“ہزارہ جات کا تاریخی سمجھوتہ اور مکافات عمل”۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار“ہزارہ جات کا تاریخی سمجھوتہ اور مکافات عمل” 

(دسویں قسط)     

تحریر: جاوید نادری

ہزارہ جات کے مختلف خطوں میں ہزارہ قوم کی بے مثال قربانیوں اور طویل گوریلا جنگ نے امیر کو یہ باور کرا دیا تھا کہ وہ اس قوم کو کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ برطانوی ہند کے خفیہ ریکارڈز اور افغان مورخین کے مطابق، اس جنگ نے امیر کے شاہی خزانے کو تقریباً خالی کر دیا تھا اور کابل کی باقاعدہ فوج کے ہزاروں تربیت یافتہ سپاہی اس سرد اور ناموافق ماحول میں ہلاک ہو چکے تھے۔
نامور مورخ میر غلام محمد غبار اس دور کی معاشی اور فوجی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں:
“ہزارہ جات کی طویل جنگ نے کابل کی حکومت کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ امیر کا شاہی خزانہ، جو برطانوی امداد اور بھاری ٹیکسوں سے بھرا رہتا تھا، اس مہم کی نذر ہو چکا تھا اور کابل کی باقاعدہ فوج کے نامور دستے ان ناقابلِ تسخیر پہاڑوں میں اپنی طاقت کھو چکے تھے۔”(افغانستان در مسیر تاریخ)
1893ء کے وسط تک امیر عبدالرحمن کی فوجیں تھک چکی تھیں اور شاہی خزانہ خالی ہو رہا تھا۔ دوسری طرف، ہزارہ جات کے مزاحمتی رہنما پہاڑوں سے نیچے اترنے کو تیار نہیں تھے۔ امیر نے اپنی اسٹریٹجی بدلی اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کا سہارا لیا۔ یہ امیر کی اس نظریاتی اور مذہبی مہم جوئی کی بھی ناکامی تھی جس کے تحت اس نے ہزارہ قوم کے خلاف نفرت انگیز فتوے جاری کر کے کابل کی فوج کو اکٹھا کیا تھا، مگر ہزارہ استقامت نے اس کا اثر زائل کر دیا۔ اس نے ہزارہ قبیلوں کے قید سرداروں اور جلاوطن رہنماؤں کو کابل آنے کی باقاعدہ امان (محفوظ راہداری) دی تاکہ ایک معاہدے کے ذریعے اس خونریزی کو روکا جا سکے۔
اس معاہدے میں کابل حکومت کی طرف سے امیر عبدالرحمن خان اور اس کے اہم فوجی جرنیل (جیسے جنرل غلام حیدر خان چرخہی، جو ہزارہ جات کی مہم کا سربراہ تھا) شامل تھے جبکہ ہزارہ قوم کی جانب سے ہزارہ جات کے مختلف اضلاع (ارزگان, جاغوری، بہسود، دایکنڈی اور کجران) کے مقتدر سردار، ریش سفیدان (بزرگ) اور مذہبی رہنما شامل تھے۔ ان مقتدر شخصیات میں ارزگان کے سردار محمد عظیم خان بیگ، جاغوری کے محمد تقی خان، اور دایکنڈی و کجران کے معزز خوانین و سادات شامل تھے جنہیں امیر نے پہلے باغی قرار دے کر قید کیا تھا، مگر اب وہ ان سے برابری کی سطح پر بات کرنے پر مجبور تھا۔
درباری وقائع نگار ملا فیض محمد کاتب ہزارہ اس تاریخی موڑ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
“امیر نے ہزارہ سرداروں کی استقامت کو دیکھتے ہوئے طاقت کا راستہ بدلا اور کابل بلا کر انہیں امان نامے دیے۔ اس صلح نامے پر کابل کے عہدیداروں اور ہزارہ قوم کے مقتدر ریش سفیدوں نے کلام اللہ کو گواہ بنا کر دستخط کیے تاکہ اس طویل خونریزی کا خاتمہ ہو سکے۔”(سراج التواریخ، جلد سوم)
اس سمجھوتے کے تحت جو شرائط طے پائیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
عام معافی (فرمانِ امان): امیر کی طرف سے تمام ہزارہ جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا جو ہتھیار ڈال کر پرامن زندگی گزارنے پر راضی ہوں۔
زمینوں اور جائیدادوں کی واپسی: جنگ کے دوران ضبط کی گئی ہزارہ جات کی زمینیں، چراہ گاہیں اور قلعے ان کے اصل ہزارہ مالکان کو واپس کرنے کا وعدہ کیا گیا (اگرچہ بعد میں کابل نے اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا اور کئی زمینیں افغان قبائل کے پاس ہی رہیں۔ ہزارہ سرداروں کی شکایات پر امیر نے ٹال مٹول کی، جس سے یہ شرط جزوی طور پر بے اثر رہی)۔
اسیری اور غلامی کا خاتمہ: معاہدے کے تحت ہزارہ خواتین اور بچوں کو منڈیوں میں بیچنے اور انہیں غلام بنانے پر پابندی لگائی گئی اور کابل کی قید میں موجود کئی مستورات اور سرداروں کو رہا کیا گیا۔
مرکزی بالادستی اور ٹیکسیشن: ہزارہ رہنماؤں نے کابل کی مرکزیت (سوزیرینٹی) کو تسلیم کیا اور یہ طے پایا کہ وہ کابل کو سالانہ مالیہ (ٹیکس) ادا کریں گے، لیکن ان کے داخلی معاملات اور روایتی نظام میں کابل براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔
مقامی انتظامیہ: کئی علاقوں میں ہزارہ سرداروں کو ہی دوبارہ وہاں کا انتظامی سربراہ مقرر کیا گیا تاکہ امن قائم رہے۔
اس معاہدے کا کوئی بیرونی یا بین الاقوامی ضامن (جیسے برطانیہ یا روس) نہیں تھا، بلکہ اس کی ضمانت داخلی اور روایتی طریقے یعنی قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر پاسداری کا حلف اٹھایا گیا۔ مسلم معاشرے میں اسے سب سے بڑی اخلاقی اور مذہبی ضمانت مانا جاتا ہے۔
ایک اہم تاریخی نوٹ: بعض مورخین (مثلاً فیض محمد کاتب کے دوسرے حصوں میں) اس معاہدے کو امیر کی تزویراتی چال بھی قرار دیتے ہیں، جس کے بعد اس نے ہزارہ سرداروں کو قتل کرانے کی کوشش کی لیکن ہزارہ قبائل کے اجتماعی ردِ عمل اور اندرونی بغاوت کے خوف کی وجہ سے ناکام رہا۔ اس اعتبار سے یہ معاہدہ امیر کی مجبوری تھی، خیر سگالی نہیں۔

یہ معاہدہ امیر عبدالرحمن کی اس ہٹ دھرمی کی شکست کا اعتراف تھا کہ وہ ہزارہ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ اگرچہ بعد کے سالوں میں امیر نے اس معاہدے کی کئی شقوں کی خلاف ورزی کی اور ہزارہ قوم پر بالواسطہ مظالم جاری رکھے، لیکن ہزارہ جات کی مٹی اور ہزارہ قبائل کی استقامت نے امیر کو یہ سکھا دیا تھا کہ وہ اس قوم کی غیرت، وقار اور وجود کا مستقل سودا نہیں کر سکتا۔
مورخین (مثلاً میر غلام محمد غبار) اس موڑ کو امیر عبدالرحمن کی سخت گیر “آہنی پالیسی” کی جزوی ناکامی اور ہزارہ قوم کی طویل مزاحمت کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ اس سمجھوتے نے ثابت کر دیا کہ سلطنتیں اور جابر حکمران زمین پر عارضی قبضہ تو کر سکتے ہیں، لیکن جو قومیں اپنی بقا اور عزت کے لیے ‘چہل دختران’ جیسی قربانیاں دینے سے نہیں کتراتیں، انہیں مستقل طور پر زنجیروں میں جکڑ کر رکھنا کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

امیر عبدالرحمن نے جس جسمانی طاقت اور سفاکی کے بل بوتے پر لاکھوں انسانوں پر ظلم ڈھایا، زندگی کے آخری سالوں میں قدرت نے ان سے وہ طاقت بالکل چھین لی۔ وہ نقرس (گنٹھیا) اور شدید فالج کا شکار ہو گیا۔ زندگی کے آخری حصے میں وہ بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ (تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس نے اپنے مظالم پر ندامت محسوس کی ہو۔)

امیر کی اس آخری جسمانی بے بسی اور دربار کے اندرونی احوال کی گواہی برطانوی ہند کے تاریخی ریکارڈز میں یوں ملتی ہے:
“وہ امیر جو کبھی اپنی قلم کی ایک جنبش سے انسانوں کے نصیب بدلتا تھا، اب اپنے ہی بستر پر قیدی تھا۔ اس کا دایاں حصہ مکمل مفلوج تھا اور وہ شدید جسمانی درد کے باعث راتوں کو سو نہیں پاتا تھا۔ اس کی عبرت ناک حالت دیکھ کر دربار کے ملازمین بھی خوفزدہ رہتے تھے۔”
(سوانح عمری امیر عبدالرحمن خان، انگریزی ترجمہ کا اقتباس)

جو امیر ایک اشارے پر انسانوں کی گردنیں اڑا دیتا تھا، وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک ایک نوالے اور حرکت کے لیے اپنے ملازمین کا محتاج ہو چکا تھا۔ اس کی موت شدید جسمانی تکلیف اور ذہنی اذیت کے سائے میں ہوئی۔
کسی بھی انسان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ اس کے جانے کے بعد تاریخ اسے کس نام سے یاد کرتی ہے۔ امیر عبدالرحمن نے تاریخ کے سینے پر ترقی یا علم کے نقوش نہیں چھوڑے، بلکہ خون، کھوپڑیوں کے مینار اور اجڑے ہوئے خاندانوں کا سوگ چھوڑا۔

سراج التواریخ اور دیگر افغان مآخذ کے مطابق، جب ان کا انتقال ہوا تو عوام میں کوئی ملال نہیں تھا، بلکہ ایک پوشیدہ اطمینان تھا۔ اس وقت کے عوامی اور سماجی ماحول کا تذکرہ تاریخ میں ان الفاظ میں ملتا ہے:
“جب کابل کے گلی کوچوں میں امیر کی موت کی خبر پہنچی، تو شہر پر ایک عجیب سکتہ طاری تھا۔ کوئی آنکھ اشکبار نہیں تھی اور نہ ہی کسی گھر سے ماتم کی آواز آئی۔ لوگ خوف کے اس سائے سے نجات پر دبی زبان میں ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔”
(افغان تاریخی مآخذ سے مأخوذ)

وہ طاقت کے جس نشے میں چور تھا، وہ مٹی میں مل گیا اور ارزگان کے پہاڑی سلسلوں سے ابھرنے والی ‘چہل دختران’ جیسی نہتی لڑکیوں کی پاکیزہ داستانیں آج بھی ان کے محلوں کی راکھ پر بھاری ہیں۔ تاریخ کا یہ اصول ہے کہ جابر اپنے ہی بنائے ہوئے خوف کے پنجرے میں مرتا ہے، جبکہ مزاحمت اور قربانی ایک ابدی روشنی بن کر نسلوں کا راستہ روشن کرتی ہے۔

ہزارہ قوم کی مزاحمت صرف زمین بچانے کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اپنے سماجی اور انسانی وقار کو برقرار رکھنے کی جنگ تھی۔ جب امیر نے ان کی چراہ گاہیں چھین لیں اور انہیں معاشی طور پر محصور کیا، تو ہزارہ قبائل نے بھوک اور سختی کو تو برداشت کر لیا، لیکن کابل کی مطلق العنانی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ یہی وہ “وقار” تھا جس نے امیر کو برابری کی سطح پر معاہدہ کرنے پر مجبور کیا۔

مآخذ و حوالہ جات (Bibliography)

· کاتب، ملا فیض محمد ہزارہ۔ سراج التواریخ (جلد سوم، قسمت اول)۔ کابل: مطبع دارالسلطنت، 1915ء، صفحات: 954–958۔
· غبار، میر غلام محمد۔ افغانستان در مسیر تاریخ (جلد اول)۔ کابل: مرکز نشراتی میوند، 1967ء، صفحات: 663–665۔
· سلطان محمد خان (ایڈیٹر)۔ The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan (جلد دوم)۔ لندن: جان مرے، 1900ء، صفحات: 220–224۔
· فرهنگ، میر محمد صدیق۔ افغانستان در پنج قرن اخیر (جلد اول)۔ تہران: انتشارات عرفان، 1988ء، صفحات: 412–415۔
· برطانوی ہند کے خفیہ ریکارڈز (نیشنل آرکائیوز آف انڈیا)۔ Foreign and Political Department Records (Secret-F)، خط نمبر 142، 1893ء، صفحات: 18–22۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment