیکھتا ہوں۔”
رضا نے حیرت سے پوچھا:
“آپ اسکوٹر کا کام بھی جانتے ہیں؟”
“تھوڑی بہت۔ آپ مجھے موقع دیں، ابھی اسٹارٹ کرکے دکھاتا ہوں۔”
نادر نے اسکوٹر آغا رضا کے ہاتھ سے لے لی اور ڈبل اسٹینڈ پر کھڑی کردیا۔ پھر کچھ دیر تک بغور جائزہ لیتا رہا۔
“میرے خیال میں پلگ شارٹ ہے۔”
“پلگ؟”
“جی۔ مجھے پلگ کھولنے دیں۔ تھوڑی سی صفائی مانگ رہا ہے۔ ان شاء اللہ اسٹارٹ ہو جائے گی۔”
نادر نے پلگ کھولا، اسے صاف کیا اور دوبارہ لگا دیا۔
پھر اس نے کک لگائی۔
اسکوٹر ایک ہی کک میں اسٹارٹ ہوگئی۔
رضا کے چہرے پر اطمینان آ گیا۔
“واہ نادر بھائی! کمال کردیا۔”
نادر مسکرایا۔
“بس بھائی، معمولی سا مسئلہ تھا۔”
رضا نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ اسے پہلے ہی کہیں پہنچنے کی جلدی تھی۔
پھر خاطر داری کا لحاظ کرتے ہوئے بولا:
“چائے پییں گے؟”
“جی ضرور۔”
نادر نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ پاس ہی ایک ہوٹل ہے۔ وہیں بیٹھتے ہیں، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔”
دونوں اسکوٹر پر بیٹھے اور قریب ہی ایک ہوٹل پہنچ گئے۔
وہ بیٹھے ہی تھے کہ آغا رضا نے کہا:
“بھائی، ایک بات بتاؤں؟”
“جی، فرمائیں۔”
“میں دراصل ایک ضروری کام سے جا رہا تھا اور میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اگر ہو سکے تو ایک ایک کپ چائے پی لیتے ہیں، پھر شام کو کہیں بیٹھ کر اطمینان سے بات کر لیں گے۔”
نادر فوراً بولا:
“ارے! معاف کیجیے، میں نے تو یہ پوچھا ہی نہیں کہ آپ کہیں جا رہے تھے یا آپ کا کوئی ضروری کام تھا۔”
“کوئی بات نہیں۔”
“ایسا کرتے ہیں، آپ اپنا کام کریں۔ میں ایک کپ چائے پی لیتا ہوں، پھر شام کو آپ سے کہیں مل لوں گا۔”
رضا کو جیسے موقع ہاتھ آ گیا۔
“ٹھیک ہے۔ شام کو مجھے فون کر لینا۔ یہ میرا کارڈ ہے۔ فی الحال آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔”
نادر نے کارڈ لیتے ہوئے کچھ جھجک کے ساتھ کہا:
“سر، اگر برا نہ لگے تو ایک بات کہوں؟”
“جی، کہیں۔”
“میرے چائے کے پیسے آپ دے دیں گے؟ اس وقت میری جیب میں کچھ بھی نہیں ہے۔”
رضا ایک لمحے کے لیے ٹھٹک کر رہ گیا۔
پھر اس نے چائے کے پیسے ادا کیے اور نادر کو خدا حافظ کہا۔
“اچھا نادر بھائی، شام کو فون کر لینا۔”
“ضرور۔”
رضا اسکوٹر پر بیٹھا، کک لگائی اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔
راستے بھر اس کے ذہن میں ایک ہی بات گھومتی رہی:
“یار، کیا بدبخت آدمی ہے! جب بھی ملا ہے، کچھ نہ کچھ لے کر ہی چھوڑا ہے۔”
پھر اس نے خود ہی اپنے خیال کو ملامت کی۔
“نہیں، لوگوں کی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ شاید واقعی کوئی مجبوری ہوگی۔ خیر، میرا کیا لینا دینا اس سے؟”
کچھ دیر بعد پھر اس کے ذہن میں خیال آیا:
“شام کو فون کرے گا تو؟”
وہ خود ہی بولا:
“اٹھاؤں گا ہی نہیں۔”
پھر اسے خیال آیا:
“لیکن مجھے کیسے پتا چلے گا کہ فون اسی کا ہے؟ میں نے تو اس کا نمبر لیا ہی نہیں۔”
وہ چند لمحے سوچتا رہا۔
“خیر، دیکھی جائے گی۔ شام کو میرے موبائل پر کسی انجانے نمبر سے کال آئے گی تو میں نہیں اٹھاؤں گا۔ ہاں، یہی ٹھیک ہے۔”
وہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا گیا۔
شام کو آغا رضا ہمیشہ کی طرح اپنی دکان پر بیٹھا دن بھر کی کمائی اور اخراجات کا حساب کتاب کر رہا تھا۔
اچانک اس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔
اس نے موبائل کی اسکرین دیکھی۔
کوئی نام نہیں تھا، صرف ایک انجانا نمبر تھا۔
رضا نے فوراً سوچا:
“یہ نادر ہی ہوگا۔”
اس نے کال کاٹ دی۔
کچھ دیر بعد دوبارہ فون آیا۔
رضا نے پھر فون نہیں اٹھایا۔
تیسری بار کال آئی۔
اس نے موبائل کو دیکھا، مگر خاموش بیٹھا رہا۔
چوتھی مرتبہ فون آیا تو اس نے پھر بھی کال نہیں اٹھائی۔
آدھے گھنٹے بعد اس کی دکان کا دروازہ کھلا اور حاجی رفیق غصے میں اندر داخل ہوئے۔
“کیا بات ہے آغا؟”
رضا نے چونک کر دیکھا۔
“حاجی صاحب! خیریت؟”
حاجی رفیق نے غصے سے کہا:
“خیریت پوچھ رہے ہو؟ آج کل کچھ زیادہ ہی کمانے لگے ہو کیا؟ ہمارا فون بھی اٹھانا چھوڑ دیا!”
رضا نے حیرت سے کہا:
“حاجی صاحب، آپ کا تو کوئی فون ہی نہیں آیا مجھے!”
“کیا کہہ رہے ہو؟”
“جی، واقعی۔”
حاجی رفیق نے اپنا موبائل نکالا۔
“ابھی آدھا گھنٹہ پہلے تمہیں تین چار کالیں کی ہیں!”
رضا نے کہا:
“نہیں حاجی صاحب، مجھے تو ایک انجانے نمبر سے کالیں آئی تھیں۔”
حاجی رفیق غصے سے بولے:
“وہی میرا نمبر تھا!”
کل رات کسی نے گن پوائنٹ پر میرا موبائل چھین لیا تھا اور
آج ہی نیا موبائل اور نئی سم لی ہے
رضا خاموش ہوگیا۔
“میرا ایک دوست ہے، وہ تم سے کچھ سامان خریدنا چاہ رہا تھا۔ میں تمہیں مسلسل فون کر رہا تھا، کیونکہ اسے سامان خریدنے کی جلدی تھی۔”
رضا کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
حاجی رفیق بولتے گئے:
“تم نے فون نہیں اٹھایا۔ وہ لاکھوں کی ڈیل تھی!”
رضا کچھ کہنے ہی والا تھا کہ حاجی رفیق نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“اب رہنے دو۔ تم اتنے مغرور ہوگئے ہو کہ ہمارا فون تک نہیں اٹھاتے، تو پھر مجھے بھی آئندہ تمہارے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔”
یہ کہہ کر حاجی رفیق واپس مڑ گئے۔
رضا اپنی جگہ ساکت بیٹھا رہا۔
کچھ دیر بعد اس نے موبائل اٹھایا اور اس انجان نمبر کو دیکھا۔
اسکرین پر کئی مس کالیں اب بھی موجود تھیں۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“چھوٹی سی رقم بچانے کے چکر میں… لاکھوں کی ڈیل گنوا دی۔”
وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر افسوس سے سر جھکا لیا۔
“لعنت ہے مجھ پر… اور میری سوچ پر۔ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں دہراؤں گا۔”
اس نے موبائل اٹھایا۔
اسکرین پر سورج کے ڈوبنے کا منظر وال پیپر کی صورت پھیلا ہوا تھا۔ آسمان پر روشنی کی آخری لکیر بھی مدھم پڑ رہی تھی۔
وہ ابھی اس منظر کو دیکھ ہی رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔
ایک انجانا نمبر اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔
رضا نے چند لمحے اسے دیکھا۔
پھر نہ کوئی تردد کیا، نہ کوئی اندازہ لگایا، نہ یہ سوچا کہ فون کس کا ہوگا۔
اس نے فوراً کال اٹھا لی۔
“ہیلو!”
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ایک مانوس سی آواز سنائی دی:
“ہیلو آغا جی… میں نادر بات کر رہا ہوں۔”
رضا خاموش ہوگیا۔
اس کی نگاہیں اب کھڑکی کے باہر ڈوبتے ہوئے سورج پر جمی تھیں۔
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(سولہویں قسط) ۔۔۔ جاوید نادری - Oct 9, 2026
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (پندرہویں قسط) ۔۔۔ جاوید نادری - Sep 14, 2026
- مانوس اجنبی (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری - Sep 10, 2026